کیا طالبان خواتین کو نمائندگی دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں؟

ہرات میں خواتین اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کر رہیں جب کہ طالبان جنگجو بھی موقع پر موجود ہیں۔

افغان طالبان کے خواتین کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کے عندیے کے بعد ایک بار پھر انسانی حقوق اور خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق اُن کے وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور سینئر رہنما شیر عباس ستنکزئی نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے حالیہ انٹرویوز میں کہا تھا کہ خواتین کو حکومت میں شامل نہیں کیا جا رہا ہے۔ البتہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق بعض سرکاری اداروں میں کام کر سکیں گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکہ کے ساتھ دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے میں طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور اُنہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

البتہ امریکہ، یورپ اور بعض دیگر ممالک اب بھی طالبان کے وعدوں پر شکوک و شہبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کے خلاف خواتین ہرات میں احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔
افغان طالبان کے خلاف خواتین ہرات میں احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔

نوریا نزہت نامی خاتون جو سابق سرکاری ملازم اور میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں نے افغان نشریاتی ادارے ‘طلوع’ نیوز کو بتایا​ کہ خواتین کو حقوق دینے اور اُنہیں حکومت میں شامل کرنے سے متعلق طالبان کے مختلف رہنماؤں کے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث خواتین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

‘خواتین کو حقوق دینا طالبان کے نظریے میں ہی نہیں ہے’

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن حنا جیلانی کہتی ہیں کہ ہمیں طالبان کے اس فیصلے پر کوئی حیرانگی نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ طالبان نے صرف بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنے کے لیے خواتین کو حقوق دینے کے وعدے کیے تھے۔ حالاںکہ نظریاتی طور پر وہ خواتین کو حقوق دینے کے کبھی بھی حامی نہیں رہے۔

حنا جیلانی کہتی ہیں کہ آہستہ آہستہ دنیا پر طالبان کی حقیقت آشکار ہو گی اور دنیا کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے نوے کی دہائی میں خواتین کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔

اُن کے بقول طالبان ایک پالیسی کے طور پر خواتین کو حقوق دینے کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن انفرادی سطح پر اُن کے جو جنگجو لوگوں میں رہتے ہیں اُن کی خواتین کے حوالے سے سوچ وہی ہے جو نوے کی دہائی میں تھی۔

حنا جیلانی کہتی ہیں کہ طالبان کے آنے کے بعد خواتین کی آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اس بات کا اندازہ عالمی برادری کو اور خاص طور پر پاکستان کو بھی ہونا چاہیے۔

انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری کہتی ہیں کہ طالبان اپنی نظریاتی سیاست کو مسلط کرنے کے لیے خواتین کو ‘سافٹ ٹارگٹ’ سمجھتے ہیں جس کے لیے خواتین کو پردے میں رکھنا، تعلیم اور اُمور مملکت سے دُور رکھنا اُنہیں آسان لگتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرزانہ باری نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان میں جو بھی حالات ہیں اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا اور پاکستانی معاشرے جہاں پہلے ہی بنیاد پرستی کی جڑیں بہت گہری ہیں وہاں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

‘طالبان کی بات پر یقین رکھنا چاہیے’

جماعت اسلامی پاکستان کی سینئر رہنما اور سابق رُکن قومی اسمبلی سمعیہ راحیل قاضی کہتی ہیں کہ یہ روایت پوری دنیا میں ہے کہ خواتین کو اعلیٰ حکومتی عہدوں پر تعینات نہیں کیا جاتا۔

اُنہوں نے ہیلری کلنٹن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے بھی اُنہیں منتخب نہیں کیا تھا۔ حالاں کہ وہ قابلیت میں کسی دوسرے اُمیدوار سے کم نہیں تھیں۔ لیکن کسی نے اُنہیں منتخب نہ کیے جانے پر امریکی معاشرے کو موردِ الزام نہیں ٹھیرایا تھا۔ لہٰذا صرف طالبان کو یہ الزام دینا مناسب نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ افغانستان جیسا خطہ، جہاں گزشتہ 40 برس سے بارود اور آگ کا کھیل جاری ہے اور استعماری قوتوں نے اس کے ذرے ذرے کو نشانہ بنایا ہے وہاں خواتین کو وزیر بنانا یا نہ بنانا بہت بعد کی بات کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ افغانستان میں غذا کا بہت بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دنیا کو پہلے ان مسائل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سمیعہ راحیل قاضی کہتی ہیں کہ افغانستان طالبان کا ملک ہے اور وہ اپنے ملک کے کلچر اور رسم و رواج کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔

خواتین کو خدشہ ہے کہ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد اُنہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خواتین کو خدشہ ہے کہ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد اُنہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سمعیہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی کابینہ میں بھی کوئی خاتون وزیر نہیں ہے لیکن یہاں کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

اُن کے بقول پشتون معاشرے کا ایک خاص کلچر ہے جس کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔

خواتین کے طالبان کے خلاف مظاہرے

دریں اثنا جمعرات کو شمالی افغانستان کے شہر ہرات میں درجنوں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور خواتین کے حقوق، اُن کی تعلیم اور اُنہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے مطالبات کیے۔

امریکی اخبار ​‘واشنگٹن پوسٹ’ کی رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے میں خواتین مارچ کرتی ہوئی گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچ گئیں اور مستقبل کی افغان حکومت اور سرکاری عہدوں پر خواتین کو شامل کرنے کے مطالبات پر مبنی نعرے لگاتی رہیں۔

اس موقع پر گورنر ہاؤس کے سامنے مسلح طالبان جنگجو بھی موجود تھے جن کے سامنے خواتین نعرے لگا رہی تھیں۔

مظاہرے میں شریک خواتین نے ایک بینر اُٹھا رکھا جس پر درج تھا کہ کوئی بھی حکومت خواتین کے تعاون کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتی۔

مظاہرے کی منتظم صابرہ طاہری نے بتایا کہ اس نوعیت کے مظاہرے کا اہتمام کرنا بہت مشکل تھا۔

اُن کے بقول طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے وہ گھر پر موجود تھیں اور اکثر اوقات روتی رہتی تھیں۔

صابرہ کہتی ہیں کہ پھر اُنہوں نے اپنی پانچ دیگر سہیلیوں سے کہا کہ وہ باہر نکلیں گی اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں اُمید تھی کہ طالبان کے خوف سے خواتین باہر نہیں نکلیں گی لیکن پھر بھی درجنوں خواتین باہر نکلیں اور اپنی آواز بلند کی۔

صابرہ کہتی ہیں کہ طالبان اچانک اتنی خواتین کو دیکھ کر حیران ہوئے اور اُن سے کہا کہ وہ گھروں کو جائیں، لیکن خواتین ڈٹی رہیں اور اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سازی کے آخری مراحل میں ہیں اور بہت جلد نئی کابینہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

افغان طالبان نے نئی حکومت کے خدوخال سے متعلق بتایا ہے کہ نئی حکومت ایک گورننگ کونسل پر مشتمل ہو گی جس کے سربراہ طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ ہوں گے جب کہ نیا صدر بھی اُس کونسل کے ماتحت ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words