نہ بیٹی بے چاری نہ بیٹا آزاد

لڑکی ہو۔ اپنی آواز اور لہجے کو دھیما رکھو۔ لڑکی کو تھوڑا سلیقہ اور گھر داری سکھا دو۔ سسرال جاکر یہ ڈگریاں کام نہیں آئیں گی۔ قینچی کی طرح زبان چلاو گی۔ تو پھر بسا لیا تم نے گھر۔ چار دن میں طلاق لے کر گھر آ جاو گی۔ عورت کو ہی گھر بسانے کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ شوہر مارے پیٹے بھی تو کیا ہوا۔ بہت سے ایسی خواتین موجود ہیں۔ جو روز شوہر کی مار کھاتی ہیں۔ شوہر جیسا بھی ہو۔ شوہر کا گھر ہی عورت کا اپنا گھر ہوتا ہے۔

سسرال کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ تمہارے ساتھ کچھ زیادتی ہو بھی گئی تو کیا ہوا۔ ضروری نہیں کہ تم اس پر آواز اٹھاو۔ خاموش رہنا سیکھو۔ اسی میں تمہاری اور تمہارے خاندان کی بھلائی ہے۔ آج بھی ایسے تلخ جملوں سے لڑکیوں کی تربیت کی جا رہی ہوتی ہے۔ لڑکیوں کو یہی باور کروایا جا رہا ہوتا ہے کہ تم ایک عورت ہو۔

لڑکیاں، بالکل عورت ہیں۔ مگر کمزور یا بے چاری نہیں۔ بلکہ ان کو مضبوط اور باوقار بنائیں۔ عورت ہونا باعث فخر ہے۔ نہ کہ انہیں کرب میں مبتلا کیا جائے۔

آواز اونچی نہ ہو۔ مگر کم ازکم حق بات کرنے کے لیے تو آواز اونچی کی جائے۔ بھلے زبان قینچی کی طرح نہ چلے۔ مگر زیادتی کی ڈور کاٹنے کے لیے تو یہ قینچی استعمال کی جائے۔ کیونکہ اگر یہ قینچی نہ چلی تو پھر زیادتی کی ڈور لمبی ضرور ہوتی چلی جائے گی، اور یہ ہی ڈور گلے میں پھر کر سانسوں کی ڈور کو کاٹ دے گی۔ رشتے بچانے کے لیے ضرور جھکو مگر اتنا بھی نہ جھکو کہ پاؤں میں ہی روند دی جاو۔ خاموشی اتنی ہی اختیار کرو کہ وہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو۔

لڑکیوں کو مضبوط اور باوقار بنانے کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی تربیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لڑکوں کی تربیت میں بھی ان باتوں کی آگاہی بے حد ضروری ہے کہ عورت کی عزت کرنی ہے۔ چاہیے وہ گھر کی عورت ہو یا پھر باہر کی کوئی خاتون۔ شادی کے بعد گھر کی ذمے داری اٹھانا ہے۔ ایک ذمے دار بیٹے، بھائی کے ساتھ ساتھ ایک ذمے دار شوہر، باپ اور سب سے بڑھ کر ایک ذمے دار انسان بننا ہے۔ عورت پر ہاتھ اٹھانا اپنی مردانگی مت سمجھنا۔

نہ ہی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنا۔ حلال اور حرام رشتوں کے فرق کو سمجھنا۔ اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنا، اپنے اندر برداشت رکھنا اور اپنی غلطی کو ماننا۔ اگر تم شک کی بنا پر اپنی بیوی کے کردار کو کٹہرے میں لا سکتے ہو۔ تو یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہاری بیوی کو بھی پورا حق ہے کہ وہ تمہارے کردار کو بھی پاکیزگی کے ترازو میں تول سکتی ہے۔

ہر چیز کی زیادتی یا کمی۔ دونوں ہی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ بے جا ضد، انا اور خود پرستی اور خودغرضی کے نتائج لڑکا لڑکی دونوں کے لیے خوفناک نکلتے ہیں۔ لڑکی کو مضبوط اور با وقار بنانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ خودسر، انا پرست اور خودغرضی میں اتنی آگے بڑھ جائے کہ اپنے سامنے کسی کی عزت نفس کا خیال نہ رکھے۔ یا پھر اپنی خوشیوں کے خاطر اپنوں کی عزتوں کے جنازے ہی نکال دے۔ بالکل اسی طرح لڑکوں کے لیے بھی ذمے دار، تحمل مزاج، کوآپریٹو انسان ہونے کے ساتھ ساتھ باکردار ہونا بہت ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words