سوشل میڈیا کے منفی استعمال پر قدغن


سوشل میڈیا نے قلیل عرصے میں ایک بین الاقوامی میڈیا کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کی آدھی سے زائد آبادی سوشل میڈیا سے وابستہ ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ درجنوں نئے اکاؤنٹس تخلیق کیے جاتے ہیں جس سے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طفل مکتب سے لے کر بزرگوں تک سب ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا جہاں تصویر کے روشن پہلو کی مانند دور جدید میں تبلیغ و تشہیر کا ایک موثر ذریعہ ہے وہیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں اخلاقی گراوٹ پیدا کر کے طرح طرح کی برائیوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ برائیاں جوں جوں معاشرے میں متعدی امراض کی طرح پھیلتی ہیں تو پورا معاشرہ تباہ کن حالات کی لپیٹ میں آ کر زوال کے ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یوں معاشرتی اقدار اور آداب کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک، یوٹیوب، ٹیوٹر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ جو سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے عوامی مقبولیت اور سستی پذیرائی حاصل کرنے کے لیے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنا سوچے سمجھے مختلف ویڈیوز اور تصاویر وائرل کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ٹک ٹاک اسٹار نے پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کو خراب کر دیا۔ اسی طرح جعلی اکاؤنٹس چلانے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ جو ملک میں انتشار پھیلانے اور دوسرے کئی منفی مقاصد کے لئے سوشل میڈیا بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

دیکھا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن کرتے ہیں ’جو اپنے موقف کو درست ثابت کرنے اور مخالفین کو بدنام کرنے کے لئے تضحیک آمیز کارٹونز، من گھڑت الزامات پر مبنی تحریریں، تصاویر، ویڈیوز اور مختلف طریقوں سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے شرفاء و معززین کی پگڑیاں اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ اپنی رائے کو مدلل بنانے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں جبکہ دوسروں کی رائے کو بے وقعت اور سطحی قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔

اپنے پسندیدہ پارٹی لیڈر کی قصیدہ گوئی اور حمد سرائی اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہر طرح کی غلیظ زبان، نازیبا الفاظ کا استعمال اور ہر اخلاق سے گری ہوئی پوسٹ کو ان سے نسبت دے کر شیئر کر کے معاشرے میں بے چینی پھیلانے کے موجب بن رہے ہیں۔ ان کے شر سے کوئی سیاسی، سماجی، تجارتی، صحافتی، علمی اور مذہبی شخصیت کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ وہیں معروف شخصیات بھی اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے غیر مصدقہ ویڈیوز چلاتی ہیں۔

گھر کے کسی گوشے میں بیٹھے یہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اشتعال پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔ جواباً ایک دوسرے کے خلاف لفظوں کے وار ہوتے ہیں۔ نازیبا جملے داغے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تھپڑ رسید نے اور دست و گریباں ہونے کے واقعات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور یوں ملک کا امن برباد ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس جیسے قوانین تقریباً ایک عشرے سے نافذ ہیں۔ جس کے تحت سائبر کرائم مثلاً نفرت انگیز تقاریر، مذہبی منافرت، دھوکہ دہی، غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے، بغیر اجازت کسی کی تصویر کھینچنے، انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ، انٹرنیٹ ڈیٹا کا غلط استعمال اور موبائل فون سموں کی غیر قانونی خرید و فروخت پر عدالت کی طرف سے مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

وطن عزیز میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ان نام نہاد سوشل میڈیا صارفین کی اخلاقی تربیت ناگزیر ہے۔ اس بنا پر گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کو روکنے کے لیے سرکاری ملازمین کو گورنمنٹ سرونٹس رولز 1964 کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کی کوئی بھی ایپلی کیشن استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

نئے رولز کا مقصد ملکی سلامتی اداروں کے خلاف اور مذہبی منافرت کو روکنا ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق سوشل میڈیا کو لگام دینے کی یہ جزوی کوشش کسی حد تک کارگر ثابت ہو سکتی ہے مگر کلی طور پر نہیں۔ اگر حکومت ابلاغ کے مثبت استعمال اور ہر طرح کی منافرت سے پاک کرنے کی خواہاں ہے تو فوراً جعلی اکاؤنٹس کو بند کر دے۔ کیونکہ جعلی اکاؤنٹس چلانے والے ملک میں بدامنی و انتشار پھیلانے کی وجہ بن رہے ہیں۔ اس لیے صرف رجسٹرڈ اور شناخت افراد کی آئی ڈیز کو فعال کیا جائے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی صارف سوشل میڈیا ایپس پر سماجی اور سیاسی امور پر بے لاگ تبصرے کرے، حکومتی اداروں کی ہرزہ سرائی اور معاشرے میں بے چینی اور انتشار پھیلانے کا موجب بنے تو اسے قانونی سزا کے علاوہ ہمیشہ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغن لگا دیا جائے۔

امید کی جاتی ہے کہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے متحرک ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی کڑی نگرانی کر کے سیاست اور صحافت کی آڑ میں انتشار پھیلانے اور وطن عزیز کو تباہی کی طرف دھکیلنے والوں کا گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ پاکستان کی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لایا جائے گا تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی، علاقائی، نسلی، لسانی، مذہبی منافرت اور ملک دشمن سرگرمیوں کو بام عروج تک پہنچانے کا عمل یقینی طور پر روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS