اردو غزل ابتدا سے بہمنی سلطنت تک


شمس قیس رازی لکھتے ہیں ”غزل اس درد ناک چیخ کا نام ہے جو ہرن کے منہ سے اس وقت نکلتی ہے جب اسے شکاری کتوں سے بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی“

جب کہ علامہ شبلی کہتے ہیں ”غزل کی تحریک عشق و محبت سے ہوتی ہے“ ۔

ہیiت کے اعتبار سے غزل ایک خاص صنف سخن کا نام ہے۔ جس میں مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف کا ہونا ضروری ہے۔ غزل کے اشعار زیادہ سے زیادہ سترہ اور کم سے کم پانچ ہو سکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غزل کب پیدا ہوئی؟ اور اسے یہ نام کب ملا؟ اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ غزل کی ابتدا ایران سے ہوئی اور فارسی غزل نے عربی قصدے سے جنم لیا۔ رود کو فارسی شاعری کا باوا آدم تصور کیا جاتا ہے اور عورتوں میں رابعہ بن قز دادی پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں سنائی، عطارد اور رومی نے غزل کی عاشقانہ بات چیت کو تصوف کی نئی کیفیت سے آشنا کیا۔

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خود سنائی کی غزل میں ایک قسم کی غرابت محسوس ہوتی ہے۔ تیسری یا چوتھی صدی عیسوی میں ہندو ستان پر سب سے پہلے صفاریوں نے حملہ کیا۔ یہ ایران سے آئے تھے وہ اپنے ساتھ فارسی تہذیب کے ساتھ فارسی ادب بھی لائے تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان کے لوگوں پر ایرانی تہذیب و ادب کا اثر ہونا لازمی بات ہے۔

محمد عوفی نے اپنی کتاب ”لباب الباب“ میں خواجہ ابن سعد سلیماں کو اردو کا پہلا شاعر قرار دیا ہے۔ جو فارسی زبان کے صاحب دیوان شاعر تھے۔ اس بات کا اقرار امیر خسرو نے ”، غرةالکمال“ میں بھی کیا ہے۔ خواجہ ابن سعد کے ہاں فارسی اور عربی کے علاوہ ہندی کلام بھی موجود ہے۔

اس لحاظ سے انھیں اردو کا پہلا شاعر مانا جا سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اردو شاعری کی ابتدا بابا فرید شکر گنج اور امیر خسرو سے ہوئی۔ ان دونوں کا تعلق چشتی سلسلے سے ہے اور ان کے جانشین بختیار کاکی تھے۔ ان سے خلافت بابا فرید کو ملی۔

آپ کے بعد حضرت نظام الدین اولیا کو ملی امیر خسرو ان کے مرید تھے۔ بابا فرید ملتان کے قصبے کھو توال میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ اسلامی ممالک کی سیر بھی کی۔ آپ کو فارسی اور پنجابی کا شاعر بھی مانا جاتا ہے۔ ان کے کلام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ اردو بھی بولتے تھے۔ آپ کی کچھ ہندی نظمیں بھی ملتی ہیں۔ امیر خسرو کی وفات سات سو پچیس ہجری میں ہوئی۔ امیر خسرو کئی مقامات پر اپنی غزل گوئی پر فخر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے مطابق آپ کی ولادت بارہ سو چھتیس عیسوی میں ہوئی۔ چشتی خاندان سے آپ کا تعلق رہا۔ آپ کے شخصی رجحانات، خاندانی حالات، آپ کے مشاغل عقائد مثال کے طور پر آپ کا برصغیر میں پیدا ہونا اس کے علاوہ فارسی اور ہندی کے راگوں کو ملا کہ نیا راگ ایجاد کرنا جس میں طبلہ اور ستار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قوالی کی ایجاد یہ بات ثابت کرتی ہیں کہ آپ ایرانی و اسلامی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ ان کا یہ اثر شاعری پے بھی نمایاں ہے۔

افسوس باوجود تلاش کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا کوئی قول ہندی میں نہیں ملا۔ لیکن ان کی مقبولیت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ہندی زبان سے ضرور واقف ہوں گے۔ ہندو بھی مسلمانوں سے کم ان کے متعقد نہیں۔ ، ہندیالولی، اور غریب نواز کا لقب ان کی عام مقبولیت کی گواہی دے رہا ہے۔

محمد بن تغلق آخری دور حکومت میں دکن بغاوت کا آغاز ہوا۔ اس کے نتیجے میں بہمنی حکومت آئی۔ امیر علاوؑ الدین بہمنی نے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ تیرہ سو پچاس عیسوی کی بات ہے۔ ان کے دور میں ادب نے بہت ترقی کی۔ یہ دور ادب کا عہد آفریں دور کہلاتا ہے۔ اس زمانے میں مثنوی بطور صنف غزل کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ بہمنی سلطنت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس خاندان کے لوگ مقامی تھے۔ ویسے بھی دکن شمالی ہند سے دور رہا ہے۔ اس لئے وہاں کے ادب اور خصوصیت سے غزل نے مخصوص مزاج اختیار کیا۔ ان کی غزلوں میں وہاں کا مقامی رنگ پایا جاتا ہے i۔ اس کے علاوہ فارسی اثرات نہیں پہنچے تھے۔ دکن کے ادب پر مقامی زبانوں کے اثرات زیادہ تھے۔ چنانچہ بے شمار تراکیب محاورات، ضرب الامثال ان ہی مقامی اثرات کی مرہون منت ہیں۔ زبان کے علاوہ غزل میں بھی فارسی زبان کے اثرات موجود نہ تھے۔ اس وقت جو غزلیں لکھی گئی اس پر ہندی زبان اور گیت کے اثرات زیادہ تھے۔

دکنی غزل میں مرد صحرا کی خاک نہیں چھانتا بلکہ عورت جوگن بن کہ گھومتی پھرتی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ غزلیں ریخنی کی ابتدائی صورت ہے۔ جو کے غلط معلوم ہوتا ہے۔ اس دور میں غزل پے اس لئے زیادہ کام نہیں ہوا کہ مشکل صنف تھی اور فارسی ادب کے اثرات یہاں تک نہیں پہنچے تھے۔ بہمنی دور میں جو شاعر ملتے ہیں وہ زیادہ تر صوفیا کرام تھے۔

شیخ بہاؤ الدین باجن برہان پور کے اولیا میں سے ہیں۔ شیخ عزیز کے مرید تھے۔ ان کے والد کا نام معزالدین تھا۔ آپ ہندی اور فارسی میں اشعار کہتے تھے اور باجن تخلص کرتے تھے۔ اس کے معنی ہندی میں ساز کے ہیں ان کے ہاں صرف ایک نمونہ اردو کا ملتا ہے۔

شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی طرف آتے ہیں۔ آپ شیخ چشتی صابری کے مرید تھے۔ آپ کے والد کا نام اسمعیل تھا۔ الکھ داس تخلص کرتے تھے۔ ”رشد نامہ“ ان کی مشہور تالیف ہے۔ جس میں تصوف اور وحدت الوجود کے اسرار و نکات کا بیان ہے۔

شاہ برہان الدین جانم میراں جی کے بیٹے اور خلیفہ تھے۔ انہوں نے نظم و نثر میں کافی رسا لے لکھے۔ آپ بیجا پور والد کے مقبرے میں ہی مدفون ہیں۔ نظم اور نثر کے علاوہ انھوں نے دہرے اور خیال بھی لکھے جن میں ان کا صوفیانہ مسلک نمایاں ہے۔ امین الدین اعلیٰ برہان الدین کے فرزند تھے۔ آپ کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان کی نظموں میں ایک ”محب نامہ“ ہے۔ جو قصیدے کی طرز پے ہے۔ اس کے علاوہ مسائل تصوف پر ان کی بہت سی نظمیں اور رسالے ملتے ہیں۔ کچھ قصائد اور غزلوں کا سراغ بھی ملتا ہے۔

شاہ محمد جیو گام گجراتی وہ سید احمد کبیر رفاہی کی اولاد میں سے ہیں اور سید عبد الرحیم کے پوتے ہیں آپ ہندی شاعر تھے۔ ان کا کلام ان کی زندگی میں نے ایک مختصر دیباچے کے ساتھ مدون کیا اور اس کا نام ”جواہر اسرار اللہ“ رکھا۔

اشرف بیابانی شاہ ضیا الدین ملتانی کے بڑے بیٹے تھے۔ جو بڑے مشہور بزرگ تھے۔ آپ کے آباوؑ اجداد کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ جنگل اور بیابانوں میں زیادہ رہتے تھے۔ اس لئے بیابانی کہلائے ۔

قاضی محمود بحری کے والد کا نام بحر الدین تھا۔ آپ شاہ باقر بیجا پوری کے مرید تھے۔ آپ کو خلافت بھی ملی تھی۔ آپ کا بہت سا کلام چوری ہو گیا تھا۔

بہمنی سلطنت کے شعراء کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ خالص ہندی مزاج رکھنے والے تھے۔ فارسی اثرات کم ہونے کی وجہ سے زبان کی وہ شکل نہیں ملتی جو بعد میں فارسی کی بدولت نظر آئی۔ اس لئے غزل کی وہ صورت نظر نہیں آتی۔ پوری شاعری پر تصوف کا رنگ چھایا رہا۔ اس دور میں تشبیہ۔ استعارہ اور فارسی تراکیب کا وہ رنگ نظر نہیں آیا۔ جس سے بعد کی اردو شاعری ما لا مال نظر آتی ہے۔

Facebook Comments HS