خواتین کے لۓمساجد کے دروازے بند رکھنے کے چند سنگین نتائج

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں ایک کم عمر اجنبی مرد اور عورت کا آمنا سامنا کن ماحول میں ہوتا ہے۔ عموماً گلی، سڑکوں، یا بازاروں میں۔ سڑکوں پر تو کوئی قانون ہوتا ہے مگر مارکیٹوں یا بازاروں میں کون سی اخلاقیات کارفرما ہوتی ہیں۔ مرد ہو یا عورت وہاں خریدار ’ہر‘ شے کو دیکھنے کی نیت سے آتا ہے، وہاں مال لاحاصل پر بے باکی سے دست حسرت پھیر کر ہی حسرت پوری کی جاتی ہے اور پھر ہر جنس نظروں سے تولی اور پرکھی جاتی ہے۔

چونکہ اس ماحول میں نظروں اور ہاتھوں سے کام لیا جاتا ہے لہٰذا کچھ اخلاق اور دین سے لاعلم مرد ماحول کے اس اختیار کو بازار کی اخلاقیات سمجھتے ہوئے وہاں موجود ہر شے اور انسان پر اسے اپلائی کرنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی مذہبی اخلاقی تقاضے کے تحت خطاکار کو روکے بھی تو اس کی کوئی اتھارٹی نہیں ہوتی جو فریقین کو قبول ہو لہٰذا دنگا فساد کا خطرہ رہتا ہے۔

اکثر سکولنگ بھی چونکہ علیحدہ علیحدہ ہے (جس کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں ) تو ان بے ہنگم عوامی مقامات کے علاوہ مسلم معاشرے میں ایک غیر مرد اور عورت کا میل جول کسی اخلاقی، مہذب اور خدا خوفی کے ماحول میں نہیں ہوتا جہاں کسی استاد، عالم یا معزز شخصیات کی نگرانی میں انھیں عملی طور پر غلط رویہ پر فوری متنبہ کیا جا سکے اور اچھے اور اخلاقی عمل کی حوصلہ افزائی کر کے اس کی ترویج کی جا سکے۔

یہ کام ہمارے نبیﷺ نے مساجد کے ذریعے کیا۔ جہاں علم و ادب بھی دیا اور معاشرت کے اصول بھی وضع کیے۔ اگر کوئی دوران نماز یا آتے جاتے عورت کو گھور رہا ہے یا ہراساں کر رہا ہے (اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں ) تو خدا خوفی کا درس بھی دیا، متنبہ بھی کیا، ٹوکا بھی اور یوں صحیح رویوں اور اخلاقی اقدار کا علم دیا۔ اخلاقی تربیت ماحول کے ذریعے کی جاتی ہے نہ کہ محض کتابی علم سے۔

مگر حیرت ہے کہ قبائلی معاشرت کو اسلام کے نام پر صدیوں سے ہمارے اوپر مسلط رکھا گیا اور ہر کسی کو اسی کے آگے سر خم کرنے کا پابند کیا گیا۔ جہاں عرب ممالک میں عورتوں کے لئے مساجد ہیں وہ بھی قبائلی طرز فکر کی عکاس ہیں جن میں ٹیکنالوجی کے بغیر نماز ممکن نہیں۔ کیونکہ اگر مائک اور بجلی فیل ہو جائے تو خواتین کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ امام یا نمازیوں کی اقتدا کر سکیں۔ طوالت کے پیش نظر صرف کچھ سوال کرنا چاہوں گی اور اگر صرف قرآن اور نبی کے زمانے سے ریفرینس دے سکیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ ہمیں صرف انھیں کی پیروی کا حکم ہے۔ تابعین نے جو اصلاحات کیں وہ اپنے وقت اور زمانے کے حساب سے جو بہتر سمجھا کیں، لہٰذا وہ حکم اور قانون کا درجہ نہیں رکھتیں۔

میرا سب سے پہلا سوال ہے کہ کیا نبیﷺ نے کبھی عورتوں کو مسجد آنے سے روکا۔ اور ثابت ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ گھر میں نماز ادا کرنا ان کے لئے سہولت کے پیش نظر ایک چوائس دی گئی مگر منع کسی بھی حال میں نہیں کیا گیا، چاہے راستہ خطرناک ہی کیوں نہ ہو۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جو بنا ہی مذہب کے نام پر ہو وہاں اس مذہب کے آدھے سے زیادہ پیروکاروں کے لئے اس کی عبادت گاہ کے دروازے بند ہوں تو اسے سنگین جرم نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ عورت کو مسجد سے بے دخل کرنا، نہ ہی اس کے لئے جگہ بنانا بلکہ الٹا داخلے پر ہی پابندی لگا دینا اگر اسے نبی کے حکم سے روگردانی اور حکم عدولی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟

کیا نبی نے مرد و عورت کی جماعت کراتے درمیان میں پردے لٹکائے؟ تو ثابت ہے کہ ایسا بھی نہیں ہوا۔ بہت کہانیاں ایسی ملیں گیں کہ جن میں ثابت کیا جائے گا کہ عورت مکمل برقع نما لباس (جو کے اس دور کی ایرانیوں اور رومیوں کی ہائی کلاس عورتوں کا لباس تو ہو سکتا ہے غریب مسلمان عورتوں کا نہیں کہ کہ بہرحال دس گز کا لباس ہر کوئی نہیں پہن سکتا تھا) میں آتیں، اور مرد اور عورت بغیر ایک دوسرے کو دیکھے، سنے، اڑتے ہوئے ایک دروازے والے حجرہ نما کمرے میں آتے بھی اور نکل بھی جاتے۔ یاد رہے وہ کوئی فیصل مسجد نہیں تھی! باقی اگر آپ کی عقل ایسی تاویلیں مانے تو ضرور مانیے۔

اس پابندی کے جو سنگین نتائج نکلے آج تمام مسلم دنیا کو اس کو بھگت رہی ہے۔ سب سے پہلا تو یہ کہ مرد و عورت کے میل جول کے کوئی مہذب آداب نہ طے ہو پائے اور نہ ہی خدا خوفی کی کوئی معاشرت تشکیل پائی جو مرد اور عورت کی ہوس زدہ نظروں کو تہذیب کے دائرے میں لائے۔

گھر کی خواتین کے ساتھ میل جول کے آداب اجنبی خواتین کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ معاشرے میں وہ آداب کہاں عملی طور پر سکھائے جاتے ہیں؟ کیا محض بچ کے رہنا، نظر جھکانا ہی آداب ہیں یا کچھ اور بھی آداب میں آتا ہے۔ جب ہر جگہ مرد اور عورت کے درمیان ہر بات چیت، میل جول کو دوستی اور بدکاری کا ہی پیش خیمہ سمجھا جائے گا تو جب کہیں سیر گاہوں، گلی، بازاروں، ہسپتالوں میں آمنا سامنا ہو گا تو کسے کیا معلوم کہ ایک معاشرتی مہذب تعلق کیسا ہوتا ہے۔

اور یہ جو سد ذریعہ کی آڑ میں مرد اور عورت کے ہر تعلق کوhyper sexualize کر کے ایک فوبیا تشکیل دیا گیا ہے اس کے اثرات کسی بے حیا معاشرے سے کم یا زیادہ ہو نہ ہوں انتہائی پیچیدہ ضرور ہو گئے ہیں۔ ہمیں اس پیچیدگی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انسانی نفسیات کو بہت سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سد ذریعہ کی آڑ میں محض دیواریں اونچی کرنے، فاصلے ڈالنے اور بدن ڈھانکنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نامحرم اور محرم کے درمیان ایک معاشرتی تعلق بھی ہوتا ہے صرف خاندانی اور رشتہ داری کا نہیں۔ ہمیں اس معاشرتی تعلق کو سنجیدگی سے اپنے مذہب، وقت اور معاشرے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس کی اخلاقیات وضع کرنی ہوں گی اور نبیﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں عورتوں کے لئے مساجد کے دروازے کھولنے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words