فون، خون، جنون اور سکون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگوں کی بھاری اکثریت یقین رکھتی تھی کہ خون کی اپنی تاثیر ہوتی ہے۔ خون آخر خون ہوتا ہے۔ بہتا بھی ہے کچھ کہتا بھی ہے۔ جم بھی جاتا ہے اور رنگ بھی چوکھا لاتا ہے۔ لال رنگ کے خون میں چونکہ سفید خلیے بھی ہوتے ہیں اس لیے خون کا رنگ سفید بھی ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خون ”نیلے رنگ“ کا نہ بھی ہو، انہیں شاہی خون کا حامل تصور کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی آدمی نیچ حرکت کر بیٹھتا تھا تو اس کے فعل پر کم بحث ہوتی تھی۔

اس کے خون پر لوگ زیادہ بات کرتے تھے۔ خون کی تاثیر کے بارے میں تو کوئی ماہر ہی بہتر رائے دے سکتا ہے۔ ہم دن بدن فون کی تاثیر ضرور دیکھ رہے ہیں۔ لوگ بھلے وقتوں میں خون دیکھتے ہوں گے۔ ہم نے تو یہی دیکھا ہے آج کل سب سے پہلے دوسرے کا فون دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کے پاس ”آئی“ فون ہو تو اس کے بارے میں بہت سی باتیں آئی گئی کردی جاتی ہیں۔ خون کا رنگ بھلے جو بھی ہو، فون کی قسم روزبروز اہم ہوتی جا رہی ہے۔ آپ بھلے جتنے سمارٹ ہوں، اگر آپ کا فون سمارٹ نہیں ہے تو آپ کو زندہ رہنے کا آرٹ نہیں ہے۔ فون کا سمارٹ ہونا انسان کے سمارٹ ہونے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ خون کی تاثیر کا تو پتہ نہیں، فون کی تاثیر کی بدولت ہر خاندان کا رہن سہن بدل رہا ہے۔

فون کا جنون انسان کا سکون تباہ کیے جا رہا ہے۔ گھر کے جتنے بھی افراد ہوں، چھوٹے بڑے کی بجائے چھوٹے بڑے فون کے چکر میں ہوتے ہیں۔ مجھے اپنی نوجوانی کے دور کا ایک واقعہ بہت یاد آتا ہے۔ ہمارے کچھ دوست روزگار کے سلسلے میں اسلام آباد مقیم تھے۔ وہ ایک ہی کمرہ میں رہائش پذیر تھے۔ میں ان سے ملنے گیا۔ رات کو جب سب موجود تھے تو ایک دوست کہنے لگے اس کمرے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں سات لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور پھر بھی سب اکیلے اکیلے رہ رہے ہیں۔ موبائل فون کی برکت سے اسلام آباد کے کمرے کی کہانی اب گھر گھر کی کہانی ہے اور سب کے لئے جانی پہچانی ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے صاحب کھڑے ہو گئے اور امیدوار کو سلوٹ مار کر کہنے لگے میں تاحیات آپ کا ممنون رہوں گا خود سے بھی نالائق آدمی دیکھنے کی جو میری حسرت تھی، وہ آج آپ نے پوری کردی۔ کئی لوگ سمارٹ فون بنانے والوں کے بھی بہت ممنون ہیں۔ وہ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ گئے وقتوں میں لوگوں کو جنون ہوجاتا تھا اور ان کو مجنون کہا جاتا تھا۔ بزرگوں کی اس بات پر مگر کوئی دل سے یقین نہ کرتا تھا۔ موبائل فون کی برکت سے بزرگوں کی بابت یہ بداعتمادی ختم ہوئی۔ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ لوگ مجنون کیوں ہوتے ہیں اور مجنون لوگ کیسے لگتے ہیں۔

ہمارا جذبہ جنون اور جملہ فنون موبائل فون کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔ فون خود بھلے موبائل ہو گیا ہے۔ زندگی کو اس نے مگر ساکت کر دیا ہے۔ فون خود سمارٹ ہو گیا ہے لوگ مگر اس کی بدولت کاہل ہوتے جا رہے ہیں۔

بقول ایک شاعر کے ایک خاتون نے اپنے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے باپ کا حکم نہیں مانے گا تو وہ اس کو اپنا دودھ نہیں بخشیں گی۔ بیٹے نے اطمینان سے جواب دیا اس نے ڈبے کا دودھ پیا ہے۔ اس لیے ”ابے“ کا حکم منوانے کی خاطر والدہ کو کوئی اور حیلہ کرنا پڑے گا۔ آج کل کے بچوں کو خون کے رشتے انتہائی غیر اہم اور فون کے رشتے بہت اہم لگتے ہیں۔ خون کی کشش ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔ خون کی گردش فون کے سگنل سے منسلک ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں وائی فائی میسر نہ ہو وہاں اب ہائی فائی کلاس تو کیا کوئی عام بندہ بھی جانے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ جہاں فون نہ چلے وہاں زندگی رک جاتی ہے۔

ہنی اور مون کو اب فون کا جنون ہے۔ فون کی طلب نے محمود و ایاز کو ایک کر دیا ہے۔ بندہ اور بندہ نواز دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر آئی فون یا اینڈرائڈ کے نئے ماڈل کا انتظار کرتے ہیں۔ پہلے اچھی کار اور اچھا یار لوگوں کے ذہن پر سوار ہوتے تھے۔ اب سب سمارٹ فون کے نئے ماڈل کے جنون میں مبتلا ہیں۔

فون کا یہ جنون نئی نسل کو اس حد تک مجنون بنا چکا ہے کہ بزرگوں کا حال اب اس مریض غم جیسا ہو گیا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ لوگوں نے اسے تسلی دینا بھی چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کی حالت اتنی نازک تھی کہ اسے صرف موت کی دعا دی جا سکتی تھی۔ پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ دشمن جادو ٹونے کر کے اپنوں کو غیر بنا دیتے ہیں۔ اب توہم پرستی کا یہ دور تمام ہوا اور فون کا زمانہ آیا۔ فون کا جادو سب سے بڑھ کر اور سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہر سو اب یہی عالم ہے۔ :

فاصلے ایسے بھی ہوں گے کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا وہ میرے اور وہ میرا نہ تھا

دنیا میں ہر چیز کا متبادل ہے۔ ایک سے بہتر دوسری مل جاتی ہے۔ ہر انسان مگر اپنی جگہ ایک مکمل کائنات ہے۔ جس کا متبادل کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ یہ کائنات ایک دفعہ گم ہو جائے تو دوبارہ پھر ڈھونڈنے سے کبھی نہیں ملتی۔ موبائل فون کی دنیا میں کھو جانے والے لوگوں سے گزارش ہے کہ اس کائنات کونہ بھولیں۔

(کالم نگار نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کا حصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments