شہزادیاں
موٹروے کا لمبا سفر ہے۔ گاڑی سیدھی سڑک پر ایک سو بیس اور سو کے درمیانے ہندسوں میں دوڑ رہی ہے۔ کھڑکیوں سے باہر سہ پہر کی سختی شام کی ٹھنڈک میں بدل رہی ہے۔ جس کا اثر کار کے اندر اے۔ سی کی کولنگ پر بھی محسوس ہو رہا ہے۔ اندر دو نفوس موجود ہیں۔ ایک گاڑی چلا رہا ہے اور دوسرا اپنی سیٹ پر پیچھے کی طرف سر ٹکائے ارد گرد کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظروں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ دونوں میاں بیوی ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد گھر کی طرف رواں دواں ہیں۔
مرد کی آواز پورے ماحول میں وقتاً فوقتاً ارتعاش پیدا کرتی ہے جو اس کے گنگنانے سے پیدا ہو رہی ہے۔ مولا نے اسے ناصرف اچھے گلے سے نوازا ہے بلکہ شعری ذوق اور دل کا سوز بھی عطا کیا ہے۔ دوست، احباب اور خاندان میں فرمائشی اور موقع محل کے مطابق سنا بھی دیتا ہے بشرطیکہ مزاج آمادہ ہو۔ اس کی گنگناہٹ اور گاڑی کا ہینڈل ایک دوسرے سے آہنگ ہیں اور اس کی بیوی اس سب کی مزاج آشنا ہے۔ یہ دھیمے اور بلند ہوتے سر جہاں اسے خود کو جگائے رکھتے ہیں، وہاں اس کی ہمسفر کی عادت کی بھی تسکین کرتے ہیں۔
نغمے، مرثیے، گانے، قوالیاں، نعتیں، نوحے، غرض جو چاہو، جب چاہو اور جہاں چاہو اور جیسے چاہو گاؤ۔ وقت اور مقام کی پابندی سے پرے، بس آواز کے جادو جگاؤ۔ لیکن اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ پورے سفر میں پبلک بس کی طرح ان چاہا اور نا گوار سنو۔ اتنے وقت کے ساتھ میں ناصرف خاموشی کے گہرے وقفے آتے ہیں جہاں صرف آپ خود سے بولتے اور خود میں جھانکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹلیکچوئل اور مفید مباحثوں کے دور بھی آتے ہیں۔
بہرحال شوہر بیوی کی طرف چہرہ کر کے پوچھتا ہے :
شوہر: کیا آج بہت تھک گئی ہیں؟
بیوی: نہیں! ایسی بات نہیں۔ مسلسل سفر تو ہماری زندگی کا مستقل پہلو ہی بن گیا ہے۔ اب ہم اس سب کے عادی ہو گئے ہیں۔
شوہر: ہاں یہ تو ہے۔ پھر کیا بات ہے؟ خاموشی کچھ زیادہ طویل نہیں ہو گئی؟
بیوی: بس کچھ سوچ رہی تھی۔
شوہر: کیا؟
بیوی: ہمارے جاننے والوں میں فلاں باجی ہیں ناں، بس ان کا خیال آ رہا تھا۔
شوہر: کیوں؟ خیریت ہے؟
بیوی: ہاں ہاں۔ تھوڑے دن پہلے ملنے کا اتفاق ہوا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ جو ہنر ان کے پاس ہے۔ اب استعمال نہیں کرتیں۔ ان کے شوہر ایسا نہیں چاہتے۔ بتانے لگیں کہ اب تو برسوں ہو گئے کچھ نہیں ایسا کیا۔ حالانکہ مجھے یاد ہے کسی وقت وہ بہت اچھی سلائی اور کروشیا سے بنائی کرتیں تھیں۔ بلکہ باقاعدہ کسی گورنمنٹ ادارے سے کورسز بھی کیے تھے۔ اس مہارت کو تو وہ گھر بیٹھے بھی استعمال کر سکتی تھیں۔
شوہر: ان کو کوئی پیسوں کی تنگی ہے؟
بیوی: ایسی کوئی بات نہیں۔
شوہر: تو پھر آپ کیوں پریشان ہیں؟ ان کے میاں نے سوچا ہو گا کہ انھیں شہزادی بنا کے رکھتا ہوں۔ کیا ضرورت ہے کہ وہ تھکتی رہیں وہ خود ہے ناں ان کے لئے کرنے کو۔ یہ تو اس کی محبت ہوئی۔ اور آپ اسے مسئلہ بنا کے بیٹھی ہیں۔
بیوی: مجھے نہ تو ان کی محبت پر شک ہے نہ ان کے خلوص پر۔ مجھے بس پیسے، وقت اور محنت سے کمائے ایک ہنر کے ضائع ہونے کا غم ہے۔ جب کہ وہ اس کو گھر بیٹھے جاری رکھ سکتی تھیں۔ اگر کرتی رہتیں تو آج ماہر سمجھی جاتیں۔
شوہر: بات گھر کے اندر یا باہر کام کرنے کی نہیں بلکہ اس خیال کی ہے جو وہ اپنی بیگم کا کر رہا ہے۔ گھر کی ملکہ بنا کے رکھتا ہے۔
بیوی: میرا تو بس یہ نکتہ نظر ہے کہ اگر کوئی مشکل وقت آ جائے، وہ شہزادی بنا کے رکھنے والا کسی برے لمحے کا شکار ہو جائے، نوکری چلے جائے یا کچھ بھی ایسا ہو جائے جس کا ذکر انسان گمان میں بھی نہیں کرنا چاہتا۔ تو کیا ان کی شہزادیاں پتھر دل ہوتی ہے جو اپنے شہزادوں کو تنہا چھوڑ دیں۔ وہ بھی تو ان کو گھر کا بادشاہ بنا کے رکھنا چاہتی ہیں۔
شوہر: یہ تو آپ نے آخیر بات کی ہے۔
بیوی: لیکن صاحب تب تک پانی پلوں کے اوپر سے کافی گزر چکا ہوتا ہے۔ چاہنے کے باوجود کٹھن ہوتا آ سے ے تک کا سبق دوہرانا۔ اور جنہیں زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے بچا کر شہزادیاں بنا کر رکھا ہوتا ہے۔ حالات کی سختیاں اور معاشرے کی تلخیاں انھیں باندیاں اور لونڈیاں بنا لیتی ہیں۔ اور اگر جو تیر کر دریا پار کر بھی لے تو اس کا پور پور زخموں سے بھرا ہوتا ہے۔
اس لئے درخواست یہ ہے کہ ہنر، تعلیم اور مہارتیں بڑے کشت کر کے ملتے ہیں۔ ان کو استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ گاڑی کے دونوں پہیے چلتے رہیں تو ہی زندگی کا اوکھا پینڈا خوش اسلوبی سے طے ہو گا۔ اپنی شہزادیوں کو اپنے پیار، تحفظ، مان اور احساس کے ساتھ سیکھنے دیں تاکہ جیون کے اونچے نیچے سفر میں وہ اپنے شہزادوں کی تھکان چن لیں اور ثابت قدم رہیں۔ اور کوئی ان کو کنیزیں نہ بنا سکے۔
لیکن اس کا فیصلہ آپ خود کریں کہ کب، کیسے، کہاں اور کس لئے آپ یہ سب کریں گے۔ کیونکہ بہرحال یہ تو طے ہے کہ زندگی کے سفر میں رفتار ہمیشہ مستقل اور پائیدار نہیں۔


