قوم یوتھ نہر والے پل تے


پڑوس کے ہر دلعزیز شاعر راحت اندوری مرحوم نے ایک تقریب میں واقعہ سنایا تھا۔ کہ میں نے ایک مشاعرہ میں کہہ دیا حکومت چور ہے۔ تو اگلی صبح پولیس اٹھا کر تھانے لے گئی۔ ایک پولیس افسر نے کہا تم سرکار کو چور کہتے ہو۔ تو جواباً میں نے عاجزانہ عرض کی کہ میں یہ تو نہیں کہا کہ کون سی سرکار چور ہے۔ پولیس افسر یک دم بولا۔ ہمیں پاگل سمجھ رکھا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہندوستان کی سرکار چور ہے۔ کچھ ایسا ہی سننے کو مجھے ملتا ہے جب جب میں ملکی و حکومتی حالات بارے قوم یوتھ سے بحث کرتا ہوں۔

آٹا، بجلی، گیس، پیٹرول، دوائی اور چینی چور حکومت۔ یہ ایک فقرہ حکومت وقت کی تعریف ہے۔ یہ میں نہیں کہتا یہ وطن عزیز کا ہر شہری (ماسوائے قوم یوتھ) کہہ رہا ہے۔ میں اتنا سخت جملہ اپنے کریڈٹ پر اس لیے بھی نہیں لینا چاہتا کیونکہ میرے دوست و احباب کی ایک بڑی تعداد کا تعلق قوم یوتھ سے ہے۔ حالانکہ میں بار ہا انہیں سمجھا چکا ہوں کہ حکومت وقت تک نہ تو عوام کی رسائی ہے اور نا ہی مہنگائی کی۔ اس لیے آپ لوگ ہی عقل کو ہاتھ مارو۔ مگر قوم یوتھ بضد ہے کہ ہم نہر والے پل تے ہی رک کر تبدیلی کا انتظار کریں گے۔

ابھی کل ہی ایک یوتھ دوست سے شکوہ کیا کہ پٹرول پورے پانچ روپے فی لیٹر بڑھ گیا ہے۔ پہلے تو اس نے حسب معمول سمجھایا کہ اوگرا تو دس روپے کی سمری بھیجی تھی مگر خان صاحب نے تمہارے جیسے غریبوں کا خیال کرتے ہوئے اضافہ صرف پانچ روپے کا کیا۔ میرے مسکرانے اور سابقہ حکومت میں 87 روپے لیٹر ہونے پر، اسد عمر کی 53 روپے فی لیٹر والی بات یاد کروانے پر موصوف بولے۔ موبائل اتنا مہنگا رکھا ہے۔ 123 روپے میں پٹرول ڈلواتے موت پڑتی تمہیں۔

اسی طرح ایک عمران خان کے دیوانے کے سامنے میں کہہ بیٹھا کہ اتنا مہنگا آٹا، کیسے خریدیں۔ خان صاحب کی حکومت سے پہلے 20 کلوگرام آٹے کا تھیلا 750 کا تھا اب 1350 میں مل رہا۔ جھٹ سے بولا کہ آپ کو اصل بات نہیں پتہ نا۔ پہلے آٹے میں سے فلور ملز والے خاص اجزاء نکال لیتے تھے اب خان صاحب نے سختی سے منع کر رکھا ہے۔ ثبوت کے طور پر موصوف نے خان صاحب کی گفتگو دکھا دی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اب آٹا سارے نیوٹریٹنس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور فردوس عاشق تائید میں سر ہلا رہی تھیں۔

قوم یوتھ کے ایک تارکین وطن شہری سے بات چیت کے دوران میں کہہ بیٹھا کہ ملک کا برا حال ہے۔ موصوف نے پورا لیکچر دیا کہ خان صاحب بالکل صحیح ٹریک پر ملک کو لے جا رہے ہیں۔ صرف آپ جیسے پاکستانی خان صاحب کے ویژن کو سمجھ نہیں پا رہے۔

ایک بڑی اماں سے گلہ کیا کہ آپ خان صاحب کی سپورٹر ہیں پر ملک میں بد امنی پھیلی ہے۔ فوراً بولیں۔ منحوس مارا نواز شریف لٹ مار کر کے ٹبر سمیت بھاگ گیا۔

ایک حقیقی یوتھ دوست سے میں کہا۔ کہ آپ لوگوں کی باتیں تو اچھی تھیں پر اب سب کچھ ان کے برعکس ہو رہا۔ کہتا یار خان صاحب آج بھی ڈٹے ہیں، مخلص ہیں، بس وہ ذرا سجے کھبے چور اکٹھے ہو گئے۔

ایک ذرا باخبر یوتھیے انکل سے گلہ کیا کہ خان صاحب کوئی قوم کے لیے اچھے فیصلے نہیں کرپا رہے۔ بڑے رازدارانہ انداز میں بولے کہ وہ کرنے نہیں دیتے۔ میں کہا کون۔ پنڈی کی طرف اشارہ کر کے چپ سادھ گئے۔

قوم یوتھ سے تعلق رکھنے والی ایک پڑھی لکھی آنٹی سے میں الجھ پڑا کہ آپ کو سب ملکی حالات کا پتہ کہ روپیہ گر رہا ہے۔ ڈالر 170 تک پہنچ چکا۔ پچھلی حکومت میں 100 روپے پر تھا تو خان صاحب کے مطابق وزیراعظم کرپٹ تھا۔ پھر بھی آپ ان کے گن گاتی ہیں۔ جواب ملا۔ اٹ لوکس کووووووول۔

ایک میرے ذرا فیشن ایبل دوست جو کہیں بار میرے سامنے حکومت وقت کا رونا رو چکا ہے۔ ایک سوشل ایونٹ میں خان صاحب کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا۔ بعد میں میرے پوچھنے پر کہنے لگا۔ یہ فیشن میں ان ہے۔

میرے ایک عزیز رشتے دار جو قوم یوتھ کے بانیوں میں سے ہیں۔ ہر ہونے والے ملکی و قومی نقصان پر خان صاحب کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ یہ قوم ہے ہی اس قابل۔ خان صاحب جیسے لیڈر کے قابل ہی نہیں یہ قوم۔

ایک کاروباری یوتھیے دوست سے میں کہا کہ جب سے آپ کے خان صاحب آئے چینی سو روپے فی کلو گرام سے نیچے ہی نہیں آئی۔ آپ کے دشمنوں کے وقت پچاس روپے تھی۔ کہنے لگے فیر اے وی تے دیکھو کہ خان صاحب اپنے دوست چینی چور نوں وی نی چھڈیا۔ میری ایک کولیگ جو خان صاحب کی ڈائنگ ہارٹ فین ہیں اور اپنے واٹس ایپ، فیس بک پر خان صاحب کی ڈی پی لگائے رکھتی ہیں۔ جب بھی خان صاحب کی کارکردگی بارے بحث ہو تو کہتی ہیں سب چھوڑو۔ ہینڈ سم تو ہے نا۔

میرے ایک یوتھیے پڑوسی انکل جب جب ان کا بجلی و گیس کا بل تیس ہزار سے زیادہ آتا ہے تو تصدیق کے لیے میرے پاس آتے۔ تو میں ہمیشہ کہتا۔ کہ کرپٹ نواز شریف کے دور میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی اور 10.2 روپے فی یونٹ بجلی تھی۔ گھریلو صارفین کے لیے اب فی یونٹ بجلی کے نرخ 22 روپے ہیں اور آپ نے ہی تو بل جلانے والی باتوں میں آ کر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔ ایک آہ سی بھر کر کہتے ہیں۔ نواز، زرداری حکومتوں کا کیا دھرا ہے سب۔ غلط معاہدے، کرپشن وغیرہ وغیرہ۔

ایک یوتھیے دوست جو وزارت صحت سے وابستہ ہیں۔ جب بھی ان سے کہوں کہ آپ کی حکومت پچھلے تین سالوں میں گیارہ مرتبہ ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر چکی ہے۔ تو جواب ملتا ہے حکومت صحت کارڈ بھی تو دے رہی ہے۔ اور یہ بھی تو دیکھیں مفت کوڈ ویکسین لگ رہی حکومتی سطح پر۔

ایک میری قابل احترام عزیزہ جو ایک تگڑی وفاقی افسر ہیں۔ اور قوم یوتھ والا دماغ رکھتی ہیں۔ ان سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران فقط اتنا کہہ بیٹھا کہ خان صاحب داخلی و خارجی امور میں پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ بس پھر 5 منٹ کی کال کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرا۔ اور انہوں نے مجھے یقین دلوایا کہ خان صاحب، وطن عزیز کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

اور میں جب یوتھیے دوست و احباب سے کہتا ہوں کہ آپ کا لیڈر جب کنٹینر پر تھا تو اشیاء ضروریہ کی قیمتیں اس قدر نہیں تھیں، مہنگائی، بے روزگاری، غربت اتنی نہیں تھی، ملکی قرضے 45000 ارب تک نہیں تھے اور کنٹینر کے زمانے میں گھی کا کنٹینر 170 روپے فی کلوگرام میں آتا تھا نا کہ 340 کا۔ جواب ملتا ہے۔ بندہ دیانتدار ہے۔ اور 75 سالہ گند صاف کرنے میں وقت تو لگے گا۔ ویسے بھی قوموں کی تاریخ میں مشکل وقت آتا ہے۔ بس کچھ وقت کی بات پھر دنیا پاکستان کی مثالیں دے گی۔

میرے لیے یہ بات ہمیشہ سے باعث پریشانی رہی تھی۔ کہ ایک قوم کے لیے کہیں نبی بھیجے گئے مگر پھر بھی وہ قوم ہدایت نہ پا سکی۔ اب قوم یوتھ کی ضد دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا آسان ہو گیا کہ بڑی ضدی قومیں ہوتی ہیں۔ اس لیے میں اور آپ کیا ان کو سمجھائیں۔ ان جیسوں کو تو کہیں نبی راہ راست پر نہ لا سکے۔

بہرحال اس وقت قوم یوتھ میں تین طبقے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ نمبر ایک پر ہیں تارکین وطن جنہیں وطن عزیز کے زمینی حالات کی ککھ نہیں خبر۔ بس انہیں اتنی ہی عقل کہ پہلے سو ڈالر بھیجتے تھے تو دس ہزار بنتے تھے اب بیس ہزار روپے ملتے ہیں۔ یہی وہ واحد خوشی ہے تارکین وطن کی جس وجہ سے وہ خان صاحب پہ صدقے واری جا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے معاشی و ملکی ترقی کا معیار یہی ہے۔ اور مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ ڈالر، پاؤنڈ کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کے پیچھے خان صاحب کی سیاسی حکمت عملی ہے۔

کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگلا الیکشن نوے لاکھ تارکین وطن ہی جتوا سکتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر آتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے وزراء، ممبران اسمبلی، مشیران کرام کی فوج اور تحریک انصاف کے ذیلی اداروں کے ممبران اور وہ سب معززین جو حکومت وقت کی چھتری تلے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے ”اچھے دن آئے ہیں“ میں اشارہ انہی دو نمبریوں کی طرف ہے۔ کیونکہ فی الحال تو انہی کے اچھے دن چل رہے۔ تیسرے نمبر پر آتی ہیں گھریلو خواتین اور ان کے ممی ڈیڈی بچے۔

یہ سب نہر والے پل تے ہی کھڑے رہیں گے۔ آپ جو مرضی کر لیں۔ کیونکہ ان سب کو یقین کامل ہے کہ تبدیلی آوے ہی آوے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب قوم یوتھ گاتی پھرے گی۔

سانوں نہر والے پل تے بلا کے،
تے خورے ماہی کتھے رہ گیا۔

Facebook Comments HS