منظور راہی کے افسانوی مجموعہ بانجھ موسموں کے سفر کا اجمالی جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور پھر انہیں یہ نعمت قدرت کے خزانے سے مل جاتی ہے جسے وہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنے قلم کی سیاہی سے انسانیت کے پرچار کے لیے قلم بند کر دیتے ہیں۔ ادب کی تخلیق اور چاشنی خواہ کسی بھی صنف میں ہو اس کی قدر و منزلت اور تاثیر و کرشمات روح و قلب میں جگہ ضرور پاتے ہیں۔

اگر ایک قلم کار کا طرز تحریر قوت اور حقیقت سے لبریز نہ ہو تو وہ شعور کی حسی قوتوں کو بیدار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ انسانی جبلت جذبات کی خوبصورت منظر نگار ہے جو شعور کو پختہ اور ضمیر کو روشن خیال بناتی ہے۔

بے شک زمانے کے تغیر سے ہر چیز میں خوبصورتی اور شگفتگی کے رنگ نظر آتے ہیں جس کی روشنی اور سائے میں ادب کے چشمے پھوٹ کر اسے احساسات کے دائرے میں داخل کر کے ایک مکاشفائی ماحول پیدا کر دیتے ہیں۔ جس کے جلوے آب و ہوا کی معطر فضاؤں میں رقص کرتے ہیں، اسی طرح ادیب کے اندر خزانوں کا سناٹا ہوتا ہے جس کا شور اس وقت سنائی دیتا ہے جب وہ اپنی نگارشات کو ادب کے رچاؤ میں بسا کر اسے شعری و نثری زبان دیتا ہے۔ ادب کی رومانیت صرف شاعری تک محدود نہیں ہے بلکہ نثر بھی اسی شدت سے فضیلت و کرامات کے ساتھ اپنا دامن پھیلاتی ہے۔

بلاشبہ ادب کا دامن اور گہرائی سمندر کی طرح گہرا ہے، کیونکہ نہ اس کا کنارا اور نہ اس کی سمت ہے بلکہ ایک بہاؤ ہے جو کبھی نہیں رکتا اس سلسلے میں ادب روح و قلب کو سیراب کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جو سوچ کے زاویوں سے خارج ہو کر قلم کی طاقت بن جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ادب زندگی کا دوسرا نام ہے جس کی پرتیں، کونپلیں، پتے، اور جڑیں اس حد تک زندگی کے احساس سے پر ہوتی ہیں کہ وہ زمین سے ضروری نمکیات حاصل کر کے زندگی کا کا عہد و پیماں نبھانے کا قرض چکاتی ہیں۔

اس طرح ادب کی خوبصورت دھرتی دل کی زرخیز زمین ہوتی ہے، جہاں ادب کی فصل اگتی ہے، یہ ایک الگ بحث اور الجھن ہے کہ لکھاری کا ذائقہ ادب کی کس صنف میں ہے، جو اس کے تجسس اور مطالعاتی ذوق کو تسکین و وفا کے زاویے میں ڈال دیتا ہے۔

جو آنکھ مشاہدہ گیر نہ ہو وہ بصارت و بصیرت سے محروم ہوتی ہے اور جو دل درد سے نا آشنا ہو وہ تخلیق کے فن و روپ کا بھید سمجھ نہیں سکتا اور نہ ان اصناف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جو تخلیق کا چراغ جلاتی ہیں۔

ہماری مشرقی تہذیب میں اردو افسانے کی روایت اور رجحانات بہت قدیم ہیں، کیونکہ افسانوی ادب بلاواسطہ اور بالواسطہ اصرار کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ یہ ایک اساسی نوعیت کا پرچار اور بھرم ہے جو فنی، موضوعاتی، تکنیکی اور اسلوب کی بدولت اپنی ساکھ برقرار رہتا ہے۔

ہمیں افسانے کی روایت کی بدولت اس بات کا اقرار کرنا درست ثابت ہو گا کہ ایک ادیب کی شخصیت اس کے سماج اور ادوار کی مظہر ہوتی ہے۔ ادیب کا اسلوب اس کے فن کو چاشنی کا تڑکا لگاتا ہے جو قاری کے ذائقے اور تاثیر میں اضافہ کرتا ہے، زندگی ایک حقیقت ہے جس کے وسیع تقاضے اور سماجی مسائل ہیں، جو قلب و ذہن پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ اسی طرح آج کا انسان اشرف مخلوق ہونے کا دعوی تو ضرور کر رہا ہے لیکن فلسفہ زندگی اور اس کی اقدار و روایات دھجی دھجی ہو کر بکھرتی نظر آتی ہیں۔

ایسے ماحول اور معاشرے میں افسانہ نگاری نقاب کشائی کا وہ خوبصورت گوشہ ہے، جسے سمجھنے کے لئے کہانی، داستان، ناول اور مضمون نگاری سے سفر کر کے اپنی ذہنی سوچ کو مرکوز کرنا پڑتا ہے، جہاں نفسیاتی اور سماجی نظریات نے زندگی کو ایسے دباؤ کے ماحول میں داخل کیا ہے۔ وہاں افسانوی ادب کا پرچار زندگی کی جانچ اور پرکھ کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے اور افسانہ نگاری ادب کا دیدہ زیب وہ نگینہ ہے، جس کی حجم اور پنپنے میں اتنی طاقت پوشیدہ ہے جو دل کو اپنی چال سے دھڑکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اگر افسانہ نگاری ہم آہنگی اور ماضی سے ربط نہ جوڑے تو وہ اپنی کمزوری اور کھوکھلے پن کا اظہار کر دے گا۔ بلاشبہ افسانہ اپنے عبارتی حصوں میں احساس، کرب، شعور، روحانی ارتقاء، تہذیبی نکھار اور تخلیق سے مزین ہوتا ہے۔

بانجھ موسموں کا سفر 23 گوشواروں پر مشتمل ہے، جسے پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے منظور راہی نے اس سفر کو 23 سالوں میں طے کیا ہے ان کے ایک ایک افسانے میں ندرت، اسلوب کی گہرائی اور آمادگی کے اثرات نظر آتے ہیں جو روح و بدن میں اترنے کی استعداد قبولیت رکھتے ہیں۔

مذکورہ افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کے افسانے اساطیری ادب سے مزین ہیں۔ میرے نزدیک اگر پاکستان کے معتبر لکھاریوں خصوصاً افسانہ نگاروں میں منظور راہی کو کھڑا نہ کیا جائے تو ان کا افسانوی طرز تحریر خطرے میں پڑ سکتا ہے، اگر ان کے فن اور شخصیت کو ذہن کی تخریب کاری سے چھپا لیا جائے تو یہ ذہنی معذوری کا تصور ہو گا۔ میں فاضل دوست کے افسانوں کو ادبی معیار کے عروج پر دیکھتا ہوں جس کا اقرار ذکاء الرحمن، غلام حسین ساجد، امجد طفیل اور ڈاکٹر کنول فیروز اپنے اپنے پیش لفظ میں کر چکے ہیں۔ ان کے افسانے بلاشبہ حقائق کے قد اور سائے میں بڑے پھلے ہیں۔

جو فکری اور فنی محاسن کے اعتبار سے افسانوں کی چوکھٹ کو مضبوطی سے سہارا دیتے ہیں جو نہ صرف عمارت کو گرنے سے بچاتے ہیں، بلکہ افسانوی ادب کو چار چاند بھی لگاتے ہیں۔

ان کا افسانہ فصیلیں اور رشتے اس ادراک سے بازو پھیلاتا ہے اور ان دیواروں کو ایسے ہٹاتا ہے جیسے ایک سورما اپنی قوت سے دوسروں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔ اسی طرح یہ افسانہ انسانوں کے درمیان ایسی دراڑیں اور کھڈے پر کرتا ہے جہاں عقل و شعور کی گریں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ وہ اپنے اس افسانے میں کیا خوب لکھتے ہیں۔ ”

تمام لوگوں کے جسموں پر فصیلیں ہیں اور میں ہر شخص کو دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے اپنے آپ کو دیکھنا ہو گا کہ میرے جسم پر کوئی فصیل ہے یا میں ان فصیلوں سے مبرا ہوں ”

اسی طرح وہ دریا پرندہ اور شہر افسانہ میں بے بسی اور بے حسی کے کھنڈرات ایسے زاویے پر دکھاتے ہیں جو حقیقت کے پس منظر میں کچھ ایسا پردہ بنتا ہے۔

” اب میرے سامنے بڑے بڑے کھنڈرات ہیں جو شہر اور دریا سے کافی فاصلے پر موجود ہیں جن میں خرگوش اور سانپ رہتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں جب سانپ پھنکارتے ہیں تو جسم میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور جب شکاری اپنے کتوں سے معصوم خرگوشوں کا شکار کرتے ہیں تو ان میں جو بل خالی ہو جاتا ہے تو میں اس بل کو اپنا گھونسلہ سمجھتا ہوں کیونکہ میں سانپ اور خرگوشوں کے بلوں میں رہنے والا پرندہ نہیں ہوں۔

منظور راہی صاحب اپنے افسانوں میں احساس کی کوکھ کا دروازہ اس طرح کھولتے ہیں کہ شور کے بغیر آپ اس میں داخل ہو سکتے۔ کیونکہ احساس کا دروازہ بند تھا اور جب دروازہ بند ہوتا ہے تو احساس کی کوکھ بانجھ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ان کا افسانہ لمبے سائے اور قد معاشرے کو شبنم کے قطروں سے غسل دیتا ہے اور ان حدود و قیود کا تعین کرتا ہے جس سے انسانیت کا شرازہ بکھرتا ہے۔ جو لوگ نقلی اور بہروپیہ قد اونچا رکھنے کے عادی ہوتے ہیں وہ عموماً حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔

میری نظر میں منظور راہی نے بانجھ موسموں کا سفر تخلیق کر کے افسانوی مجموعہ کو تاریخ کے جھروکوں میں افسانوی ادب کو محفوظ کیا ہے۔ اگر ادیب کی آنکھ میں مشاہدہ نہ ہو، ضمیر با آواز نہ ہو، زبان ذائقہ و تاثیر چاٹنے کی عادی نہ ہو تو ادب کی تخلیق مشکل ہوتی ہے۔ بلاشبہ بانجھ موسموں کا سفر افسانوی ادب سے معمور داستانوں کا سمندر ہے۔

میری دلی دعا اور تمنا ہے کے افسانہ نگاری تراشے کا جو فن منظور راہی کی شخصیت میں پوشیدہ ہے اس کے سائے اور قد سے ادب کے کئی درخشاں ستارے نمودار ہوں جو افسانوی ادب میں طبع آزمائی کر سکیں۔ میں اپنی مشرقی اقدار و روایات کے مطابق دعا و شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

میں ارفع معیار کے تخلیق کار منظور راہی کی فن و شخصیت کو احمد فراز کے اس شعر میں دیکھتا ہوں۔
میں خوش ہوا رندہ افلاک ہو کر
مرا قد بڑھ گیا ہے خاک ہو کر


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments