ڈاکٹر قاسم مہدی : شرافت، لیاقت اور دیانت جب یکجا ہو جاۓ!

ان کا ردعمل سب کے لئے حیران کن تھا کیوں کہ ہماری یاداشت میں اس سے قبل کسی مہمان شخصیت کی طرف سے کبھی اس طرزعمل کا مظاہرہ نہیں ہوا تھا۔

پی ٹی وی کی طرف سے، پی ٹی وی کی روایت کے مطابق انھیں ان کی پہلی ریکارڈنگ کے حوالے سے، جب چیک پیش کیا گیا تو انھوں نے بغیر کسی سوچ بچار کے، برملا کہا کہ ”اس چیک کو ابھی کہیں رکھ لیا جائے۔ جب ڈاکٹر صاحب ریکارڈنگ کے لئے آئیں گے اور وہ، اپنے چیک کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے، ویسا ہی میں اس چیک کے ساتھ کرنا چاہوں گا۔“

ان کے لہجے میں کسی بناوٹ اور دکھاوے کا شائبہ تک نہ تھا۔ ان کی بلا کی سادگی ان کے خاندانی شرافت کا پتہ دے رہی تھی، جو اس غیر روایتی اور غیر متوقع ردعمل سے بھی سب پر نمایاں ہو چکی تھی، یہی ان کا پہلا تعارف تھا جو ان سے رابطے میں آنے والے ہر فرد کے لئے مسرت آمیز حیرت اور حیرانی میں لپٹی خوشی کا باعث تھا۔

یہ پی ٹی وی ٹو سے 1990 کی دہائی میں، سائنس لیکچرز پر مبنی سیریز کا پہلا پروگرام تھا جس کے لئے انھیں میزبان منتخب کیا گیا تھا۔

ہر نئے پروگرام اور ہر نئی ملاقات کے ساتھ ان کی شخصیت کے خوش نما پہلو سامنے آتے جا رہے تھے اور حیرت، خوشی ( اور فخر ) کا وہ تاثر جو پہلی ملاقات سے ابھرا تھا، گہرا ہوتا جا رہا تھا۔

اتنا بلند قامت، اتنی عاجزی کے ساتھ اور اس معاشرے میں، دل نہیں مانتا تھا۔

نہ کسی نام نہاد پروٹوکول کی خواہش، نہ کسی جعلی احترام کی طلب، نہ اپنی کامیابیوں اور پس منظر پر احساس تفاخر، یوں محسوس ہو جیسے اعلی ترین انسانی خصوصیات کا کوئی رول ماڈل آپ کے مقابل ہے۔

سب سے پہلے (اور سب سے اہم) بات ان کے بارے میں یہ معلوم ہوئی کہ وہ تحریک پاکستان کے اس رہنما کے بھانجے ہیں جن کے بارے میں پاک و ہند تاریخ سے باخبر مؤرخین ان کی بے مثال خدمات کو اس دلچسپ پیرائے میں بھی بیان کرتے ہیں کہ ”پاکستان کی تخلیق میں قائد اعظم کے ٹائپ رائٹر اور راجہ صاحب محمود آباد کے خزانے نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔“

یہ وہ راجہ صاحب ہیں جن کے خاندان کے حوالے سے صرف ایک واقعے کی نشاندہی، ان کے آبا و اجداد کے مزاج کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ قائد اعظم اکیڈمی کی شائع کردہ ایک کتاب کے مطابق راجہ صاحب نے اولاد کی ولادت کا جشن منانے پر اصرار کرنے والوں کی تسلی کے لئے، وہ جشن کچھ یوں منایا کہ ریاست کی تمام تحصیلوں میں موجود موتیا کے 1158 مریضوں کا مفت آپریشن، آنکھوں کے نامور ترین ڈاکٹر، ٹی پرشاد سے کرایا گیا۔

پاکستان کی تاریخ سے ان کے خاندان کے اتنے گہرے تعلق کے حوالے سے ان سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ میں بہت چھوٹا تھا اور جب قائداعظم سے ملنے کے بعد گھر آتا تھا تو اپنی والدہ کو بتاتا تھا کہ جب نانا مجھے گود لیتے ہیں تو مجھے ان کے جسم کی ہڈیاں کبھی کبھی تکلیف دیتی ہیں۔

یہ اور ایسی دوسری باتیں سن کر کبھی کبھار یہ سوال بھی ضرور ذہن میں سر اٹھاتا کہ راجہ صاحب کی تحریک سے اتنی والہانہ وابستگی اور راجہ صاحب سے ان کا ایسا رشتہ (اور قربت) ، پھر وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کیوں نہیں قلم بند کرتے۔ اس تجسس کے جواب میں بھی، انھوں نے اپنی سادگی اور صاف گوئی پر حرف نہیں آنے دیا، کہنے لگے تعلق کی یہ خوبی اپنی جگہ، مگر یہ خوبی بھی شاید اس راہ میں رکاوٹ ہے کہ اگر میں کچھ لکھوں گا، کچھ کہوں گا تو میرا ہر ردعمل اس رشتے کے باعث جانبداری اور طرف داری کے زمرے میں تصور ہوگا، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ماموں نے اپنے مخصوص شخصی (اور سیاسی) اختلافات کے حوالے سے ہمیں تاکید کی تھی کہ جب کوئی شخصیت myth بن جائے، اس کے بارے میں رائے زنی لاحاصل اور محض وقت کا زیاں ہے۔

انھوں نے بہت سادگی سے اپنی پرانی ریاست کے حوالے سے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہاں خاندان کے بچوں کی تربیت کسی شاہی خاندان کے نوجوانوں سے کم نہ تھی۔ انھیں باقاعدہ گھڑسواری اور پیرا کی سکھائی جاتی تھی۔ تمام مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ ان کی تربیت کا لازمی جز تھا۔ غیرملکی زبانوں سے دلچسپی اور ان پر عبور حاصل کرنے کی بھی تاکید تھی۔

یہ شاید اس تربیت کا حصہ تھا یا ان کے غیر ممالک میں قیام کا نتیجہ، کہ وہ انگریزی کے علاوہ جرمن، فارسی اور فرانسیسی بخوبی سمجھتے تھے۔

قائد اعظم کی شخصیت اور تعلیمات کو بہت قریب سے دیکھنے (اور بہتر طور پر سمجھنے) کا غالباً یہ اثر تھا کہ وہ صرف کام، کام اور کام کے قائل تھے اور سطحی شہرت، ذاتی تشہیر اور خود نمائی کیا ہوتی ہے، یہ الفاظ ان کی ڈکشنری سے یکسر باہر تھے۔

آخری آخری ملاقاتوں میں، جب میں نے گفتگو کو طول دینے کے لئے ان کی مصروفیات جاننا چاہی تو ان کا جواب، ان کی روایتی سادگی کے ساتھ، ایک غیر معمولی تحقیق کا پتہ دے رہی تھی۔ بتایا گیا کہ ان کا ادارہ ان دنوں چنگیز خان کی نسل پر کام کر رہا ہے۔ ذرا کام کی نوعیت ملاحظہ ہو اور ان کی انکساری کہ جیسے یہ کوئی بہت عام سطح کی بات ہو۔ اتنے اہم موضوع کی ریسرچ ہو اور متعلقین ڈھنڈورا نہ پیٹیں، یہ کسی اور دنیا کے ہی لوگ ہوں گے۔ اس حوالے سے میرا تعجب بھی انھیں معاشرے کے روایتی مروجہ طرز عمل پر آمادہ ہوتے نہ دیکھ سکا۔

بیرون ممالک اپنے قیام کے حوالے سے، اور بہت سی باتوں کے، وہ اس بات پر بہت فخر کا اظہار کرتے تھے کہ دنیا بھر کے علمی حلقوں میں، سائنس دان اور محققین، ڈاکٹر عبدالسلام کا بہت احترام کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے مشاہدے کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا کہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کوئی بات کرتے ہیں یا بیان دیتے ہیں تو سائنس کے نوبل انعام یافتگان بھی اسے خصوصی اہمیت دیتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے کچھ کہا ہے تو ضرور کوئی اہم بات کی ہوگی۔

یوں پاکستان کے نامور سائنسدان اور ( تب ) بائیو میڈیکل اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے ڈائرکٹر جنرل، ڈاکٹر قاسم مہدی کی میزبانی میں سائنس لیکچر سیریز کی مختلف اقساط کی ریکارڈنگز جاری رہیں اور پھر خاصے وقفے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے، ایک قسط میں آنے کا وقت نکال لیا۔ ریکارڈنگ کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پی ٹی وی کی طرف سے جب چیک پیش کیا گیا تو انھوں نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسے پی ٹی وی ملازمین کے بہبود فنڈ میں جمع کرانے کا کہا۔

ڈاکٹر قاسم مہدی بھی پہلی ریکارڈنگ کا اپنا وعدہ نہیں بھولے تھے۔ انھوں نے اس واقعے کے بعد اپنے نام پر بننے والے اب تک کے سارے چیک اور باقی اقساط کے آنے والے واجبات کے بارے میں بھی یہی فیصلہ صادر کیا کہ انھیں پی ٹی وی ملازمین کے بہبود فنڈ میں ڈال دیا جائے۔

(ڈاکٹر قاسم مہدی، لکھنو یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی سے فارغ التحصیل تھے۔ ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے سرفراز ہوئے۔ پاپولیشن جینیٹکس کے میدان میں ان کی خدمات کی وجہ سے انھیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ سائنس کے میدان کی ایسی قد آور شخصیت بن چکے تھے کہ عالمی سطح پر ان کا شمار مولی کیولر بائیو لوجی اور جینیٹکس کے نمایاں ترین ماہرین میں ہوتا تھا۔

ڈاکٹر قاسم مہدی 2016 کے ماہ ستمبر میں اس عارضی دینا سے کوچ فرما گئے۔ ان کے انتقال پر، سائنس کے میدان سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر کا یہ تبصرہ، سائنس اور تحقیق سے بیگانہ افراد کے لئے بھی، ان کی شخصیت اور خدمات کا اندازہ لگانے میں معاون ہوگا :

” پاکستانی قوم نے آج ایک گوہر نایاب کھو دیا، ایک ایسا گوہر جو صدیوں میں تخلیق پاتا ہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words