کرونا وائرس کا مستقبل۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے تازہ ترین بیان کے مطابق ہمارا کرونا وائرس سے چھٹکارا فی الحال ممکن نہیں ہے۔ ویکسین اس بات کی قطعی گارنٹی نہیں ہے کہ آپ کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوسکتے بلکہ یہ صرف علامات کی شدت یعنی وینٹی لیٹر تک جانے اور خدانخواستہ کرونا کے باعث موت کے چانسز کو کم سے کم کر دیتی ہے۔

کرونا وائرس مسلسل میوٹیٹ ہو رہا ہے یعنی ارتقا پذیری کے تحت اپنی ہیئت تبدیل کر رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا سائنسی ثبوت اس کا ڈیلٹا ویریئنٹ ہے جو کرونا وائرس سے دس گنا سے ساٹھ گنا تک زیادہ خطرناک ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس دیگر تمام وائرل پارٹیکلز کی طرح اپنی ہیئت تبدیل کر رہا ہے اور اس کے مقابلے میں ویکسین کو بھی اسی طرح زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں بوسٹر ڈوزز اور ویکسین کو براڈ سپیکٹرم کرنا شامل ہیں۔

لیکن اس تمام صورت حال سے پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔

بیسویں صدی کے اوائل میں جب ”سپینش فلو“ کا قاتل وائرس منظر عام پر آیا تھا تو دنیا کی بعینہ یہی صورت حال ہو گئی تھی جو کرونا وائرس کے باعث ہوئی ہے۔ اسی طرح ماسک لازم قرار دے دیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن شروع ہو گئے تھے۔ اور تمام ممالک نے اپنی سرحدوں پر قرنطینہ سینٹرز بنا دیے تھے۔ یہ سپینش فلو اپنے عروج پر تھا تو پوری دنیا میں سات کروڑ انسانی جانیں لے گیا تھا۔ موجودہ کرونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتیں اس تعداد کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔

لیکن پھر آہستہ آہستہ انسانوں کے مدافعتی نظام نے اس سپینش فلو کے خلاف مدافعت قائم کرنا شروع کی اور ہوتے ہوتے اب یہ سپینش فلو ایک عام نزلہ زکام کی حیثیت اختیار کر گیا۔ آج ہم میں سے ہر ایک کو سال میں ایک دو بار یہ فلو ہوجاتا ہے اور ہم میں سے کوئی بھی اسے لفٹ نہیں کراتا۔ دو چار دن بعد خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ یہی سپینش فلو انیسویں صدی کے اوائل میں موت کا پیغام تھا۔ علامہ اقبال کے خطوط میں بھی اس قاتل وبا کا ذکر موجود ہے۔

وجہ وہی ہے۔ یعنی انفلواینزا وائرس کا مسلسل ارتقا پذیر ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کا مدافعت قائم کرلینا۔

اب اس فلو کے خلاف دنیا کی اکثریتی آبادی ہرڈ امیونٹی حاصل کر چکی ہے۔ جبکہ بہت معمولی سی آبادی کو ویکسین کی ضرورت پڑتی ہے۔ انفیکشیئس ڈیزیزز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا مستقبل بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن اس کے لئے پہلے مرحلے میں دنیا کی اکثریتی آبادی کا ویکسینیٹ ہونا لازم ہے جو کہ پوری دنیا نے شروع کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے بیان کا آخری حصہ البتہ خاصا پریشان کن ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کچھ خطے عالمی وباؤں اور دیگر خطرناک بیماریوں کو پوری پوری صدی حفاظت کے ساتھ پالتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا غیر سائنسی رویہ، احتیاطی تدابیر کا اختیار نہ کرنا، ویکسین کے خلاف کھڑے ہوجانا اور بیماری کا چھپانا شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری مہذب دنیا سے پولیو اور ٹی بی جیسا موذی مرض ختم ہو چکا ہے مگر کچھ سائنس دان عقل کل خطوں میں ان امراض کے کیسز آج بھی نکل آتے ہیں۔

یہ خطے کون سے ہیں؟
ہم کچھ عرض کریں گے تو تکلیف ہوگی۔
بہتر ہے آپ لوگ خود ہی سرچ کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words