افغانستان کا داخلی استحکام اور طالبان کا چیلنج

افغانستان کا استحکام محض افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت علاقائی و عالمی ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے مجموعی طور پر علاقائی اور عالمی سیاست کے تناظر میں اپنے آپ کو کھڑا کر کے دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ یہ بات پاکستان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد اگر یہ لوگ وہاں داخلی سیاست میں سیاسی، سماجی، انتظامی اور مالیاتی طور پر کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا سارا نزلہ یا الزام پاکستان پر ڈالا جائے گا۔

بھارت پہلے ہی پاکستان کی مخالفت میں اس بیانیہ کو تقویت دے رہا ہے کہ افغان طالبان کی افغانستان میں سیاسی برتری یا جو اقتدار اس نے حاصل کیا ہے وہ ان کا اور پاکستان کا گٹھ جوڑ ہے۔ اسی بیانیہ کی بنیاد پر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بھارت کا افغانستان کے تناظر میں پاکستان مخالف ایجنڈا نہ صرف سرفہرست ہے بلکہ اس میں زیادہ شدت نظر آتی ہے۔

افغانستان کے تناظر میں افغان طالبان حکومت کو چار بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ اول وہ تمام فریقین پر مشتمل ایسی تصفیہ طلب عبوری حکومت بنا سکیں جو افغانستان میں موجود تمام دھڑوں سمیت عالمی دنیا کے لیے قابل قبول ہو۔ دوئم عالمی دنیا طالبان کی حکومت کو قبول کرے او راس کے ساتھ مل کر دو طرفہ بنیادوں پر افغانستان تعمیر نو اور گورننس کے نظام کو زیادہ موثر اور شفاف بنایا جائے۔ اسی طرح طالبان خود کو دنیا سے تنہا رکھنے کی بجائے خود کو دنیا سے جوڑیں اور خود کو ایک بڑے عالمی فریم ورک میں دیکھیں۔

یہ عمل ان کی سیاسی ساکھ کو قائم کرنے یا قبولیت کو ممکن بنا سکے گا۔ سوئم طالبان کو ماضی کے اپنے کردار سے باہر نکل کر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے طالبان ہیں اور ہم سیاسی مخالفت میں انتقام لی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے اور انسانی حقوق سمیت تمام فریقین کی جان و مال کی حفاظت کریں گے۔ چہارم وہ کس حد تک اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کریں گے اور جو بھی ان کے بارے دہشت گردی کے تناظر میں خدشات ہیں ان کو ختم کیا جائے گا او راس تاثر کو طاقت دی جائے گی کہ ہماری سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

اس وقت افغان طالبان ایک حقیقت ہیں اور عالمی دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ان کو قبول نہ کیا گیا یا ان کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے امکانات کو آگے نہ بڑھایا گیا تو اس کا نتیجہ افغانستان میں پہلے سے موجود بدامنی میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب خود طالبان اپنے آپ کو ماضی سے مختلف بنا کر پیش کر رہے ہیں تو ہمیں ماضی میں خود کو قید کرنے کی بجائے حال اور مستقبل کی طرف دیکھ کر اپنی پیش قدمی کرنی ہوگی۔

یہ نقطہ کافی حد تک بجا ہے اور وزن بھی رکھتا ہے کہ طالبان حکومت عالمی دنیا سے اگر حمایت حاصل کرتی ہے تو اس کا بڑا انحصار ان کی حکمرانی کے طرز عمل او ران پالیسیوں سے ہوگا جو عالمی دنیا کو ان کے قریب کرسکے گی۔ اس لیے اب طالبان کے بارے میں ہم کو مفروضوں یا ماضی سے باہر نکل کر ان کے عملی اقدامات کو دیکھنا بھی ہوگا اور ان کی نگرانی بھی کرنی ہوگی کہ وہ کس حد تک خود عالمی توقعات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ طالبان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ وہ دنیا سے کٹ کر اپنا نظام نہیں چلا سکیں گے او ران کو اگر اپنے اقتدار کو یا اس کی ساکھ کو قائم کرنا ہے تو خود کو سب کے لیے قابل قبول بنانا ہوگا۔ افغان عوام میں یہ اعتماد پیدا کرنا بھی طالبان حکومت کی بڑی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے کہ وہ کسی کے خلاف نہیں اور سب کو اپنی اپنی سوچ اور فکر کے ساتھ کام کرنے کی ہوگی۔

ایک مسئلہ سیاسی بنیادوں پر تصفیہ طلب حکومت کے قیام کا ہے۔ ابتدائی طور پر جو عبوری سیٹ آپ آیا ہے اس کے پہلے راونڈ میں طالبان کی اپنی برتری یا قریبی ساتھی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ دوسرے اور تیسرے راونڈ میں یہ لوگ کس حد تک ایک Inclusiveحکومت بنا کر ان تمام خدشات کو دور کریں گے کہ طالبان تن تنہا افغانستان پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ مکمل طور پر Inclusiveحکومت کا قیام آسان نہیں ہوگا مگر اس حکومت کی تصویر میں دیگر فریقین کی شمولیت ہی سب کی قبولیت کو ممکن بنا سکتا ہے۔

یہ بات بجا ہے کہ طالبان کے اندر بھی دو سطح کے گروپس موجود ہیں جو Inclusive حکومت کی حمایت یا مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ ایسے میں طالبان کی حکومت کو داخلی محاذ پر بھی جو بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ان کا اپنا داخلی استحکام اور طالبان کی سطح پر تمام لوگوں کو راضی کرنا او ران معاملات سے نمٹنا ہے جو داخلی محاذ پر طالبان کو کسی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ اس بار طالبان کو ماضی کے مقابلے میں عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل ہے۔ ماضی میں صرف طالبان کی حکومت کو پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا مگر اس بار یہ حمایت زیادہ ہو سکتی ہے۔

افغان طالبان کو داخلی استحکام کو یقینی بنانے میں ایک بڑا چیلنج بھارت سے ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت نے اپنی پالیسی میں واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ سمیت بھارت سے بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری اور اقتدار بھارت اپنے لیے ایک بڑی ناکامی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کا مجموعی میڈیا بھارت کی افغان پالیسی پر شدید تنقید کر رہا ہے اور افغان طالبان سمیت خود پاکستان پر جھوٹے الزامات پر مبنی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں مستحکم افغانستان یا مضبوط خطہ کی سیاست اس کا ایجنڈا نہیں بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان دونوں پر دباو اور منفی ایجنڈے کی بنیاد پر ایک دباو کی سیاست پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے سامنے پاک چین موثر تعلقات، چین، روس، پاکستان، ایران اور ترکی کے باہمی رابطے، سی پیک منصوبہ اور افغانستان پر اس کی گرفت کی کمزوری جیسے مسائل اور افغان تناظر میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔ ایسے میں خود افغان طالبان حکومت کو بھی بھارت کی سیاسی چالاکیوں سے خبردار رہنا ہوگا اور ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی کہ بھارت افغانستان میں عدم استحکام پیدا نہ کرسکے۔

بھارت سمجھتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی سطح پر بڑھتی ہوئی قربت اور طالبان کی جانب سے پاکستانی کردار کی پذیرائی خطہ کی سیاست میں ان کو کمزور اور پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں طاقت فراہم کرے گی۔ اسی لیے بڑی عالمی طاقتوں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ وہ اس بات کا جائزہ یا نگرانی کرے کہ بھارت کا رویہ کیونکر افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا ہے اور کیا امریکہ سمیت عالمی قوتیں بھارت کے موجودہ طرز عمل پر اسے جوابدہ بنائیں گی یا ڈھکے چھپے اس کی حمایت کر کے افغان امن کو نقصان پہنچائیں گی۔

امریکہ سمیت بڑی طاقتیں افغانستان میں طاقت کی جنگ ہار چکے ہیں او ران کو اس جنگ سے یہ سبق مستقبل کے تناظر میں حاصل کرنا ہوگا کہ ہمیں افغانستان کے تناظر میں ڈکٹیشن کی نہیں بلکہ مشترکہ تعاون پر ہونی چاہیے اور معاملات کا حل بھی سیاسی تفہیم اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔ اس وقت افغانستان میں سیکورٹی، خوراک معاشی صورتحال، حکمرانی کا نظام اور عوام کو ساتھ جوڑنے جیسے اہم مسائل درپیش ہیں۔

اس لیے طالبان حکومت کو بلاوجہ غیر ضروری معاملات میں الجھنے یا خود کو دھکیلنے کی بجائے اپنی توجہ افغانستان کے داخلی معاملات پر دینی چاہیے۔ کیونکہ جس حد تک طالبان داخلی محاذ پر اپنی ساکھ اور کنٹرول بنانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ یقینی طور پر علاقائی یا خارجی محاذ پر بہتر حکمت عملی اختیار کر سکیں گے۔ طالبان جو عملی طور پر امتحان گاہ میں ہیں اور سب کی نظریں ان ہی پر ہیں کہ وہ کیسے افغانستان کے بحران کو حل کر کے ایک مستحکم افغانستان میں تبدیل کرسکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words