ہم ہوائی اڈے نہیں، اسلام آباد دیں گے

خان صاحب کے ”Absolutely Not“ کے بعد میرا دماغ خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا تھا۔ کہ اس بار وطن عزیز کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ ہونے جا رہا ہے۔ اور میں مسلسل خود کو تسلیاں دیتا رہا کہ یہ تمہارا بس ایک خوف ہے اور کچھ نہیں۔ مگر دماغ کہتا تھا نہیں بھئی ! اس تبدیلی والے ”Absolutely Not“ میں کوئی آنے والی آفت پنہاں ہے۔ دل کہتا تھا نہیں یار! تو ایسے ہی خان صاحب کی یو ٹرن پالیسی کے پیچھے پڑ کر ان کے ہر بیان سے غریب ہم وطنوں کے لیے کوئی سزا تراشتا رہتا ہے۔ اب کی بار ”Absolutely Not“ کا مطلب نہ صرف ڈکشنری کے مطابق ”قطعاً نہیں“ ہے۔ بلکہ خان صاحب کے ہاں بھی پورے ”جاہ و جلال“ کے ساتھ یہی مطلب ہے۔ خیر مزید دل کو تسلی تب ہوئی جب ملک کے تمام بڑے چینلز اور چوٹی کے تجزیہ نگار بتانے لگے کہ اتنا دلیر حکمران پہلے نہیں دیکھا۔

بہرحال میرا دماغ جو قوم یوتھ کے سوشل میڈیا پر ”Absolutely Not“ بارے ہر طرح کے دلائل کو رد کر چکا تھا۔ تھوڑا تھوڑا قائل ہونے ہی لگا تھا کہ خان صاحب کے کسی ماتحت کے امریکی حکام سے گلے شکوے سامنے آ گئے کہ میاں، جو بائیڈن کال ہی نہیں کرتے ہمارے خان صاحب کو۔ یہ سنتے ساتھ ہی یک مشت میرا تراہ اور ہاسا نکل گیا۔ اور احتیاطاً کچھ قوم یوتھ کے دوستوں سے پوچھا کہ آپ اور خان صاحب کو ”Absolutely Not“ کا مطلب تو پتا؟ سب نے با آواز بلند کہا جی جی پتا ہے۔ ”قطعاً نہیں“ ۔ بس پھر میرا ہاسا رک گیا اور دل کو میں اتنا کہہ سکا۔ اک واری فیر مروا سٹیا۔ اس کے بعد دل نے ہلکا سا Tachycardia (ایک مرض جس میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ) لیا۔ اور حسب معمول صدمہ سہ گیا۔

اس کے بعد افغانستان میں طالبان کی فتوحات بارے اطلاعات آتی رہیں۔ مگر میں نے دل و دماغ پر زیادہ زور نہیں دیا۔ اس خیال سے کہ پرائی جنگ سے ہمیں کیا لینا؟ اور میں دل کو بہلانے کی خاطر یوم آزادی منانے میں مصروف ہو گیا۔ پاں پاں سے محظوظ بھی ہوا اور خود بھی حصہ ڈالا بلکہ یہاں تک کے باجے والا وائس نوٹ بھی بیشتر دوست و احباب کو واٹس ایپ کیے۔ اس دوران میں پتا چلا کابل پر طالبان نے قبضہ کر لیا۔ مجھ سمیت سارے سادہ لوح خوشی کے شادیانے بجانے لگ پڑے۔ پھر جب سابق افغان صدر اشرف غنی کو ماسک پہنے جہاز میں سوار ہوتے دیکھا۔ تو سمجھ آئی۔ ساری کھیڈ امریکا دی۔

بس پھر دل و دماغ ایک ساتھ چیخ اٹھے۔ کہ ”Absolutely Not“ سکرپٹ کا حصہ تھا۔ اس کے فوراً بعد میں نے کال نہ کرنے والے گلے پر ازسرنو غور و فکر شروع کیا۔ اور اپنے جانو مانو والے سارے افیئرز کو سامنے رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا۔ کہ اب بس ”تباہی“ ہے۔ مزید تصدیق کے لیے عاشق مزاج دوستوں سے بھی پوچھا۔ جب جانو مانو والے پیار میں ایک بندہ منتوں ترلوں پر آ جائے۔ تو پھر منتیں کرنے والے کا کیا حال ہوتا ہے؟ بیشتر نے کہا۔ غریب تباہ دے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا ایپس اور ہر ٹی وی چینل دیکھا۔ اپوزیشن کیا پی ڈی ایم تک خاموش دکھائی دی۔ کیونکہ سکرپٹ جب مل جائے تو یہ سارے منجھے ہوئے اداکار ایک ڈائیلاگ تک ادھر ادھر نہیں کرتے۔ اور ان کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مزید تصدیق کے لیے ”Absolutely Not“ کے چرچے والے دنوں میں سب جماعتوں کی طرف سے داغے جانے والے ٹویٹس کی جانچ پڑتال کی۔ تو وہاں بھی اشتعال انگیزی دیکھنے کو نہ ملی۔ پس یقین ہوا سب سکرپٹ کے تحت ہو رہا ہے۔

خیر سب چھوڑیں۔ اس کے بعد میں باقی تمام عام پاکستانیوں کی طرح تین سالہ کارکردگی رپورٹ دیکھنے بیٹھ گیا۔ اور پھر سے خود کو سمجھانے لگا کہ خان صاحب پرائی جنگ میں نہیں کودنے والے ان کی تو ساری توجہ عوام کو تین سالہ کارکردگی ”سمجھانے“ کی طرف ہے۔ یہ الگ بات کہ کارکردگی رپورٹ بارے تقریب، ورلڈ کپ 1992 والی جھلکیوں کے بعد نہ دیکھ سکا۔ مگر دوسرے دن جو تین سالہ کارکردگی بارے دیکھا، سنا تو دل کو حوصلہ ملا کہ کم ازکم میری سکول رپورٹ، خان صاحب کی کارکردگی رپورٹ سے بہتر ہوتی تھی۔

اور پھر اچانک سے خبریں چلیں کہ امریکہ اپنے لوگوں کو عارضی طور پر پاکستان میں ٹھہرائے گا۔ اور پاکستانی حکومت نے بہترین معاونت کی یقین دھانی کر دی ہے۔ بس پھر تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کیونکہ ‏ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ وقتی مفاد کی خاطر پرائی جنگوں میں کود کر ابدی نقصان اٹھایا ہے۔

خود کو بہت سمجھایا کہ بذریعہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین ( UNHCR) کروڑوں ڈالر ملیں گے (یہ سوچتے ڈر بھی لگا کہ پھر کوئی دشمن امریکی گورا ’پاکستانی، ڈالر اور ماں والی بات نہ کہہ ڈالے)۔ اور بہت سے کام نکلیں گے۔ ہمسایوں کے حقوق بھی ادا ہوں گے۔ اقوام عالم میں نیک نامی الگ سے ہو گی۔ امریکہ سے دوستی ہو جائے گی۔ ہندوستان ذلیل ہو گا۔ افغانی ہم پر خوش ہوں گے۔

مگر کیا کروں؟ دماغ کہتا ہے۔ ”Absolutely Not“ سکرپٹ کا ایک ڈائیلاگ تھا۔ غرض یہ کہ سب سکرپٹ ہے۔ اور دل ”Absolutely Not“ کی گردان کر رہا۔ میری آنکھوں کو خارجہ پالیسی میں سب سے پہلے پاکستان نہیں دکھائی دے رہا۔ میری سونگھنے کی حس کو ایسے مہمان نوازی والے حکومتی فیصلوں سے بارود کی بو آ رہی ہے۔ یقین ہونے لگا ہے کہ اب کسی کو Do More کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور میں اپنے خوف کو زبان پہ لانے سے کانپ رہا ہوں۔

میرے منہ میں خاک۔ کیا ہم اب اسلام آباد دیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words