کیا آپ نے کبھی اپنے جسم کے پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کی شکایت محسوس کی ہے؟

عموماً تمام لوگ ہی کسی نہ کسی مرحلے پہ پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد محسوس کرتے رہتے ہیں۔ ویسے تو یہ درد جسم کے کسی بھی پٹھے میں ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر گھٹنے سے نیچے ٹانگ کے پچھلے حصے میں محسوس کیا جاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو جسم میں کسی بیماری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جبکہ کچھ ایسی ہیں جو روزمرہ کے معمولات میں کسی خرابی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہوتی ہیں۔ ہم ان وجوہات کی بات کرتے ہیں جو کسی بیماری کے سبب نہیں بلکہ معمول کی روٹین میں لوگوں کو پیش آ رہی ہوتی ہیں۔

*پانی کی کمی :

اگر آپ کو پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کے مسائل بن رہے ہیں تو اپنے پانی پینے کے معمولات پہ ضرور توجہ دینی چاہیے۔ ممکن ہے آپ پانی کی ضروری مقدار نہ لے رہے ہوں یا آپ کے جسم سے کسی وجہ سے پانی کا اخراج زیادہ ہو رہا ہو جس کے سبب جسم میں پانی کی کمی پیدا ہونے سے پٹھوں کے مسائل بن رہے ہوں۔

* شدید گرمی :

اس کا شکار زیادہ تر شدید گرمی کے موسم میں کام کرنے والا مزدور طبقہ ہو رہا ہوتا ہے۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے جسم سے پسینے کا اخراج بہت زیادہ ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی تو پیدا ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ پسینے میں ضروری منرلز کا اخراج بھی ہو رہا ہوتا ہے (جیسے کہ کیلشیم، پوٹاشیم اور میگنیشیم) یہ سب ہمارے مسلز میں موجود سیلز کو معمول کا کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی کمی کی وجہ سے پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کی شکایت پیدا ہو سکتی ہوتی ہے۔

* ادویات :

کچھ ادویات ایسی ہوتی ہیں جن کے استعمال سے پٹھوں میں کھنچاؤ یا درد کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اگر کسی دوائی کے استعمال کے بعد آپ کو ایسے مسائل بننے لگیں تو اپنے متعلقہ ڈاکٹر سے اس مسئلے کو لازمی ڈسکس کریں اور پھر اس کے مشورے کے مطابق ہی دوائی جاری رکھیں۔

* پٹھوں کو پہنچنے والے خون میں کمی:

اگر تھوڑا سا چلنے پھرنے یا کام کرنے سے آپ کے پٹھوں میں شدید درد پیدا ہونے لگے تو اس کی ایک وجہ ان پٹھوں تک پہنچنے والے خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو سکتا ہے، یا زیادہ آرام پسند زندگی گزارنے والے لوگوں میں ہو سکتا ہے یا پھر انسانی جسم میں پھیلے نسوں کے جال میں پیدا ہونے والے کسی مسئلے کے سبب ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہوتا ہے جو صورت حال کے مطابق علاج تجویز کر سکتا ہے۔

* ماہواری :

خواتین میں عموماً ماہواری کے دوران پیٹ کے پٹھوں میں درد کا مسئلہ بنتا ہے۔ اس کی وجہ ماہواری کے دوران جسم میں پیدا ہونے والے کچھ ہارمونز ہوتے ہیں جو متعلقہ پٹھوں کی حرکت اور کھنچاؤ میں اضافہ کر کے ماہواری میں خون اور ٹشوز کو جسم سے باہر دھکیلنے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ درد قابل برداشت حد سے بڑھ جائے تو ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کی جانی چاہئیں۔

* ورزش :

ورزش ایک ضروری اور صحت کے لیے بہترین فعل ہے لیکن ورزش کرنے والے کو علم ہونا چاہیے کہ اسے کب، کیسے اور کتنی ورزش کرنی چاہیے۔ ورزش کے دوران جسم کے پٹھوں پہ دباؤ پڑتا ہے۔ ہر کسی کے پٹھوں میں دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت الگ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر کسی کو اپنی جسمانی طاقت اور اہلیت کے مطابق ہی ورزش کرنی چاہیے۔ یا تو سخت ورزش نہ کی جائے یا پھر کم سخت ورزش سے اپنا معمول شروع کر کے آہستہ آہستہ ورزش کا دورانیہ اور سختی بڑھانی چاہیے تاکہ جسم کے پٹھوں میں اس سختی کو برداشت کرنے کی اہلیت پیدا ہو سکے۔

اس سب کے علاوہ بچوں میں گروتھ کے دورانیے میں بھی پٹھوں میں درد اور کھنچاؤ کی شکایت سامنے آتی رہتی ہے لیکن عموماً وہ کسی پریشانی کا باعث نہیں ہوتی۔

کسی گرم چیز کا ٹکور کرنے سے یا نیم گرم پانی میں جسم ڈبونے سے پٹھوں کے عمومی درد کی کیفیت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

یا پھر برف سے بھی جسم کے متعلقہ حصے کو آرام مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہی استعمال کرنی چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words