بھروسے کی چال

بھروسا وقت کی دستک ہوتا ہے، جس کے اثرات و ثمرات لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کثرت سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہر زمانے کی اپنی روداد ہوتی ہے، جو اس کے تاریخی، ثقافتی، تہذیبی، اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، اور ماضی کے جھروکوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ ہر انسان اپنے ماضی کو کیوں یاد کرتا ہے؟ آخر اس میں کون سے اعتبار کے زاویے ہوتے ہیں، جن پر لوگ اپنے بھروسے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
ان کی زبان و بیان میں کس قدر مماثلت ہوتی تھی جو انہیں ٹس سے مس نہیں ہونے دیتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ موسم اور رتیں بدلتی گئیں، انہیں گچھوں کی گرہیں لگتی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھروسے کو اندر ہی اندر دیمک لگتی گئی۔ اعتبار کا موسم خزاں میں تبدیل ہوتا گیا۔ وقت کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نے جنم لے لیا۔ لوگ ایک دوسرے سے الجھنے اور بکھرنے لگے، لیکن اس کے باوجود بھی نہ اس کی جڑیں کٹیں اور نہ سوکھیں۔
آج بھی دنیا میں گھر، ممالک کا لین دین، تعمیر و ترقی، رشتے ناتے، بھروسے کی بنیاد پر ہی رکھے جاتے ہیں۔ لیکن بغاوت کے جراثیم انسان پر کسی وقت بھی حملہ کر سکتے ہیں اور فطرت میں بگاڑ پیدا کر کے اسے آلودہ بنا سکتے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو جھوٹ کے پر لگاتے ہیں ان کے پر ہوا کے جھونکوں سے بہت جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔
زندگی میں کبھی ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ انسان جھوٹ کو سچ سمجھ کر اس پر بھروسا کرتا ہے۔ اس کی آب و ہوا قلب و ذہن پر ایسے خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے کہ انسان اس فضا میں سانس بھی لیتا ہے، اور روز مرہ زندگی کے مشاغل بھی ترتیب دیتا ہے۔ اور اسے جھوٹ کی دھوپ سایہ فراہم کرنے لگتی ہے۔ لیکن اگر بھروسا کے حقیقی معنوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ
بھروسا زندگی کا سب سے خوبصورت اور قیمتی زیور ہے جس کی چمک کبھی ماند نہیں پڑتی۔ اس کی شروعات اپنی ذات سے ہی کرنی پڑتی ہے، تاکہ دوسرے آپ کی زندگی کی حقیقت کو سمجھ پائیں کیونکہ سچ اور کھوٹ الگ الگ باٹ ہیں، البتہ پلڑا بھاری سچ کا ہی ہوتا ہے۔
بھروسا انسان کی سرشت کی پہچان کی واحد کسوٹی ہے اور اس کی قدر و قیمت مرجان جیسی ہوتی ہے۔ یہ دراصل آفاقی صداقت ہے، جس کے داخلی دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔
اور جب کسی چیز کا دروازہ بند نہ ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ جب چاہیں اندر باہر آ جا سکتے ہیں، یعنی آپ کو اعتماد کا ووٹ مل جاتا ہے۔ آپ کے لیے راستے کا چناو آسان ہو جاتا ہے نہ ٹھوکر کا ڈر اور نہ ہی دہشت کی آہٹ۔ بلکہ یہ سکون قلب کا بہترین ٹانک ہے، جس سے سانسوں کی روانی بہتر رہتی ہے۔
لیکن اس میں ایک بات توجہ خیز معاملہ ہے کہ اسے اپنی ہی ذات و عرفان میں تلاش کرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ ہمارے باطن میں چھپا موتی ہوتا ہے۔ لیکن ہماری آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتی شاید مصنوعی چیزوں کی کشش اصل حقائق کو آنکھوں سے اوجھل کر دیتی ہیں۔
یہ ایک فطری الجھن ہے جس کے پیچھے انسان بھاگ رہا ہے۔ شاید کبھی یہ راستہ انسان کو اجنبی سا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کی قیمت ایمانداری سے چکانی پڑتی ہے، اور اکثر لوگ تنگ نظری اور تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر اس چیز کا فطری اور بے باکی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشکل وقت میں انسان کا سب سے پہلے ہمدرد بنتا ہے۔ زندگی کی ہر مشکل میں یہ سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی پکار میں طاقت کا اتنا راز ہے کہ یہ انسان کو کبھی تنہا نہیں ہونے دیتا۔
اس کا احساس دوسرے کی روح کو تازہ ہوا کے جھونکے جیسا معلوم ہوتا ہے جو زندگی میں بہار لے کر آتا ہے۔ اس کی خوشبو دور فضاؤں میں زندگی کا تصور لے کر بکھرتی ہے اور دوسروں کے نتھنوں کو اپنی خوشبو کا احساس دلاتی ہے۔
زندگانی کا کیا بھروسا ہے
اگر زندگی کے فطری تقاضوں کو پرکھا جائے تو اس کے اعتماد کی شہ رگ کٹی نظر آتی ہے۔ اور جب کسی شے کی شہ رگ ہی کٹ جائے تو وہاں زندگی کی امید باقی نہیں رہتی۔ لیکن جب تک زندگی کی امید باقی رہتی ہے اس وقت تک انسان کی زندگی
میں پھول اور کلیاں دل کو مسکاتی ہیں۔ ویسے یہ بھروسا ہمارے اعمال و کردار کو پختہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھروسا اپنی ہییت و حرکت میں ایسا کمال درجہ رکھتا ہے، جسے کبھی زوال نہیں آتا۔
کبھی یہ انسان کو اپنا اور کبھی غیر کر دیتا ہے۔
عموماً ہماری زندگی میں اندھیرا اس وقت شروع ہوتا ہے۔ جب دوسرے اپنی ذات سے بدظن ہو جائیں، تو پھر یقیناً ہوا کا رخ بدل جاتا ہے۔ لیکن ہواؤں کا رخ تبدیل کرنے کے لئے ایک مضبوط دیوار کی ضرورت ہوتی ہے اور اس دیوار کا نام اعتماد ہے۔ جس کو کھڑا کرنے کے لئے محنت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اعتماد کی دیوار بن جاتی ہے تو اس پر خواہ آندھیاں چلیں یا طوفان آئیں پھر وہ دیوار کبھی بھی مسمار نہیں ہوتی ہے۔
یقین کیجئے ہماری دوستی رشتے ناتے سب بھروسے کی شہ رگ پر آ کر ملتے ہیں۔ غوروخوض کیجیے بھروسے کی عمارت اپنے ہی ہاتھوں سے تعمیر کرنا پڑتی ہے۔ اگر خدانخواستہ اپنے ہاتھ آلودہ ہو جائیں تو انہیں دھونے کے لئے بیگانے کی مدد پڑھ سکتی ہے۔ اس بات کا خمیازہ بھگتنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی ذات و عرفان کی خود ہی تعمیر کر لے کیونکہ بھروسا ہمارے اعتماد کی شہ دگ ہوتا ہے۔

