وکلاء اور صحافی تنظیمیں سڑکوں پر
موجودہ کٹھن حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے معروف شاعر فیض احمد فیض کی وہ غزل یاد آ گئی جس کا کچھ حصہ میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں ؛
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بہت ہے ظلم کہ دست بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہل ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں
آج ایک بار پھر سے وہی حالات دوبارہ جنم لے رہے ہیں جس کا ذکر فیض احمد فیض نے اپنی شاعری میں کیا ہے، وہی وکلاء تنظیمیں ان منصفوں کے خلاف سڑکوں پر ہیں جنہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں ان منصفوں کو بحال کرانے کے لیے لاٹھیاں، ہتھکڑیاں اور جیلوں کی سختیوں کو برداشت کیا تھا۔ جب عدلیہ بحالی تحریک کا آغاز ہوا تو اس وقت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد تھے، انہوں نے مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر عدلیہ بحالی تحریک شروع کی اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا، جب ان کا قافلہ گوجرانوالہ پہنچا تو اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدلیہ کو بحال کریں گے چنانچہ میاں نواز شریف نے عدلیہ بحالی کی مبارک باد سید یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری کو دی، اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے اور یوں بلوچستان بار ایسوسی ایشن سب سے آگے پیش پیش تھی، میاں نواز شریف نے سینئر وکلاء سے مشاورت کے بعد گوجرانوالہ میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
آج ایک دفعہ پھر بظاہر حالات اسی کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ پورے پاکستان کے تمام وکلاء سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف میدان عمل میں آ چکے ہیں، وکلاء اور سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب چیف جسٹس نے اپنے من پسند جونیئر ججز کو اٹھا کر سپریم کورٹ میں تعینات کیا، اس سے پہلے بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس منیب اختر کو ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں ترقی دی اور جبکہ موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ ہائیکورٹ کے جونئیر جج محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی جونئیر خاتون جج عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنا چاہا، اس تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا اور اس دھرنے میں پورے پاکستان کے وکلاء نے چیف جسٹس اور وزیر قانون کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور آئندہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا عندیہ دیا اور اس زبردست احتجاج کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک سپریم کورٹ کی جج نہ بن سکیں۔
وکلاء یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ چیف جسٹس اپنے من پسند ججوں کو سپریم کورٹ میں تعینات کر کے آمرانہ اقدامات کرنے کی جستجو میں ہیں جن کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور بظاہر جمہوری حکومت میں پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ پورے پاکستان کی تمام بار ایسوسی ایشنز اپنے حقوق و قانون کی بالادستی کے لیے میدان عمل میں نظر آئی ہیں۔
وکلاء کے بعد صحافت جو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے وہ بھی موجودہ حکومت کے دور میں محفوظ نہیں ہے، موجودہ حکومت کا چند صحافیوں کے اوپر ظالمانہ وار کرنے کے بعد دل نہیں بھرا تو انہوں نے اپنے ایک قانون (پی ایم ڈی اے ) کے ذریعے صحافی برادری کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ جب صحافی برادری کو اس کالے قانون کا علم ہوا تو انہوں نے پورے پاکستان کے شہروں میں واقع پریس کلبوں میں اپنے احتجاج ریکارڈ کروائے اور ان احتجاج کو میڈیا کی زینت بھی بنایا۔
اس بل کے متعلق جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد صحافی برادری کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور ساتھ ساتھ جو جعلی اور من گھڑت خبریں پھیلائی جاتی ہیں ان کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے اور ہم جھوٹ سے پاک صحافت چاہتے ہیں لیکن جب اس کے جواب میں سینئرز صحافیوں سے ان کی رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہمیں شکنجے میں لاکر ہمارا گلا دبانا چاہتی ہے تاکہ ہم حکومت کی نا اہلی کو عوام تک نہ پہنچائیں اور صحافت بھی حکومت کی مرضی سے کریں۔
یہاں پر ہمیں ایک عمومی بات اپنے ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اس وقت پاکستان میں سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہے، ججز ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہے لیکن جب حکومت نے وکلاء تنظیموں اور صحافی برادری کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنے کی کوشش کی تو وہ اپنے حق کے لیے اکٹھے ہو گئے اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ صحافی برادری اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر صحافی برادری اسی طرح متفق ہو کر چلتی رہی تو کوئی بھی انہیں شکست نہیں دے سکتا لیکن اگر یہ اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ قانون ان کے لیے مزید دشواری پیدا کر دے گا اور صحافت ایک غلامی کی حیثیت اختیار کر لے گی۔


