جام، رند اور جن
بلوچستان یوں تو ہمیشہ سیاسی تجربات کی آموزش گاہ رہا ہے۔ صوبائی درجہ حاصل کرنے کے بعد 1970ء کے انتخابی نتیجے میں 1972ء میں قائم ہوئی نیپ حکومت پہلا اور تاحال آخری عوامی سیاسی تجربہ تھا۔ جسے 9 ماہ کی مختصر مدت میں لپیٹ دیا گیا۔ اس سیاسی سانحے کے آفٹر شاکس ملک میں حقیقی طور پر آئینی سیاسی بالادستی وخودمختاری قائم ہونے تک برقرار رہیں گے۔ موجودہ حکومت 2017ء کے آخر میں تحریک عدم اعتماد لائے جانے اور نون لیگ کی تقسیم سے شروع ہونےوالے غیر مستحکم سیاسی بندوبست کے تسلسل کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی اور اسی طرز عمل کے ناگزیر نتیجے میں عدم استحکام کی شکار ہے۔ پہلے نون لیگ کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیرا گیا تھا اب کے اپنی ہی ساختہ جماعت "باپ "کو” بھاپ” بنانے کاعمل جاری ہے۔ سابقہ واقعے میں بھی سپیکر صوبائی اسمبلی جناب قدوس بزنجو روح رواں تھے اور اب بھی وہ اپنے منصب کے ساتھ (سپیکر صوبائی اسمبلی) موجود بلکہ اہم کردار ہیں۔ جام کمال خان کی حکومت روز اول سے ساتھی اتحادیوں کے تحفظات کی شکار چلی آ رہی ہے۔ رواں سال میں جام و رند کے مابین مخالفت شروع ہوئی تھی جسے بظاہر ختم کر لیا گیا تھا۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جناب سردار یار محمد رند کو نظر انداز کرنے یا ان کی خواہش پر جناب قاسم سوری صاحب کی” تجویز” کو ترجیح ملنے سے جو بحران پیدا ہوا تھا وہ باہمی مسابقت میں بدل چکا ہے اور اب حزب اختلاف کے ذریعے اسے منطقی انجام کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔ ملکی سیاسی ثقافت میں بڑھتی مداخلتی آلودگی نے اسے اچانک رونما ہونے والے حادثاتی واقعات کا مجموعہ بنا دیا ہے جو اب گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ آئینی تناظر میں معلوم یا طے شدہ ضوابط کے مطابق سیاسی عمل کے تمام مراحل” معدم” ہو چکے ہیں۔ اب یہاں کچھ بھی کسی بھی وقت کسی بھی ذریعے سے وقوع پذیر ہونا بعید نہیں بلکہ ممکن ہے مذکورہ صورتحال صرف بلوچستان تک محدود نہیں پورا ملک اس گہری دھند کی لپیٹ میں ہے اب واقعات کے بارے مناسب طور پر پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ سبھی اصول قواعد آئین طاق پہ رکھ دیے گیے ہیں تجسس اور ٹوہ لگانے کی مگر عادت ایسی سرگرمی ہے جو اب منڈی کی سیاست میں سیاسی تجزیہ کاری کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔ منڈی میں قابل فروخت ایک شے۔۔ کموڈیٹی۔۔۔ جس کی مارکیٹ و یلیو کا انحصار۔ تجزیہ کے مواد اور نقطہ نظر کی روشنی پر منحصر ہوتا ہے۔ (مجوزہ پی ایم ڈی اے نامی قانونی موشگافی اسی بندوست کی کوشش ہے۔)
جناب جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ھلکے پھلکے انداز میں لیکن بین السطور میں ایک تبصرہ یوں بھی ممکن ہے کہ اگر "جام” میں "جن” موجود ہے تو "جام” بھرا ہوا ہے اور اگر "جن” موجود نہیں تو "جام خالی” ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اب جن کہاں ہے؟ ہمارے سیاسی عمل کا سب سے موثر اور اہم عنصر ایک نادیدہ قوت ہے جسکی مرضی کے خلاف کچھ ہونا حیران کن ہوتا ہے تحریک عدم اعتماد حزب اختلاف نے پیش کی ہے جو 16 ارکان پر مشتمل ہے یہ تعداد روز اول سے ہی 16 ہے جبکہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لئے کم از کم 33 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ ایسا تو ہرگز نہیں کہ اپنی 16 رکنی استعداد پر انحصار کرتے ہوئے حزب اختلاف میدان میں کود گئی ہے۔ یقینا اسے ٹھوس ضمانت کے ساتھ یقین دہانی ملی ہوگی کہ سرکاری بینچوں سے مزید 16 یا بیس ارکان مہیا ہونگے۔ اپوزیشن نے اس بار ماضی کے برعکس بہت ٹھوس ضمانت ملنے پر پیش قدمی کی ہے معلوم ہوا ہے کہ حکومتی بینچوں سے باپ اور پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے قرآن پر قسم وحلف دے کر اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ وہ تحریک سے انحراف نہیں کریں گے، تحریک میں دم خم دیکھتے ہوئے اسے ناکام بنانے کے لئے چیئرمین سینیٹ جناب صادق سنجرانی بھی فعال ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی بحث چلی ہے کہ حکومتی بینچوں پر تشریف فرما ناراض ارکان، طاقت کے مرکز کی اجازت کے بغیر کیسے ہائی برڈ سیاسی نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوگئے ہیں؟ لیکن آثار بتاتے ہیں کہ تحریک جمع ہونے سے پہلے تک شاید معاملات اپوزیشن اور ناراض ارکان تک محدود رہے ہیں بعد ازاں سبھی بڑوں نے ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کی مگر ناکامی کے بعد ان ناراض ارکان کے گرد ایک ایسا حصار بنا دیا گیا جس سے ان کی حدود متعین ہوگئی ہیں۔ یوں باپ کو بھاپ بننے سے بچا لیا گیا ہے بصورت دیگر تقسیم کے نتائج چئیرمین سینیٹ کو بھی متاثر کر سکتے تھے مذکورہ حصار بندی کا متفقہ و محوری نقطہ مائنس جام قرار پایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جام صاحب از خود مسعفی ہو جائیں مگر بات آگے بڑھنے میں ایک رکاوٹ اگلے وزیراعلیٰ پر اتفاق رائے کا حصول ہے۔ اس مشکل مقام پر ناراض ارکان اور اپوزیشن میں بھی۔ اختلاف کا امکان ہے کیا اپوزیشن کا ہدف صرف جام کمال ہیں یا ہائی برڈ سیاسی بندوبست کا تیہ پانچا کرنا ہے۔۔ امکان ہے کہ حکومتی بینچوں میں متبادل وزیراعلیٰ پر اتفاق ہوجائے کابینہ میں رد و بدل بھی ہو سکتا محکموں کی تدیلی سے زیادہ۔ کچھ افراد کابینہ سے باہر ہو جائیں تو حیران کن بات نہیں ہو گی۔ مگر کیا اس صورت نئی حکومت کو اپنے موجودہ اتحادیوں کا ساتھ و تعاون دستیاب رہے گا؟ یا نئی حکومت کمزور عددی اکثریت کے بل بوتے پر شاخ نازک پر آشیانہ کے مثل ہوگی۔
معلوم ہوا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اگلی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے کی حد تک ساتھ ہوں گی مگر وہ سرکاری بینچوں کا حصہ بننے پر تیار نہیں۔ اگر اپوزیشن کی تین جماعتیں جے یو آئی، بی این پی مینگل اور پشتونخوا میپ بلوچستان حکومت کا حصہ بقدر حصہ بن گئیں تو پی ڈی ایم کے لیے یہ انتقال پر ملال ہوگا۔
کیونکہ ملک کے اندر اور خطے میں ابھرتے ہوئے حالیہ تنازعات۔ صف آرائی۔ مسائل اور بحران کی نازک صورتحال میں جہاں پی ٹی آئی حکومت اور ہائی برڈ سیاسی بندوبست ہچکولے کھا رہا ہے ایسے میں پی ڈی ایم بلوچستان حکومت میں ضم ہو کر نئے امکانات سے مستفید یا عہدہ برآ ہونے سے محروم رہ جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت صوبے کے بحران کو گہرا کرے گی۔ صوبائی اسمبلی کو تلپٹ کر کے ملک بھر میں فوری طور پر نئے انتخابات کے امکانات پیدا کرائے گی۔ بلوچستان پہلے بھی سیاسی بحران کا نکتہ آغاز بنا تھا۔ اب بھی یہی کردار ادا کرے گا۔ اداکار سابقہ ہوں گے مگر کردار کی بنت کاری بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔ ساغرصدیقی کے بقول۔۔۔ خالی پڑے ہیں جام ذرا آنکھ تو ملا۔

