مینار پاکستان کا شرمناک واقعہ


مینار پاکستان واقعہ اور سماج کا ردعمل مینار پاکستان پر چودہ اگست کو ہونے والا واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک عورت کی جس طرح ایک ہجوم نے بے حرمتی کی گئی سر عام اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ مگر اس موقع پر بھی اس واقعہ کی سنگینی کو سمجھنے کی بجائے بعض حضرات نے خاتون کے اپنے کردار اور اس کے مینار پاکستان میں آ کر ٹک ٹاک بنانے پر تنقید شروع کر دی۔

اس کا طریقہ کار بجا طور پر زیر بحث لایا جا سکتا تھا مگر اس سے پہلے ساری قوم کو یکجا ہو کر ہجوم میں شامل ان نوجوانوں کی اس وحشیانہ حرکت کی مذمت اور ان کو سخت ترین سزا کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ جب تک اس ذہنیت کے مالک نوجوانوں کو سزا کا خوف نہیں ہو گا وہ اکیلی عورتوں کو اسی طرح تنگ کرتے رہیں گے۔ یقینی سزا کا خوف ہی ایک کارگر ہتھیار ہو سکتا ہے جس سے ہم اس طرح کے واقعات پر قابو پا سکتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ پے درپے بہت سے گھناؤنے واقعات پیش آ رہے ہیں یہ رویے ہمارے معاشرے کی تربیت کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔

ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارا معاشرہ پدرسری معاشرہ ہے جس میں پیدائش کے ساتھ ہی گھر اور خاندان کے اندر سے ہی صنف نازک کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ بچے بڑے ہو کر اسی ذہنیت کے ساتھ اپنا ردعمل دیتے ہیں عورت کو کمزور سمجھ کر اس کے ساتھ ہراسمنٹ کرنا ایک معمول کا فعل سمجھا جاتا ہے خواتین اپنے ساتھ ہونے والے ان واقعات کو اپنے خاندان کے ساتھ شیئر بھی کریں تو خاندان کی بدنامی کے ڈر سے ان کو چپ کرا دیا جاتا ہے باہر نہ جانے اور پردہ کر کے باہر نکلنے پر اصرار کیا جاتا ہے یعنی مرد کی زیادتی کی سزا بھی عورتیں بھگتتی ہیں ایک سروے کے مطابق چادر اور عبایہ والی خواتین کو بھی اسی طرح جنسی استحصال کا سامنا ہوتا ہے۔

اب خواتین کا گھر سے نکلنا محال ہو چکا ہے۔ اس لئے کئی خواتین نوکری کرنے یا گھر کا سودا سلف لانے کی بجائے گھر بیٹھ جاتی ہیں خواتین کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات کو جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے اور مجرم اکثر سزا سے بچ جاتے ہیں پولیس کا رویہ بھی قابل اعتراض ہے اور عدالتیں بھی اس سلسلے میں فعال کردار ادا نہیں کر رہی ہیں۔ ہمارے پاس قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ۔ مثلاً پی پی سی میں موجود دفعات دو سو چورانوے کو پولیس ایسے جوڑوں کو پھنسانے کے لئے استعمال کرتی ہے جو اپنی مرضی سے ایک ساتھ کسی پبلک جگہ پر بیٹھے ہوتے ہیں اس سے پولیس کو فائدہ پہنچنے کی امید ہوتی ہے مگر اس دفعہ کو لڑکیوں کو سر عام جنسی اشارے کرنے والوں سکولوں اور کالجوں کے باہر کھڑے ہو کر آوازیں کسنے والوں کے خلاف شاز و نادر استعمال کیا جاتا ہے۔

کیونکہ ان چیزوں کو جرم گردانا ہی نہیں جاتا اور ہمارے معاشرے کے لئے اور دوسرے اداروں کے لئے یہ قابل قبول بن چکا ہے۔ اس طرح کے رویوں کو جب نظرانداز کیا جاتا ہے تو ایک دن اس کا نتیجہ مینار پاکستان والی سنگین واردات کی شکل میں نکلتا ہے اور پھر ہم اس واقعہ کو اپنے ملک اور معاشرے کی بدنامی کی سازش قرار دیتے ہیں اور اس واقعہ کی شکار ہونے والی victim کو مورد الزام ٹھہرانے لگ جاتے ہیں لیکن کیا اس سے ہمارا معاشرہ اور ہمارے ادارے بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔

خواتین کے ساتھ ہمارے معاشرے کا اجتماعی رویہ ہی اس واقعہ کا ذمہ دار ہے اور اگر ایسے واقعات کا تدارک کرنا ہے تو ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ اس طرح کا جب کوئی سنگین واقعہ ہوتا ہے تو جو بحث چھڑتی ہے تو اس کا مقصد کوئی سنجیدہ درستگی کا نہیں ہوتا بلکہ اس رویہ سے ہی انکار کر دیا جاتا ہے جب سارا الزام وکٹم اور اس کو انصاف دلانے کے لئے کوشاں لوگوں پر ڈال دیا جاتا ہے اس موقع پر کچھ لوگ اعداد و شمار لے آتے ہیں کہ ہمارے سے زیادہ یہ واقعات مغرب کے ملکوں میں ہوتے ہیں حالانکہ ہمارے ہاں تو ایسے واقعات رپورٹ ہی کم ہوتے ہیں۔

خواتین اپنے لئے انصاف مانگنے کی بجائے چپ سادھنے پر ترجیح دیتی ہیں۔ خواتین سے تفتیش کے لئے سپیشل تھانے بھی بنائے گئے ہیں اس طرح وومن ڈیسک کی بھی تجویز تھی مگر اب بھی کئی خواتین اور بچوں کی شکایات آتی ہیں کہ ان کو پولیس کے مرد اہلکاروں کی طرف سے تفتیش میں نامناسب سوالات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ہے اس طرح کچھ خواتین پر دکانوں میں چوری یا دیگر الزامات لگا کر مرد پولیس اہلکار اپنی حراست میں رکھ کر ان کا جنسی استحصال کرتے پائے گئے ہیں۔

پچھلے چند سالوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی نئے قوانین وجود میں آئے ہیں مگر پولیس کے تفتیشی افسران کو ابھی تک ان کے بارے میں آگاہی ہی نہیں ہے۔ اب تو سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوتا ہے تب ہی پولیس حرکت میں آتی ہے۔ یا ملک کے وزیراعظم کو خود نوٹس لینا پڑتا ہے تب جاکر ملزمان پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔ حیرت ہے پبلک مقامات پر بازاروں میں اور سڑکوں پر خواتین کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے مگر ہماری عوام کوئی ردعمل نہیں دکھا رہی کہ کسی لفنگے کو اس قسم کی جرات نہ ہو بلکہ اس واقعے کے بعد تو خواتین میں یہ خوف سرایت کر جائے گا کہ ان کو اگر کوئی لچا لفنگا تنگ کرے گا تو آس پاس کے لوگ لاتعلق رہنے یا اس کو بچانے کی بجائے اس قبیح فعل میں اس کا ساتھ دینا شروع کر دیں گے۔ اس حوالے سے ہمیں ان واقعات کے تدارک کے لئے خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنا نا ہوگا۔ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا اور خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جسمانی استحصال کے چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر بھی سخت ایکشن لینا ہوگا۔

Facebook Comments HS