ایلفی، الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور ووٹرز
الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اٹھائے گے 37 اعتراضات میں سے ایلفی والے اعتراض سے میں دو سو فیصد متفق ہوں۔ اور اسی اعتراض کے تناظر میں ’مجھے باقی 36 اعتراضات پر بھی لبیک کہنے کو جی چاہ رہا ہے۔ اور اپنی مختصر سی زندگی کے تجربات کی روشنی میں مجھے چیف الیکشن کمشنر انتہائی قابل بندہ لگا۔ ایسے تمام لوگ جو الیکشن کمشنر کی جانب سے ایلفی والے اعتراض کو بے منطق یا ناسمجھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے لیے میں زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ رقم طراز کرنے جا رہا ہوں کیونکہ مجھے قوی یقین ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے بھی اپنے زمانہ طالب علمی کی کسی ایسی ہی شرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قدر دور اندیش اعتراض اٹھایا ہے۔
کالج کے زمانے میں ہمارا حصول علم سے زیادہ دھیان شرارتوں پر رہا ہے۔ ہر ہفتے کسی نئی شرارت کا دماغ میں آنا اور پھر اسے عملی جامہ پہنانا معمول تھا۔ اس کے بعد کالج انتظامیہ کو نہ پکڑے جانے پر دوستوں سے داد وصول کرنے کا ایک الگ ہی نشہ تھا۔ ان گنت شرارتوں میں سے ایک ایلفی والی شرارت بھی ہمارے کریڈٹ پر ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک صبح ہم دوستوں نے مل کر کالج لگنے سے دو گھنٹے پہلے جا کر، کمال مہارت سے تمام کلاس رومز، ایڈمن بلاک کے تمام دفاتر، لائبریری، یہاں تک کے پرنسپل آفس تک کے تالوں میں ایلفی ڈال دی۔ اس کے بعد ہم سب تتر بتر ہو گئے۔ اور کالج لگنے کے وقت اپنی معمول کے مطابق شکلوں ساتھ کالج داخل ہوئے تو ایک طوفان برپا تھا۔ بے چارے چوکیدار کی کتے والی ہو رہی تھی۔ باقی درجہ چہارم کا سارا عملہ تالے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایسی صورتحال میں ہم ہیرو بنے اور تالوں کو بغور دیکھنے کے بعد کسی ماہر انٹیلی جنس افسر کی طرح اعلان کیا کہ یہ تالے توڑنے پڑیں گئے۔ اور کوئی حل نہیں۔ پرنسپل صاحب نے تائید کرتے ہوئے۔ حکم صادر فرمایا کہ تالے توڑ دیے جائیں۔ یوں ہم اپنی شرارت کی کامیابی کے بعد کامران ٹھہرے۔ قارئین! اس شرارت بارے پڑھ کر آپ کو یقین آ گیا ہو گا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یہ اعتراض من و عن درست ہے۔ اور مجھے یہ خوشی ہوئی کہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب لوگوں کی غالب اکثریت ہماری طرح شرارتی اور بیک بینجر تھی۔ اور شبلی فراز صاحب ٹھہرے ”ممی ڈیڈی“ ۔ انہیں کیا پتہ کہ ایک 25 روپے کی ایلفی ان کی ٹیکنالوجی اور کروڑوں کی مشین کو ٹھپ کر سکتی ہے۔ کیونکہ ایلفی صرف تیس سیکنڈ میں اپنا کام دکھا دیتی ہے۔
باقی جہاں تک تعلق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ہے تو لگ بھگ چھتیس ممالک اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ اور بیشتر نے اس ووٹنگ سسٹم کے ناکام تجربے کے بعد روایتی انتخابی نظام کو پھر سے اپنا لیا۔ انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک نے بھی اس جدید الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو رد کر کے روایتی انتخابی طریقے کو اپنایا ہے۔ اب ان تمام ممالک میں سے صرف 6 ممالک قومی سطح پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کر رہے ہیں۔ جب کہ گیارہ ممالک کہیں کہیں اس مشین کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 120 ممالک نے روایتی طریقہ انتخاب اپنا رکھا ہے۔ اس طرح نوے فیصد سے زائد ممالک میں بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات ہو رہے ہیں۔
ایلفی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے سارے مسائل، اخراجات اور الیکشن کمیشن کے اعتراضات اپنی جگہ، پاکستانی پبلک جو اے ٹی ایم مشین کے استعمال سے کتراتی ہے وہ کیسے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو استعمال کر پائے گی۔ اور بے چارے بہت سے سادہ لوح پاکستانی بینکنگ کی جدید ٹیکنالوجی کے باعث اپنی رقم لٹا بیٹھے ہیں۔ اب کہیں ووٹ کا حق نہ لٹا بیٹھیں۔
پاکستانی ووٹرز کو پہلے ہی الیکشن کے وقت بہت سی آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اور ہر معاملے میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے میری عاجزانہ رائے یہی ہے کہ ووٹرز کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے مزید پریشان نہ کریں۔ کیونکہ ووٹرز کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بل گیٹس کی بنائی ہوئی کورونا ویکسین جیسے ہی شکوک و شبہات ہیں۔ اس لیے ٹرن آؤٹ خاصا پریشان کن ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر حکومت وقت کو اوورسیز پاکستانیوں سے اتنا ہی پیار ہے۔ ( ویسے بیچاروں کے ساتھ تو ائرپورٹ سے ہی سوتیلی ماں والا سلوک شروع ہو جاتا ہے۔ ) تو ان کو ووٹ کا حق دے کر ووٹ بذریعہ ای میل کا انتظام کر لیں بالکل امریکہ میں موجود ایک ای میل ووٹنگ کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے۔ وہاں پر ووٹر کو بیلٹ پیپر بذریعہ ای میل بھیجا جاتا ہے۔ اور وہ بیلٹ پیپر کو پر کر کے اس کی تصویر بذریعہ ای میل یا فیکس بھیج دیتے ہیں۔
خیر ابھی تک تو شبلی فراز صاحب اگلا الیکشن ٹیکنالوجی ساتھ کروانے پر ہی بضد ہیں۔ شبلی فراز صاحب اور باقی تمام قارئین جو ایلفی کی تباہ کاریوں بارے الیکشن کمیشن اور میرے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ وہ ایلفی استعمال کرتے وقت آنکھوں میں پڑ جانے کی صورت میں آنکھوں میں پانی ڈالیں اور قریبی معالج سے رجوع کریں۔


