کیا انتہا پسندوں کو معاف کرنے سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی؟

میڈیا پر سرکار دربار کے خود ساختہ ترجمانوں کے ذریعے یہ خبر عام کرنے کے بعد کہ حکومت پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے انتہاپسند عناصر کو عام معافی دے کر اس خطرناک دہشت گرد گروہ سے نجات حاصل کرسکتی ہے، اب صدر مملکت عارف علوی نے ایک انٹرویو میں عام معافی کے بارے میں سرکاری منصوبے کی مزید تفصیلات بتائی ہیں۔ یہ بات البتہ بدستور جواب طلب رہے گی کہ کیا انتہاپسند عناصر کے جرائم معاف کردینے سے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا؟

آج پاکستانی حکومت افغان طالبان کی ترجمان بنی ہوئی ہے اور دنیا سے کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کی نئی حقیقت حال کو تسلیم کیا جائے۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے اس ملک کے لئے ہمہ قسم اقتصادی امداد بحال کی جائے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ دنیا کے اہم ممالک کی طرف سے ایسی پیش قدمی افغانستان اور اس راستے سے وسطی ایشیا میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ افغان امن پاکستان کے لئے اقتصادی احیا کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہے کیوں کہ وسطی ایشیا کے ممالک سے تجارت کے متعدد معاہدے کئے گئے ہیں اور وہاں سے آنے والی گیس پائپ لائن اور بجلی کا حصول پاکستانی معیشت کے لئے بے حد اہم ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی سے جیو اکنامک حکمت عملی کا پاکستانی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ پاکستانی حکام موجودہ صورت حال میں سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ اس ملک سے بھارتی اثر و نفوذ کے خاتمہ کا سبب بنی ہے۔ اس طرح پاکستان ’تزویراتی گہرائی‘ کے دیرینہ خواب کو مکمل ہوتے دیکھ رہا ہے اور خوش ہے۔ حالانکہ عمران خان قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ اب اسٹریٹیجک ڈیپتھ پاکستان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

ڈان نیوز کو دیے گئے انٹرویو سے تاہم یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان افغانستان سے بھارتی رسوخ کے خاتمہ کو اتنی بڑی کامیابی سمجھ رہا ہے کہ وہ طالبان کو کسی بھی طرح خوش کر کے انہیں بھارت سے دور رکھنے کو ہی اپنی خارجہ، اسٹریٹیجک اور معاشی کامیابی سمجھتا ہے۔ حالانکہ طالبان کی حکومت اور اس کی حکمت عملی کے بارے میں فی الوقت کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہے۔ کابل میں حکومت سازی کے لئے تین ہفتے سے بھی زائد وقت لیا گیا۔ گزشتہ ہفتے بالآخر 33 رکنی کابینہ کا اعلان ہؤاتو یہ ان تمام وعدوں کے برعکس تھا جن میں تمام گروہوں کو شامل کرنے اور وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کا عہد کیاگیا تھا۔ طالبان کے ترجمان امریکہ کے ساتھ فروری 2020 میں طے پانے والے امن معاہدہ کا ذکر تواتر سے کرتے ہیں اور اکثر امریکہ کو اس معاہدہ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیاجاتا ہے لیکن اسی معاہدہ میں طالبان نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ وہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے نئی افغان حکومت اور آئین کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ البتہ امریکی انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی بین الافغان مذاکرات کی بجائے افغانستان کو فتح کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرنے کا اقدام کیا گیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز پہلے جس عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا، اس کے بارے میں بعد ازاں یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ وہ 11 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گی۔ تاہم آج اچانک یہ اطلاع دی گئی کہ اب یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایک لحاظ سے تو یہ فیصلہ خوش آئیند ہے کہ ایک ایسے دن افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت نے حلف اٹھانے سے گریز کیا ہے جسے امریکہ میں نائن الیون میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے۔

یہ تو واضح نہیں ہے کہ طالبان نے اس معاملہ کی اسی حساسیت کی وجہ سے حلف برداری ملتوی کی ہے لیکن اس سے بہر حال طالبان حکومت کے ابتدائی دور میں ہی امریکہ جیسی سپر پاور کے ساتھ ضد اور نفرت کے تسلسل کا رشتہ استوار ہوجاتا۔ اس سے گریز بہرحال ایک دانشمندانہ اقدام ہے۔ لیکن حکومت کے اعلان اور پھر حلف برداری کی تنسیخ جیسے معاملات سے کابل میں پائے جانے والی بے یقینی اور رابطوں میں کمی کی صورت حال کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ طالبان کو کابل پر قبضہ کی صورت میں 15 اگست کو جو اچانک کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ ذہنی طور سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے بھی اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ طالبان قیادت میں ابھی تک چین آف کمانڈ کی شدید کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ کون کس معاملہ میں حتمی بات یا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے اور اس کی کہی ہوئی بات پر کس حد تک عمل ہوسکے گا۔

اس بے یقینی میں بھی البتہ صدر مملکت ایک انٹرویو میں ایک ایسا پالیسی بیان دے رہے ہیں جو مستقبل میں پاکستانیوں کے امن و خوشحالی کے بارے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ ٹی وی انٹرویو میں صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان بدستور پاکستان کے لئے خطرہ ہے لیکن ’طالبان کے دوسرے تیسرے درجے کے قائدین نے عندیہ دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ارکان افغانستان میں رہ سکتے ہیں لیکن انہیں پاکستان کے خلاف کسی قسم کی سرگرمی سے منع کیاجائے گا‘۔ اس تناظر میں صدر علوی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی ایسی صورت میں ان عناصر کو عام معافی دینے پر غور کرے گا جو دہشت گردی سے تائب ہو کر آئین پاکستان سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے ہتھیاررکھ دیں۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین آئینی منصب پر فائز ایک شخص پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے طالبان کے دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت کے وعدوں کا حوالہ دے کر ایک ایسی پالیسی لائن کا اشارہ دے رہا ہے جو ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے ایک نئے اور ناقابل برداشت رجحان کا سبب بن سکتی ہے۔

طالبان سے پاکستانی حکومت کی ’شفقت و سرپرستی‘ کے تمام تر اعلانات اور کاوشوں کے باوجود اب ملک کا صدر اہل پاکستان کو یہ بتا رہا ہے کہ ایسے اہم معاملہ پر پاکستانی قیادت طالبان کے کسی اعلیٰ درجے کے لیڈر سے کوئی وعدہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ ہوں یا طالبان سے رابطے کرنے والے کوئی دوسرے پاکستانی عہدیدار، انہیں دوسرے تیسرے درجے کے قائد ہی تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں مشورے دے رہے ہیں۔ صدر عارف علوی کے بیان سے یہ واضح ہے کہ یہ تجویز طالبان ہی کی طرف سے دی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے لیڈروں اور ارکان کو افغانستان سے جانے کے لئے نہیں کہیں گے۔ واضح رہے پاکستان ٹی ٹی پی کے ایسے متعدد ارکان اور لیڈروں کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے جو گزشتہ کچھ عرصہ میں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم کابل پر قبضہ کے بعد جیلوں سے جو لوگ رہا ہوئے تھے ان میں پاکستان کو مطلوب ٹی ٹی پی کے ایسے متعدد ارکان بھی شامل تھے جو سابقہ افغان حکومت نے پاکستان کے بہت اصرار کے بعد گرفتار کئے تھے۔ پاکستان ابھی تک طالبان سے ان لوگوں کی حوالگی کے بارے میں کوئی وعدہ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

اب صدر عارف علوی کے ذریعے قوم کو یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے طالبان کی نچلے درجے کی قیادت ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے مشروط تعاون کی پیشکش کررہی ہے۔ اس صورت حال سے مستقبل قریب میں ان مسائل کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے جو افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پیش آسکتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان ملک میں خطرناک دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے اور طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد بھی اس کی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان کے کسی لیڈر یا ترجمان نے ابھی تک ٹی ٹی پی کے کسی حملہ کی مذمت کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ پاکستان کو یہ تجویز ضرور دی گئی ہے کہ اگر وہ ٹی ٹی پی کے ارکان اور لیڈروں کو معاف کر دے تو علاقے میں امن ہوسکتا ہے۔

انٹرویو کے دوران جب صدر مملکت سے دریافت کیا گیا کہ’ کیا اس میں ملافضل اللہ جیسے دہشت گرد بھی شامل ہو سکتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ ملا فضل اللہ ایک امریکی ڈرون حملہ میں 14جون 2018 کو افغانستان کے صوبہ کنڑ میں مارا گیا تھا۔ اس سوال پر صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’میں کسی کا نام نہیں لیتا لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جن لوگوں کا دہشت گردی میں ملوث ہونے سے پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا تو حکومت انہیں عام معافی دینے پر غور کرسکتی ہے۔ ایسے سب لوگ جو تحریک طالبان پاکستان کے نظریہ کو چھوڑ کر آئین پاکستان کے ساتھ وفاداری کا عہد کریں، وہی اس معافی کے مستحق ہوں گے‘۔ صدر کا خیال ہے کہ اس طرح کےانتظام سے جس میں ایک طرف طالبان، ٹی ٹی پی کو افغانستان سے سرگرمیاں کرنے سے روکیں اور دوسری طرف پاکستان عام معافی کے ذریعے انہیں معاشرے میں ضم ہونے کا موقع فراہم کرے، امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

یہ خواہش صریح خام خیالی کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مذہب کی بنیاد پر ہتھیار اٹھا کر ایک ریاست کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے کبھی تائب نہیں ہوتے۔ وہ ایک خاص طرح کے مزاج کی پیداوار ہوتے ہیں، جب تک اس مزاج کو ختم کرنے کے لئے حالات سازگار نہ بنائے جائیں، دہشت گردی کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے والے عناصر کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس کے علاہ ریاست اگر آرمی پبلک اسکول سانحہ جیسی دہشت گردی میں ملوث اور اپنے فوجیوں و شہریوں کو ہلاک کرنے والے لوگوں کو عام معافی کا اعلان کرے گی تو وہ دراصل ایسی تخریبی قوتوں کے سامنے ریاستی کمزوری کا اظہار ہوگا۔

یہ ایک ایسا حساس اور سنگین مسئلہ ہے جس پر ملک کے آئینی سربراہ کی بجائے وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں سرکاری پالیسی اور نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔ ٹی ٹی پی کے سوال پر قومی اتفاق رائے کے بغیر اختیار کی گئی پالیسی ملک میں امن کی ضامن تو نہیں بنے گی لیکن نت نئے دہشت گرد گروہوں کو یہ یقین ضرور دلائے گی کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words