افغانستان میں القاعدہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے: امریکی وزیرِ دفاع

امریکہ کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد عسکریت پسند تنظیم القاعدہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

خبر رساں اداے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق خلیج فارس ریاستوں کے چار روزہ دورے کے اختتام پر کویت سٹی میں جمعرات کو صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے لائیڈ آسٹن نے کہا کہ القاعدہ جس نے 20 سال قبل افغانستان کو امریکہ پر حملہ کرنے کے لیے بیس بنایا تھا وہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

ان کے بقول، امریکہ افغانستان میں القاعدہ کی واپسی روکنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ "پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے اور کیا القاعدہ کے پاس افغانستان میں دوبارہ پنپنے کی صلاحیت ہے یا نہیں.”

لائیڈ آسٹن کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ خود کو منظم کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہے۔ چاہے وہ صومالیہ ہو یا ایسے علاقے جہاں حکومتوں کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔

یاد رہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کو امریکہ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ جس میں مبینہ طور پر القاعدہ نے چار مسافر طیارے ہائی جیک کر لیے تھے۔

آسٹن نے مستقبل میں القاعدہ کی جانب سے افغانستان کو ممکنہ طور پر بطور بیس استعمال کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے طالبان کو باور کرایا ہے کہ ہم ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ ایسا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

واضح رہے کہ طالبان کے امریکہ کے ساتھ فروری 2020 میں ہونے والے معاہدے میں طالبان رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کے لیے خطرہ بننے والی القاعدہ یا کسی اور تنظیم کی حمایت نہیں کریں گے۔

لیکن امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ طالبان نے القاعدہ سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں اور کئی ریاستیں بشمول خلیجی عرب ریاستوں کو تشویش ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے القاعدہ کو دوبار منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ خلیج فارس میں اپنے طیاروں اور نگرانی کے کڑے نظام کو بروئے کار لا کر القاعدہ سمیت افغانستان سے اُبھرنے والے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

البتہ اُنہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب افغانستان میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس بیسز کی مدد کے بغیر کافی مشکل ہو گا۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words