جنسی فاقہ کشوں کا ملک

مینار پاکستان کے سائے میں 14 اگست بیس اکیس کو منایا گیا آزادی کا جشن تاریخ یاد رکھے گی۔ ایسا جشن منایا گیا کہ مہذب معاشروں کے سر جھک گئے، ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے صدیوں سے قید آدم خوروں کا گروہ آزاد کر دیا گیا ہو، وہ گروہ جو ایک ”الہڑ مٹیار“ کو دیکھ کر ٹوٹ پڑا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں بال آئے تو کسی کے ہاتھ میں بازو، کسی کے ہاتھ میں گردن تو کسی کے ہاتھ میں ٹانگ آئی، کوئی سینے پر ہاتھ مار رہا تھا تو کوئی کمر سے چمٹا ہوا تھا، تین دن کی خاموشی کے بعد ویڈیو سامنے آئی تو الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا پر ایسا طوفان مچا کہ لوگ یوم عاشور، افغانستان میں طالبان کے قبضے کو پس پشت ڈال کر ”ٹک ٹاکر“ پر بحث کرنے لگے۔

یہ کسی خاتون سے بدتمیزی، جنسی ہراسانی کا پہلا واقعہ نہیں تھا، پاکستان میں ایک عرصہ سے، تواتر سے ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، روز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو رہا ہے، اسلام آباد میں سابق افغان سفیر کی بیٹی سے تشدد اور اغوا کی خبریں ابھی تازہ تھیں کہ ایک سابق سفیر کی بیٹی کو ایک بزنس مین کے بیٹے نے گھر میں جنسی زیادتی کے بعد کاٹ کر پھینک دیا، لاہور میں رکشہ ڈرائیور چار لڑکیوں کو اغوا کر کے ساہیوال لے گئے جنہیں انسانی سمگلروں کے ہاتھوں فروخت کیا جانا تھا، پھر پتا چلا کے میلسی سے آئی ماں بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، ابھی یہ کیس عدالت میں نہیں گیا تھا کہ مظفر گڑھ کی ایک حاملہ بیٹی کو سر عام بے لباس کر کے تشدد کیا گیا۔ ایسے درجنوں، سینکڑوں واقعات ہیں جو پولیس کے رویے اور مخالفین کے ڈر سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ صرف کراچی میں روزانہ 100 خواتین سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت یومیہ 11 خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2015 سے اب تک مجموعی طور پر جنسی زیادتی کے 22 ہزار 37 مقدمات درج ہوئے جن میں سے چار ہزار 60 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اب تک 77 مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور صرف 18 فیصد کیسز پراسیکیوشن کی سطح تک پہنچے ہیں۔ یہ اعداد و شمار دسمبر 2020 تک ہیں اب ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔

دینی اور عصری تعلیم کے اداروں میں بھی ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں، دینی مدرسوں میں کہیں زیادہ ہیں، چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جنسی تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، حال ہی میں لاہور میں جے یو آئی کے رہنما، فیصل آباد کے ایک مولوی کی ویڈیو سامنے آئی جو ایک کم سن لڑکی سے نازیبا حرکات کرتا پایا گیا، پنڈی کے ایک مفتی پر بھی اپنی سٹوڈنٹس سے زیادتی کا الزام ہے۔ پنجاب کے شہر چنیوٹ کی بھی ویڈیو سامنے آئی جہاں ایک شیعہ عالم ملوث پایا گیا۔ فیصل آباد کے بچے کی ویڈیو وائرل جس میں اس کا کہنا ہے امام بارگاہ کا متولی اور اس کے ساتھی مجھ سے مسلسل زیادتی کرتے رہے اب جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ایسے واقعات کی وجوہات کیا ہیں؟ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ جنسی زیادتی، اور ہراسانی کے واقعات میں اس لئے اضافہ ہوا ہے کہ موبائل فون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون آ گیا ہے، یہ بھی کہتے ہیں تربیت کی ضرورت ہے لیکن مثال کون قائم کرے؟ جنہوں نے مثال قائم کرنی تھی انہی کے جلسوں میں خواتین کو ہراساں کیا جاتا رہا، ان جلسوں میں میڈیا کی رپورٹرز تک بدسلوکی کی گئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کی سب بڑی وجہ جہالت ہے، ناخواندگی ہے، اب تک جتنے بھی واقعات پیش آئے ان میں زیادہ تر ایسے افراد ملوث پائے گئے جو کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ تھے۔ دوسری وجہ معاشی کمزوری ہے، معاشی لحاظ سے کمزور لوگوں کو اپنی فرسٹریشن دور کرنے کے لئے کوئی موقع نہیں ملتا تو پھر آسان ہدف ڈھونڈتے ہیں۔ معاشرتی بے راہ روی، شادیوں میں تاخیر بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ غیرت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، اس کا تعلق جنوبی ایشیائی خطے کے کلچر سے ہے، اس خطے کا فرد کا جس مذہب یا فرقے سے تعلق بھی ہوگا وہ اس معاملے میں غیرت ضرور کھائے گا، پاکستان میں ہندو، مسیحی اور سکھ خاندانوں میں بھی غیرت کے نام پر قتل ہوئے ہیں۔

ایسے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ جنسی ہراسانی اور زیادتی کی روک تھام کے لئے پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، کمیٹیاں بنیں، وزیر اعظم نے ملزم کو آختہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی میں مجرموں کو سر عام پھانسی پر لٹکانے کا بل پیش کرنے کی کوشش کی، اس پر سول سوسائٹی اور پارلیمنٹ کی دیگر جماعتوں کی طرف سے مخالفت سامنے آنے پر پیش نہ کیا جا سکا۔ یہی محسوس ہوتا ہے کہ انگنت واقعات ہونے کے باوجود قانون ساز سنجیدہ نہیں ہیں۔ اگر سزا سخت ہو جائے اور مجرم نشان عبرت بن جائیں تو ایسے واقعات فوری طور پر رک سکتے ہیں، تربیت پر وقت لگے گا لیکن سخت سزا سے ایک ڈیٹرنس پیدا کی جا سکتی ہے، یہ ڈیٹرنس حکومت اور ریاست ہی پیدا کر سکتی ہے۔

یہاں عورت کو مار ڈالنا بہت آسان کام مگر قاتل کو پکڑنا ناممکنات میں شمار ہوتا ہے، پاکستان کی پہچان ایک الگ طرح کے ملک کے طور پر بنتی جا رہی ہے، گوگل پر فحش ویڈیوز سرچ کرنے والوں میں پاکستانیوں کا پہلا نمبر ہے، اس پر بھارتی بھی حسد محسوس کرتے ہیں کہ ہماری تعداد زیادہ ہے لیکن پاکستانی آگے کیوں ہیں؟ پاکستانی ایسا ایسا مواد دیکھتے ہیں جو مغرب میں بھی نہیں دیکھا جاتا، اسلامی جمہوریہ پاکستان جنسی فاقہ کشوں کا ملک بنتا جا رہا ہے جو صاحب اختیار، صاحب اقتدار پوری پاکستانی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words