تنگ نظری کا ریلا اور مختلف مساجد میں نماز کا تجربہ


اوائل گرمی کے دن تھے۔ آپ کو خبر ہو گی لائل پور میں گرمیوں کا اوائل بھی شباب ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کالج میں تب تیسرا سال تھا۔ شغل کرنے کو کچھ نہ تھا اور معیشت کا بار ابا حضور اٹھا رہے تھے۔ ہفتے میں ایک ادھ دن عشاء کی نماز مختلف مساجد میں ادا کی جاتی تھی تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ رواداری کے پیڑ کی جڑیں کس قدر گہری ہیں۔ اس دن بھی عشاء کی نماز ادا کرنے ایک مسجد میں گئے جس کا شمار لائل پور کی بڑی مساجد میں ہوتا ہے۔

پہلی رکعت گزر چکی تھی، دوسری رکعت کے نصف میں تیسری صف کی بائیں جانب کے آخری سرے پر کھڑے ہو گئے۔ یہ پہلے سن لیجیے کہ ہم رفع الیدین اور آمین بالجہر کے قائل ہیں۔ اس لیے دوسری رکعت میں معمولی سی اونچی آواز میں آمین کہا۔ جب امام نے نماز ختم کی تو ہم بقیہ رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ دو چار لمحے بعد جب سلام پھیرا تو ایک صاحب داہنے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ اونچی آواز میں آمین کہنی ہوتی ہے تو اپنی مسجد میں جا کر کہا کرو، اگر ادھر نماز پڑھنی ہے تو دل میں آمین کہنا ہو گا، اور پھر اس مسجد میں ہم نے کبھی نماز نہ پڑھی۔

وہ صاحب مسجد کے بڑے عہدے داروں میں سے تھے، شاید اس لیے دھڑلے سے تنبیہ کر گئے۔ شکایت ان کے رویے کی کس سے کرتے، بات کرنے کا حوصلہ تھا ہی نہیں۔ فوراً ً اٹھے اور ہاسٹل کو واپس ہو گئے۔ ایک سوال نے خوب پریشان کیا کہ ہماری کون سی مسجد ہے جس میں ہمیں نماز ادا کرنی ہو گی۔ جو مظلوم اپنے باپ کی کمائی پر گزر بسر کر رہا تھا، وہ مسجد کی ملکیت کیسے حاصل کرتا۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس فرقے کی مسجد میں نماز ادا کیا کرو جو رفع الیدین اور آمین بالجہر کا قائل ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ تھا اور اب بھی ہے کہ کسی فرقے سے وابستگی نہیں رکھی، اس لیے اپنی کوئی مسجد بھی نہیں ہے۔ اندازہ کیجیئے کہ خدا کے گھروں کو کمرشل کر لیا گیا ہے۔ اب مساجد خدا کے گھر کم اور فرقہ پرستوں کے سر چھپانے کی جگہ زیادہ ہیں۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ دوسری مسجد میں بھی پیش آیا۔ جب آمین اونچی آواز میں کہا تو سلام پھیرتے امام صاحب اور بیس پچیس مقتدی اس گستاخ کو تلاش کرنے لگے جس نے آمین بالجہر کہا تھا۔ امام اور اگلی صف والے تو ابھی تلاش میں تھے لیکن ہمارے دائیں بائیں والے خوب جانتے تھے کہ شرپسند کون ہے۔ نظریں ایک وجود پر اکٹھا ہونا شروع ہوئیں۔ اس وجود نے جلدی سے جنبش کی اور جوتا پہن پر باہر نکل آیا۔ مسجد چوں کہ سڑک کنارے تھی اس لیے جلدی سے سڑک کے دوسری جانب چلا گیا کہ حملے کی صورت میں دوڑ لگا کر گلیوں میں گم ہوا جا سکے۔

یہ دو واقعات ہمارے ساتھ پیش آئے جو آپ کو سنا رہے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ دوسرے فرقے کی مسجد میں نماز ادا کرنا ممنوع ہے۔ یہ کہیں لکھا نہیں ہوتا لیکن اس معاملے میں خاموشی کی زباں سبھی جانتے ہیں۔ ایک مسجد میں بورڈ پر لکھا ہوا تھا کہ دوسری بار جماعت کروانا سختی سے منع ہے۔ اس سلسلے میں صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر چند افراد جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے قاصر رہتے اور دیر سے مسجد پہنچتے تو وہ افراد دوبارہ جماعت کروا لیتے، صحاح ستہ دیکھ لیجیے، یقین آ جائے گا۔

ابھی ابھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے تیسرا واقعہ بھی یاد آ گیا ہے۔ ایک دفعہ عصر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی تو امام کے ساتھ دعا نہ مانگی کہ مصروف کچھ اذکار میں تھے۔ پھر ایک صاحب نے گمراہی کی نشاندہی کی کہ تم نے دعا کیوں نہیں مانگی، نماز کے بعد دعا مانگنا ضروری ہے۔ دلیل ان کی یہ تھی کہ جس طرح مزدور اپنی اجرت کا مطالبہ کرتا ہے، اسی طرح تمھیں بھی اجرت مانگنی چاہیے۔ انہوں نے اپنی راہ لی جب کہ ہم نے سر پکڑا۔

دوسرے فرقے کے لیے لوگ ایسا رویہ رکھتے ہیں کہ پناہ خدا کی۔ کم سے کم سزا جو مخالف فرقے کی گردانی جاتی ہے وہ جہنم کے اوپر والے گڑھے ہیں۔ زیادہ علم رکھنے والے تو مخالفوں کو جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں دیکھتے ہیں۔

چند سال قبل ایک پروگرام میں کاشف عباسی نے چاروں بڑے مسالک کے علماء کو مدعو کیا تھا، وحدت امت کا پیغام جانا تھا نہ گیا، اور بحث ایسی ہوئی کہ ہم جیسے جاہل بھی خود کو مفتی اعظم سمجھنے لگے۔ ایک عالم کہنے لگے کہ ایک فرقے کو چھوڑ کر تمام فرقے جہنم میں جائیں گے، اور یقیناً یہ فرقہ انہی کا ہو گا۔

اہل مذہب اس قدر تنگ نظر ہیں کہ زوال کا کا ریلا سب کچھ بہا کر لے گیا ہے۔ اب بات علماء کی نہیں رہی، عوام بھی یہی سمجھتے ہیں کہ مخالف پتھروں کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ کسی سے اگر دین کا پوچھ لو تو تنہا علم کا تنہا ماخذ اس کے فرقے کے عالم کی تقریر ہو گی۔

ایک صاحب دین کے مسئلے پر گفتگو کرنے لگے کہ ایسے ہونا چاہیے تھا۔ ان کے کچھ اعتراضات بھی تھے۔ بڑے شد و مد سے اپنے دلائل جاری رکھے ہوئے تھے اور ہم ہنوز چپ۔ وہ اپنی تقریر کے دوران یہی سمجھتے رہے کہ مخالف کو شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ تقریر کے اختتام پر ہم نے کہا کہ آپ کی ساری باتیں درست ہیں مگر سر دست یہ تو بتائیں کہ کون کون سی کتابوں سے آپ نے یہ معلومات حاصل کی ہیں، ان کی کتابوں کا بس ایک نام تھا، ان کے فرقے کا متعصب عالم۔

ایک عرصے سے جمعے کا خطبہ سننا چھوڑ دیا ہے کہ کسی مسجد میں چلے جاؤ خطبہ ان چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے، اپنے فرقے کے فضائل، دوسرے فرقے کی مذمت، اپنے اکابر کے مافوق الفطرت واقعات اور احادیث کے نام پر رطب و یابس۔ دو ستمبر کے جمعے والے دن شاید قسمت خراب تھی اس لیے کچھ وقت رہتے مسجد چلے گئے۔

امام صاحب ایک فرقے کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے اسے خوب لتاڑ کر جذبہ جہاد کو ابھار رہے تھے۔ اور مطالعہ پاکستان میں لکھے ہوئے ستمبر 1965 ء کی جنگ کے واقعات بیان کر رہے تھے۔ ہمارا ایمان ہے کہ امام صاحب نے بیان کیے جانے والے واقعات کی تصدیق نہیں کی ہو گی، اس لیے صحیح مسلم کی حدیث نقل کیے دیتے ہیں، کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے فقط اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بغیر تصدیق کے آگے بیان کر دے۔ واقعات تو شاید اور بھی یادداشت کے پردے پر نمودار ہو جائیں، لیکن کثرت الفاظ کا خوف بھی دامن گیر ہے، اس لیے کہانی یہیں ختم کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS