شمالی ہندوستان کی مختصر تاریخ ( آریاوں کی آمد سے مسلمانوں کی آمد تک)

سندھ ( ہڑپہ موہنجودڑو تہذیب ) کے زوال کے کچھ عرصے بعد ہندوستان میں آریاوں کی آمد سے یہاں دوسری بڑی تہذیب کا آغاز ہو جس میں بتدریج ایک منفرد مذہبی اور سماجی نظام تشکیل پا گیا

آریا۔ 1500 ق م کے قریب وسطی ایشیا (بحیرہ اسود اور بحیرہ کسپئین) سے خانہ بدوش گڈریوں کے مختلف قبیلے مختلف سمتوں میں نکلنے شروع ہوئے۔ ان کی کچھ شاخیں ایران اور باختر ( افغانستان ) پر سے ہوتے ہوئے ہندوستان آنے لگے۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن اور وادی سندھ میں پڑاو ڈالتے گئے۔ ان کے قدیم عقائد۔ معاشرت اور زبان کے بارے معلومات کا اولین ذریعہ ان کا زبانی مذہبی ادب ( وید) ہیں۔ ( 500 ق م تک آریاوں کے یہاں تحریر کا نظام نہیں تھا)

ان کی تاریخ کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1۔ ویدک دور۔ 1500 ق م تا 800 ق م۔
2۔ بعد از ویدک یا ایپک دور 800 ق۔ م تا 500 ق م

ویدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آریاوں کے یہاں جانور بڑی اہم دولت ہوتے تھے۔ اور جنگجو لوگ تھے۔ گھوڑوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ مرکزی قیادت کے بجائے ان کے الگ الگ قبائلی گروپ تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وادی سندھ سے آگے دریا گنگا کی وادی تک پھیل گئے اور کاشتکاری شروع کی۔

ویدک دور میں آریاوں کا مذہب۔

ویدیں بنیادی طور پر آریاوں کے مذہبی عقائد اور رسومات سے متعلق ہیں۔ جن سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آریا مختلف دیوتاؤں پر یقین رکھتے تھے۔ جو مظاہر فطرت کے نمائندے تھے۔ ان کا اہم دیوتا ”اندرا“ ۔ تھا۔ جو جنگ کا دیوتا تھا۔ دوسرے دیوتا۔ ”آگنی“ سوریہ ”“ متر ”۔ اور“ ورونہ ”تھے۔

ان کے لیے قربانیاں اور چڑھاوے کی رسم صرف برہمنوں کے ذریعے ادا کیے جاتے تھے۔ ویدوں کے بھجن سیکھنا اور پڑھنے کی اجازت برہمنوں کے سوا کسی کو نہیں تھی۔

سماجی نظام۔ وادی گنگا تک آباد ہو جانے کے بعد آریاوں نے اپنے اپنے جنگجو سرداروں کے ماتحت کئی قبائلی راج دھانیاں قائم کی مقامی باشندوں جن کو وہ۔ ”داسِ” کہتے تھے اور جن سے انہوں نے کاشتکاری اور دوسرے ہنر سیکھے تھے۔ کو کمتر ذات گردانا شروع کیا۔ اور ذات پات کا نظام قائم کیا۔ جو بعد میں چار ذاتوں۔ برہمن۔ کھشتری۔ ویش اور شودر پر مشتمل ہو گیا۔

ما بعد ویدک یا ایپک دور۔ ( 800 ق م تا 500 ق م) ۔

اس دور میں مشرق کی جانب دوابہ اور شمال مشرق میں بہار تک کے علاقوں کو فتح کر کے آریاوں نے کھشتری حکمرانوں کے تحت بادشاہت قائم کر کے تہذیبی ترقی شروع کی۔ لوہے کا استعمال شروع ہوا۔ شودروں سے زرعی مزدورں کا کام لیا جانے لگا۔ کھشتری حکمران مال دار اور طاقتور ہو گئے۔ جس کی وجہ سے وہ منتخب ہونے کے بجائے برہمن پیشواؤں کی حمایت سے اقتدار حاصل کرنے لگے۔ یوں بتدریج برہمن بھی زیادہ طاقتور اور با اثر ہو کر اعلی ترین ذات بن گئے۔

مذہب۔

بدلتے حالات کے تقاضوں کے تحت نئے دیوتاؤں کا اضافہ ہوا۔ اور کچھ نئے عقائد تشکیل دیے گئے۔ اس دور میں وشنو، اور شیوا دیوتا آریاوں میں مقبول ہونے لگے۔ سمسارا ( تناسخ ) کرما، موکشا، ترک دنیا جیسے تصورات ان کے عقائد میں شامل ہو گئے۔ )

آج کے ہندو مت میں مذکورہ تصورات بڑے اہم ہیں۔ ( ہندو مت آریاوں کے مذہب ( آریا ورت) سے ابھرا ہے ) ہندو مت آریائی تار یخ، ذات پات اور دیوتاؤں عبادات کا مرکب ہے۔ اس کے ساتھ رزمیہ ادب کے قصوں سے بھی اس کی رسومات کی نشو و نماء ہوئی ہے۔

اسی دور میں دو مشہور رزمیہ داستانیں۔ مہا بھارت اور رامائن۔ لکھی گئیں۔ مہا بھارت آریائی قبیلوں کے درمیان جنگ کی داستان ہے۔ ”بھگوت گیتا“ کی نظم مہا بھارت کا ایک اہم۔ حصہ ہے جس میں ایک مکالمہ کے ذریعے ہندو دھرم کے بعض اہم تصورات کی تعلیم دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ”برہمن“ ، ”آرن یک“ ، ”اپنیشد“ اور ”پران“ لکھے گئے۔

(۔ برہمن۔ ویدوں کی عبارت پڑھنے اور ان کی ادائیگی کے اصولوں۔ ان کے اشلوکوں کی تفسیر آواگون، دنیا کی ناپائیداری اور انسان کی نجات سے متعلق موضوعات پر برہمنوں کی نثر میں لکھی گئیں کتابیں ہیں۔ ان کے لکھے جانے کا عرصہ 600 سے 200 ق م ہے۔

آرن یک۔ یہ سنیاس ( جنگلوں اور پہاڑوں میں گیان دھیان کرنے والے ) کے لیے لکھی گئی کتاب ہے۔
اپنیشد۔ یہ فلسفیانہ مسائل اور ”آرن یک“ کی وضاحت سے متعلق اسباق پر مشتمل ہیں۔ ان کی تعداد 108 ہے۔

پران۔ یہ قدیم گیتوں کے مجموعے ہیں جن میں بادشاہوں اور رشیوں کے حالات کے ساتھ عبادت، ریاضت، مذہبی رسوم و تہواروں سماجی رواجوں کے علاوہ قصے کہانیاں، دیومالائی باتیں اور فلسفیانہ مسائل اور کچھ تاریخی مواد پائے جاتے ہین۔ ان کا ایک دلچسپ موضوع سلطنتوں کا عروج و زوال اور نیکی اور بدی کے درمیان کشمکش ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ 5 ویں صدی ق م میں لکھی گئیں۔

500 ق م کے لگ بھگ برہمن مت کے رد عمل میں سماجی اصلاح کے مختلف نظریات کے مبلغین اٹھے۔ یہ پوچا پارٹ، ذات پات، قربانی اور جنگوں کے خلاف تھے اور ”اہنسا“ کے مبلغ تھے۔ ان میں مہا ویر۔ ( جین مت کا بانی) مہاتما بدھ کے علاوہ ”اجیتا“ ، ”کشیاپ“ ، ”اجی ویکا“ ، ”سانجیہ“ ، ”یرسوا“ ، ”ادکا“ اور ”اتارا“ وغیرہ بھی چند بڑے مبلغین تھے۔ تاہم ان میں مہا ویر اور بالخصوص گوتم بدھ کی تعلیمات زیادہ کامیاب ثابت ہوئیں۔ اور بعد کے تاریخ اور تہذیب پر گہرے اور دیرپا اثرات ڈالے

ایرانیوں اور یونانی (سکندر اعظم ) کے حملے۔

6ویں صدی ق م میں وادی سندھ ( موجودہ پاکستان ) کے خطے میں کئی ریاستیں تھیں جن میں سب سے اہم گندھارا تھی جو مشرقی افغانستان اور شمال مغربی پاکستان ( وادی پشاور اور ٹیکسلا کے علاقے پر مشتمل تھی۔

پانچویں صدی ق م ( 480 ق م ) میں ایران کے بادشاہ دائرس (Darius ) نے گندھارا اور وادی سندھ کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔

اس کے بعد اگلا حملہ آور سکندر اعظم تھا۔ اس کے حملے کے وقت پاکستان کے حصے والے ہند میں ذیل کی ریاستیں تھیں ( 1 ) ۔ سوات۔ ( 2 ) پشکلاوتی۔ ( 3 ) ۔ ٹیکسلا۔ ( 4 ) راجہ پورس کی ریاست جہلم۔ ( 5 ) ملتان۔ ( 6 ) الور ( بالائی سندھ) اور ( 7 ) پٹالا ( جنوبی سندھ )

سکندر اعظم نے 327 ق م میں کوہ ہندو کش کے راستے سوات اور با جوڑ پر حملہ کیا۔ 326 ق م میں ”ہنڈ“ کے مقام پر دریا سندھ عبور کیا وہاں کے راجہ نے خراج قبول کیا۔ جہاں سے ٹیکسلا پہنچا تو اس کے حمکران راجہ ”امبی“ نے بھی حمایت کر دی۔ جبکہ آگے ریاست جہلم کے ”راجہ پورس“ نے پامردی سے مقابلہ کیا مگر شکست کھائی۔ سکندر نے اس کو اپنے مفتوحہ علاقے کا نگران مقرر کیا۔

سکندر اعظم کے بعد ۔
۔ ۔

دریا بیاض کے اس پار۔ ماگدھ۔ ( موجودہ بہار) کی طاقتور اور امیر ریاست تھی۔ جس کا دارالحکومت پاٹلی پتر ( پٹنہ ) دریا گنگا کے کنارے ہونے کے باعث تجارت کا مرکز تھا۔ اس زمانے میں اس پر ”نیندا“ خاندان حکمران تھا۔

ٹیکسلا کے ایک سابقہ طالب علم ”چندر گپتا موریہ“ نے ماگدھ کے ایک برہمن پیشوا۔ کوٹلیا۔ کی مشاورت میں ایک پرائیویٹ فوج کے ذریعے پہلے یونانی فوج سے ٹیکسلا چھین لیا اور 321 ق م میں ”ماگدھ“ پر قبضہ کر کے موریہ بادشاہی کی بنیاد رکھی۔ ( جو اگلے سو سال تک شمالی ہندوستان اور افغانستان کے بڑے حصے پر قائم رہی ) ۔ یہ ہند کی پہلی مقامی سلطنت کہی جاتی ہے۔

چند گپتا نے 24 سال حکمران رہنے کے بعد 301 ق م میں بادشاہی اپنے بیٹے ”بندوسورا“ کو چھوڑ کر خود ”جینی سادھو“ بن گیا۔ 273 ق م میں بندوسورا کے بعد اس کا جو بیٹا حکمران بن گیا۔ وہ ”اشوک اعظم“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 260 ق م میں ”کالینگا“ ( موجودہ اڑیسہ کے قریب ) ریاست کے فتح کے دوران قتل و غارت سے اتنا تائب ہوا کہ مزید فتوحات اور جنگوں کو ترک کردی۔ 275 ق م میں ہندو مت کو چھوڑ کر بدھ مت کا مذہب اختیار کر لیا۔

جنگجو حکمران کے بجائے امن۔ رعایا کی فلاح بہبود اور بدھ مت کی تبلیغ اور ترویج کا علم بردار بن کر تاریخ میں اشوک اعظم قرار پاتا ہے۔ امن اور ہم آہنگی کے پرچار کے لیے ”دھرما“ کا ضابطہ جاری کیا جس کا مقصد سوال کے طرز فکر و طرز عمل میں تبدیلی لانا تھا۔ ”دھرما“ سے متعلق بدھ مت کی تعلیمات اور ہدایات کو چٹانوں۔ کتبوں اور میناروں پر کندہ کرایا۔ رعایا کی مادی ترقی اور سہولیات کے لیے زراعت۔ تجارت۔ طب۔ تعلیم کے شعبوں میں بہت سارے اقدامات کیے ۔

اشوکا کی کوششوں سے بدھ مت ایک آزاد اور مختلف ممالک میں پھیلا ہوا مذہب بن گیا۔
232 ق م میں اشوکا کی موت کے بعد اس کے کمزور جانشینوں کے باعث سلطنت منتشر ہونے لگی۔

185 ق م میں اس کے آخری حکمران: ”بر ہندارتا“ ۔ کو اس کے ہندو جرنیل نے قتل کر کے موریہ دور کا خاتمہ کر دیا۔

۔
بیرونی حملہ آوروں کے یلغار کا دور۔

185 ق م میں موریہ سلطنت کے خاتمے کے بعد 150 سال تک یہ علاقہ بیرونی حملہ آوروں کے یلغار کا نشانہ رہا ان قابضین میں بالترتیب۔ ( 1 ) باختری یونانی 183 ق م۔ ( 2 ) ۔ ساکا 90 ق م ( 3 ) پارتھی 50 ق م اور ( 4 ) 40 عیسوی کے بعد کشان شامل ہیں۔

باختری یونانیوں میں۔ ”مینیندر“ ۔ ( 160 تا 130 ق م ) مشہور حکمران تھا

اس کی سلطنت جنوب میں دریا نربادا اور مشرق میں متھرا تک پھیلی ہوئی تھی۔ موجودہ سیالکوٹ کے قریب ”ساگالا“ نام سے نیا دارالحکومت بنایا۔ ٹیکسلا اور پشکلاوتی ( چارسدہ ) کی نئے سرے سے تعمیر کی۔

(مانیندر آخر میں بھگشو بن گیا ) ۔
اگلے بیرونی حملہ آور ”ساکا“ تھے۔

انہوں نے 90 ق م میں گندھارا فتح کر کے ٹیکسلا کو دارالحکومت بنایا۔ اگلے پچاس سال میں انہوں نے گجرات اور مشرق میں متھرا اور اجین کو فتح کیا۔

25 ق م روم کے شہنشاہ ”آگسٹس“ کو تحفے بھیجنے اس کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

”پارتھی“ ۔ پہلی صدی عیسوی میں پارتھیوں کی عراق مرکز کی راج دہانی سلطنت بن گئی تھی۔ جو دریا فرات سے دریائے سندھ اور ”امو دریا“ سے بحیرہ عرب تک پھیل گئی تھی۔ اسی صدی میں یہ اتنی مضبوط تھی کہ رومن سلطنت سے ٹکر لیتی تھی۔ اس کا نامور بادشاہ ”گوندو پارس“ ( 20 تا 48 عیسوی ) تھا جس نے ٹیکسلا کو پایہ تحت بنایا۔ اس کی موت کے بعد سلطنت میں باہمی خانہ جنگیوں کے باعث ان کی جگہ کشان حملہ آوروں نے لے لی۔

کشان۔ انہوں نے 78 ع میں پارتھیوں کو شکست دے کر ان کی جگہ لی۔ یہ چینی نژاد تھے

اس سلسلے کا بہترین حکمران کنشکا ( 127 تا 150 عیسوی) تھا۔ اپنے عروج کے دور میں کشان سلطنت میں جدید ترکی کے کچھ علاقے، تمام جدید افغانستان اور بیشتر شمال ہندوستان کے علاقے شامل تھے۔ موسم سرما میں اس کا پایہ تحت پشاور اور گرمیوں میں کابل کے شمال میں ”کاپسیا“ ہوا کرتا تھا۔

تجارتی ترقی کے علاوہ اسی دور میں گندھارا آرٹ نے کافی ترقی کی۔ افغانستان، وسطی ایشیا، چین، کوریا اور جاپان تک بدھ مت کا پھیلاؤ ہوا۔ کشان بادشاہ ”کنشکا“ کو دوسرا اشوکا کہا جاتا ہے۔ تمام سلطنت میں لاتعداد سٹوپے تعمیر کیے ۔ پشاور کا بڑا سٹوپہ کنشکا نے بنایا۔ اس کے دور میں سائنس۔ طب اور ادب کا فروغ ہوا۔ کشان سلطنت کنشکا ”کے بعد بھی ایک عرصے تک قائم رہی۔ مگر ایران کے ساسانی بادشاہ شاہ پور اول کا پشاور اور ٹیکسلا پر قبضے ( 265 ع) سے کشان سلطنت کو چھوٹے چھوٹے راج دھانیون میں تقسیم ہو گیا۔ اس سے اس کے دو سو سال زیادہ شاندار دور کا خاتمہ ہوا۔ کشان سلطنت کے زوال کے ساتھ ہند کو ایک بار پھر تاریک دور کا سامنا ہوا۔ تاہم 4 ویں صدی عیسوی کے اوائل میں ہندی کلچر کے ایک اور سنہرے دور کا آغاز ہوتا ہے

”چندر گپتا“ نامی کا ایک ہندو راجہ وادی گنگا جمنا میں خود کو مستحکم کر کے 319 عیسوی میں خود کو بادشاہ قرار دینے سے ”گپتا دور“ کا آغاز ہوتا ہے۔ جو انڈیا کا سنہرا دور کہلاتا ہے۔

گپتا حکمرانوں کا دور 320 سے 467 عیسوی تک 150 سال ہے

چندر گپتا کے بعد اس کا بیٹا ”سمودرا گپتا۔“ حکمران بن جاتا ہے جس کا شمار انڈیا کے عظیم حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ اس نے اپنے پچاس سالہ دور بادشاہت میں اپنی سلطنت کو ہمالیہ سے خنوب میں دریائے نربادا۔ تک پھیلائی۔ جو وسعت اور طاقت کے لحاظ سے اشوکا کے بعد دوسری بڑی سلطنت تھی

۔

”سمودرا گپتا“ کے بعد اس کے بیٹے چندر گپتا دوم ( 375 تا 413 عیسوی ) نے سلطنت کو مغرب تک مزید وسیع کیا۔ اس کے دور میں سلطنت اپنے عروج تک پہنچی۔ علوم و فنون کی ترقی کے علاوہ اس دور میں ہندو مت کا احیاء بھی ہوتا ہے۔ اس دور کا اہم علمی مرکز بہار کی ”نالاندہ“ یونیورسٹی تھی۔ سائنس خاص کر میھتیس میں بڑی ترقیات ( جیسے زیرو، اور اعشاری نظام کی علامات بنانا ) اس دور میں کی گئیں۔ ”شکنتلا“ کا خالق ”کالی داس“ اور ”ورا مہر“ جیسے نامی تمثیل نگار ( ڈرامہ نگار) اس کے دور میں گزرے ہیں۔

چندر گپتا دوم کی موت کے بعد گپتا سلطنت کمزور ہو کر توڑ پھوڑ کا شکار ہوتی گئی۔

443 تا 451 عیسوی میں ہمالیہ کے شمال مغرب طرف سے ”سفید ہنوں“ نے لائی لی (Lae Lih) کی قیادت میں وادی کابل اور گندھارا فتح کیا۔ اس کے بعد 467 ع میں اگے بڑھ کر پاٹلی پتر میں آخری گپتا حکمران ”سکندا گپتا“ کو شکست دے کر گپتا سلطنت کو منتشر کر دیا۔

شمال مغربی ہند پر تو ”سفید ہنز“ ( white Huns) قابض ہو گئے۔ تاہم مشرقی ہند کو ہندو راجاؤں کے الحاق نے ”ہنوں“ کے یلغار اور قبضے سے بچائے رکھا۔

7ویں صدی میں وادی گنگا جمنا متعدد باہمی بر سر پیکار ریاستوں میں تقسیم تھا تو ایسے میں شمالی ریاستوں کا ایک راجہ ”ہرش“ 612 ع میں شمال مغربی ہند کے بڑے علاقے کا حکمران بن جاتا ہے۔ ”ہرش“ بیک وقت ایک رحم دل بادشاہ جنگجو سپاہی۔ بہترین منتظم۔ علوم و فنون کا سرپرست۔ اور بذات خود اعلی پائیہ کا شاعر اور ڈرامہ نگار تھا۔ مگر۔ 647 عیسوی میں اس کی موت کے بعد موثر جانشین نہ ہونے کی وجہ سے شمال ہند ایک بار پھر سیاسی انتشار کا شکار ہو گیا۔

مسلمانوں کی آمد تک شمالی ہند میں زیادہ تر طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ شمال مغربی ملک کے مختلف حصوں پر باختریون سیتھیوں کشانوں اور ہنوں کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد حکمران بن گئے۔ اور راجپوت کہلانے لگے۔ اور برہمنوں نے ان کا شجرہ نسب سورج بنسی اور چندر ( چاند) بنسی سے ملا کر انہیں کھشتریوں کا جانشین تسلیم کر لیا۔

مسلمانوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں ایک نئے دور اور تہذیب کا آغاز ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words