توہم پرستی – ایک پیر بابے کی کہانی

جہاں اس سائنسی دور میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے جانے کی کوشش میں ہے، نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک مختلف موضوعات پر ریسرچز کر رہے ہیں، یہاں تک کہ دوسرے سیاروں پر دنیا بسانے کی سوچ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں مذہبی انتہاپسندی عروج پر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اور لعنت جو ہمارے معاشرے میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے، وہ ہے توہم پرستی، جس میں جادو ٹونہ، تعویذ دھاگہ اور سب سے بڑھ کر کالا جادو وغیرہ، کالی بلی کا رستہ کاٹ جانا، مختلف پرندوں، جانوروں کی آوازوں کا منحوس ہونا وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ اور ان فضولیات پر اعتقاد بڑھتا جا رہا ہے۔

اس میں ان پڑھ جاہل یا پڑھے لکھے مہذب کی کوئی تمیز نہیں ہے، سب اس پر یقین رکھتے ہیں، اسی لئے پیروں فقیروں اور جادوگر بابوں اور پیرنیوں کا کاروبار ترقی کر رہا ہے۔ ہمارا سوشل میڈیا بھی اس کاروبار کو پرموٹ کرنے میں احسن طریقے سے اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ ہر چینل پر ایک دو ڈرامے انہیں موضوعات پر چل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بڑی بڑی سیاسی شخصیات بھی اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے اسی توہم پرستی کا شکار نظر آتی ہیں۔

یوں تو دیکھا جائے تو دور قدیم سے لے کر اب تک اس پر یقین کیا جاتا رہا ہے اور ہر معاشرے میں یہ توہم پرستی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، لیکن جس قدر ہمارے معاشرے میں ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں اور اس کی مثال کم ملتی ہے۔ اور ان فضولیات میں سب سے زیادہ یقین عورتیں رکھتی ہیں۔ عورت خواہ کسی بھی طبقے کی ہو، شاید وہ سمجھتی ہے، کہ اس کو اپنی زندگی کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کا اختیار نہیں ہے۔

بہت کم عورتیں ایسی ہوتیں ہیں، جو خود مختار ہوتی ہیں اور اپنی محنت اور لگن سے اپنی زندگیوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ وہ مثبت انداز میں سوچتی ہیں، حالات کا مقابلہ کرتی ہیں اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہیں۔ عورت اتنی مظلوم نہیں ہوتی جتنا اس کو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، یا وہ خود کو سمجھتی ہے۔

لیکن ہمارے پدر سری معاشرے میں زیادہ تعداد ان عورتوں کی ہے جنہیں اپنی طاقت کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا، تو وہ جادو یا ٹونے ٹوٹکے کرنے کے لئے پیروں فقیروں، کی مدد سے اپنے حالات ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بے شک مرد حضرات کی ایک کثیر تعداد بھی اس پر یقین رکھتی ہے۔

اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے پاس جانے سے ہماری ساری بلائیں ٹل جائیں گی، اور ہم ناموافق حالات پر قابو پا لیں گے۔

یہ بات اہم نہیں ہے کہ آیا جادو سچ مچ ہوتا ہے یا محض ایک خود فریبی ہے، یا تعویذ دھاگے سے واقعی ہی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں، اہم بات علمی اور ذہنی نقطۂ نظر سے یہ ہے کہ زیادہ تر عورتیں اس علم کو سچ مانتی ہیں۔ اور کسی بھی دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے پیروں فقیروں کا سہارا لیتی ہیں۔ جادو، ٹونہ ٹوٹکا، دم کیا ہوا پانی پینا یا پلانا، تعویذ دھاگے کرنا وغیرہ چند ایسی رسومات ہیں جن کے ذریعے عورتیں اپنے حالات بدلنے کی کوشش کرتیں ہیں، جیسے کسی بگڑے ہوئے باغی بیٹے یا شوہر کو راہ راست پر لانا، شوہر کو کسی دوسری عورت کے چنگل سے چھڑانا، شوہر کو ماں اور بہن بھائیوں سے دور کرنا، بچوں کے رشتوں میں رکاوٹ، نوکری یا کاروبار میں برکت، یا کسی بیماری سے نجات، غرض کہ ایسی بہت سی اور لغویات سے نجات کے لئے عورتیں مذہبی اور غیر مذہبی ترکیبوں کے ذریعے جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ اور ایسی باتیں گھر کے مردوں سے چھپائی جاتیں ہیں۔

یہ نام نہاد پیر فقیر ایسی عورتوں کا بھرپور استحصال کرتے ہیں اور بہت کامیابی کے ساتھ کرتے ہیں۔ آج کل کے دور میں تو لگتا ہے کہ معاشرے میں دوسری بے شمار برائیوں کے ساتھ ساتھ پیری فقیری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ان جعلی نام نہاد پیروں فقیروں کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ یونیورسٹی میں ہم نے اس موضوع پر ریسرچ کی تھی۔ کہ پیری مریدی کی طرف طلبہ اور طالبات کا کیا رجحان ہے؟ تقریباً ستر فیصد لڑکوں نے اس کو بالکل فضول کہا جب کہ تیس فیصد لڑکوں نے کہا ہم تو زیادہ یقین نہیں رکھتے لیکن ہمارے گھر والے بہت یقین رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اسی فیصد لڑکیاں اس کی حامی تھیں۔ اسی ریسرچ کے دوران ہم نے سوچا، کہ ایسے کسی پیر بابے کے پاس جا کے دیکھنا چاہیے، آخر پتہ تو چلے کہ وہاں کیا ماحول ہوتا ہے اور کیسے یہ پیر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور اپنے تابع کر لیتے ہیں اور انہیں جو بھی عمل کرنے کو کہتے ہیں وہ پورے یقین کے ساتھ اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس عمل کو بجا لاتے ہیں۔

خیر مختلف وسائل سے ہمیں ایک بابے کا ٹھکانہ معلوم ہو گیا، اور ہم پانچ چھ کزن گھر والوں سے چوری اس پیر بابے کے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ وہ ایک بڑا سا کمرہ تھا، جس میں مرد عورتیں بیٹھے تھے۔ جن میں عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کچھ نوجوان اوباش قسم کے لڑکے بھی موجود تھے۔ ہم سب لوگ بھی دبک کر ایک کونے میں جا بیٹھے، اور پیر صاحب کے آنے کا انتظار کرنے لگے، اتنی دیر میں ہم سارا جائزہ لے چکے تھے، کہ کون کس طبقے سے ہے۔ یقین مانیے، اس میں زیادہ عورتیں امیر طبقے کی تھیں، اور مرد بھی کلف زدہ کپڑے پہنے سر جھکائے بیٹھے تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد پیر بابا تشریف لے آئے، وہ تہمد اور سفید کرتا پہنے ہوئے تھا، سفید داڑھی اور شاید سر پر کچھ باندھا ہوا تھا بظاہر اس کا حلیہ کوئی خوفناک نہیں تھا، البتہ اگر بتیاں جل رہیں تھیں، اور ماحول کو کافی خوفناک بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ پیر بابا نے آتے ہی ایک طائرانہ نظر پورے کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر ڈالی، اس کی کھوجتی ہوئی نظروں کو دیکھ کر ہمارے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے، خود کو دلاسا دیا کہ ہم تو صرف کارروائی دیکھنے آئے ہیں۔ سکون سے بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔

پھر پیر بابا اپنی نشست پر براجمان ہو گیا، تو اس کا چیلہ باری باری مریدوں کو بلانے لگا۔ عورتیں زیادہ تر گھریلو مسائل کا رونا رو رہیں تھیں، جادو کے اثرات اور کسی کو نند، ساس، دیورانی یا جیٹھانی پر شک تھا، اور کسی کو بھابھی پر شک تھا، بابا ہر ایک کی نفسیات کو بخوبی جانتے ہوئے مشورے دے رہا تھا اور تعویذ دھاگے اور بہت خوفناک قسم کے عمل کرنے کو کہہ رہا تھا۔ کسی کو قبرستان میں بکرے کی کھوپڑی آدھی رات کے وقت پھینکنے کا کہہ رہا تھا، کسی کو گوشت اور دالیں وغیرہ، مرد زیادہ تر کاروبار نہ چلنے کا رونا رو رہے تھے، اور سب فیکٹریوں کے مالک تھے، بابا سر جھکا کر باتیں سنتا، اور پھر خوفناک آواز میں بتاتا یہ سب کالے جادو کا اثر ہے، بار بار آنا پڑے گا، اور مرید سر جھکائے کہتے جی حضور ضرور آئیں گے۔

اس کے بعد ان اوباش لڑکوں کو بلایا گیا، ان میں سے ایک لڑکا محلے کی کسی لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا جب کہ لڑکی لفٹ نہیں کراتی تھی، بابے نے جب یہ سنا تو پورے کمرے میں ایک نظر دوڑائی، اور پھر ایک دم ان لڑکوں پر دھاڑا، دفع ہو جاؤ کمینوں، تم نے مجھے کوئی ایسا ویسا سمجھا ہوا ہے، با با جو جو مغلظات بک سکتا تھا اس نے بکیں اور لڑکوں کو باہر نکال دیا، ہمارا ذہن تو شل ہو چکا تھا لیکن دل میں ٹھان رکھی تھی کہ کارروائی آخر تک دیکھیں گے۔ اتنے میں ایک عورت کوئی گیارہ سال کے بچے کے ساتھ بابا کے سامنے آ کر بیٹھ گئی، اور بتانے لگی میرے بیٹے پر کوئی سایہ ہے، اور اس کو دورے پڑتے ہیں، یہ بے قابو ہو جاتا ہے، مار پیٹ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

پیر بابا نے اس بچے کو اپنے سامنے بٹھا لیا، ایک دم بابا کا چہرہ خوفناک ہو گیا وہ کوئی عجیب و غریب منتر جنتر پڑھنے لگ گیا، پھر اس نے اپنے جوتے سے بچے کو مارنا شروع کیا، جوں جوں بابے کے جنتر منتر اونچے ہوتے گئے بچے پر جوتوں کی برسات بھی بڑھتی گئی، ہم تو سانس روکے یہ ساری کارروائی دیکھ رہے تھے بس نہیں چل رہا تھا کہ اس ڈھونگی بابے کی گردن مروڑ کے رکھ دیں، بچے کی چیخ و پکار سے دل دہل رہا تھا پتہ نہیں ماں کیسے برداشت کیے بیٹھی تھی۔

پھر ہم نے دیکھا، بابے نے ایک شیشے کی بوتل لی اور ایک خوفناک آواز کے ساتھ بوتل کے اندر زور سے پھونک ماری ادھر بچہ ایک دلدوز چیخ مار کے بے ہوش ہو گیا، بابے کے منہ سے بھی دالیں ٹپک رہی تھیں، اس نے منہ صاف کیا اور ماں کو کہا، اب یہ بد بخت جن تمہارے بچے کو کبھی تنگ نہیں کرے گا، یہ اب اس بوتل میں بند ہو چکا ہے، یہ بوتل کسی نہر میں پھینک دینا۔ ہم جو اس دلخراش منظر سے ابھی تک باہر نہ نکل پائے تھے، جن کے بوتل میں قید ہونے والی بات سن کر ہماری ہنسی نکل گئی، پیر بابا نے کھا جانے والی نظروں سے ہماری طرف دیکھا، جیسے کہہ رہا ہو، ابھی تم لوگوں کو بھی دیکھتا ہوں۔ ہم فوراً پیر بابا سے نظریں چرا کر باہر نکل آئے، اور ہم نے دیکھا کہ جن لڑکوں کو بابا نے باہر نکالا تھا وہ پھر ایک کونے میں براجمان تھے، اور بابا کے اکیلے ہونے کے انتظار میں تھے اور یقیناً بابا بھی یہ ہی چاہتا تھا۔

جب ہم باہر آئے تو وہ عورت اپنے بچے کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی جو پیر بابا کے جوتے کھا کھا کر بے ہوش ہو گیا تھا۔ اور ہم حیرت زدہ ہو کر سوچ رہے تھے کہ لوگ کس طرح ان بہروپیوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو مختلف وسوسوں میں ڈال کر اپنی زندگی جہنم بنا لیتے ہیں۔ اور یہ جادو ٹونے کرنے والے ان کو نفسیاتی طور پر اس طرح اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، کہ کہیں مزید کچھ برا نہ ہو جائے۔ اور اس چنگل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words