طالبان کا چین کی جانب جھکاؤ، امریکہ کی نئی افغان حکومت سے متعلق انتظار کی پالیسی

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نئی افغان حکومت پر عالمی منڈیوں اور اقتصادی امداد کے ذریعے اثر انداز ہوسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں کے ساتھ معاملات غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جب کہ امریکہ افغانستان میں موجود اپنے 100 شہریوں کے انخلا کے لیے کام کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ افغانستان کی نئی اور غیر منتخب حکومت سے روابط کی نوعیت پر دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نئی افغان حکومت پر عالمی منڈیوں اور اقتصادی امداد کے ذریعے اثر انداز ہوسکتا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ امریکہ میں صدر، وزیرِ دفاع یا انٹیلی جینس کمیونٹی سمیت کوئی بھی طالبان کو اچھا نہیں سمجھتا۔ دیگر اسباب کے ساتھ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہم اس بارے میں واضح ہیں کہ ہمیں انہیں تسلیم کرنے کی جلدی نہیں۔ ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب طالبان نے چین اور دیگر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کا عندیہ دیا ہے۔

جمعرات کو طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ طالبان اور چین کے درمیان اعلیٰ قیادت کی سطح پر رابطے ہوئے ہیں۔

سہیل شاہین نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ چین کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ کابل میں چینی سفارت خانہ کام کرتا رہے گا۔ ماضی کے مقابلے میں ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

لیکن فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق بیجنگ نے طالبان سے اعلیٰ سطح پر ہونے والے ان رابطوں کی فوری تصدیق نہیں کی ہے۔

طالبان کے دیگر ذمہ داران نے بھی ٹوئٹر پر برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ سفارتی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بتایا ہے۔ جب کہ قطر اور ترکی نئی افغان حکومت کو کابل ایئرپورٹ کے انتظامات کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی معاونت سے متعلق محتاط طریقے سے قدم اٹھائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی افغان حکومت کی اعانت کا معاملہ زیرِ غور ہے۔ فی الحال وہاں کوئی حکومت سازی نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے پہلے ہمیں حکومت سازی کا انتظار کرنا ہوگا۔ یہ معمولی تکنیکی معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے بعد ہی معاونت کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے اور اس میں نئی افغان حکومت کے اقدامات کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کو ترجیح دے گا کہ خواتین، بچیوں اور اقلیتوں سمیت افغانستان کے عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ وہاں بننے والی حکومت تمام فریقوں پر مشتمل ہونی چاہیے، وہ دہشت گردی کی روک تھام کے اپنے وعدوں کی پاس داری کرے اور عالمی اقدار کا احترام بھی ملحوظِ خاطر رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words