یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ میں کلاسوں کا اجرا قیامت کے دن ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پتہ نہیں اپنے تھل کے مرکزی ضلع لیہ کے باشعور ایجوکیشنسٹ ’وکلاء‘ طلباء بالخصوص ارکان اسمبلی کو یاد ہو گا کہ نہیں ’لیہ میں بھی ایک یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا نوازلیگی دور میں شہباز شریف نے بحیثیت وزیراعلی اعلان کیا تھا‘ پھر اس یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کے لئے کچہری روڈ لیہ پر زمین مختص کی گئی تھی ’بعد ازاں یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کی عمارت بھی بنی تھی‘ بس آخری مرحلہ ’سٹاف و دیگر عملہ کے علاوہ کلاسوں کا اجراء تھا لیکن اسی شہباز شریف کے دور میں موصوف کو شاید کسی لاہور کے سمجھدار نے سمجھایا کہ یہ کیا بیووقوفانہ فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف لیہ بنانے جا رہے ہیں‘ حضور اگر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور جیسے اعلی تعلیمی ادارے لیہ جیسے پسماندہ علاقوں میں بن گئے تو لاہور کون آئے گا ’اور ان پسماندہ علاقوں سے مال کیسے لاہور کی میٹرو اور خاص طور پر افسرشاہی کی عیاشیوں کے لئے آئے گا‘ پھر وہی ہوا جو کہ تھل کے سات اضلاع کے ساتھ قیام پاکستان سے ہوتا آ رہا ہے ’مطلب یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کی تیار عمارت میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا ایک کیمپس گھسیڑ دیا گیا‘ لیہ کے ساتھ ویسی واردات ہوئی جیسے سرائیکی میں کیڑاڑ (ہندو) کے حوالے کہتے ہیں نا ’ستو لہا تے پنجو چاڑ مائی جٹی کو راضی (ساٹ کا بٹا اتار لو اور پانچ کا رکھ کر مائی جٹی کو راضی کرو) مطلب جس یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ میں کلاسیں لگنی تھیں‘ مگر آج تک وہ کلاسیں نہیں لگ سکیں ’شہباز شریف نے ایسا مکو ٹھپ دیا تھا‘ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کے ساتھ کھلواڑ کے لئے نوازلیگی ایم پی اے اعجاز اچلانہ کو یوں اپنے لیہ کے خلاف استعمال کیا گیا یا موصوف نے شہباز شریف کی تابعداری میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کا مکو ٹھپنے کے لئے بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے کیمپس کو یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کی عمارت جو کہ کلاسوں کے اجراء کی منتظر تھی ’میں لاکھڑا کیا‘ اعجاز اچلانہ نے اس کارروائی میں پنجاب حکومت کو لیہ کے خلاف کندھا فراہم کرنے کا فائدہ یہ اٹھایا کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے لیہ کیمپس کا نام اپنے ابا جی کے نام پر بہادر کیمپس رکھوا لیا اور اندر خاندان کے دیگر افراد کے نام لکھوا دیے ’ساتھ کیمپس میں رشتوں داروں کی کھیپ میرٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال بھرتی کروا دی‘ موصوف نے ذرا برابر اس بات کا احساس نہیں کیا کہ کہاں ایک طرف مکمل یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ اور کہاں ایک کیمپس؟

لیہ کے ساتھ یوں یونیورسٹی آف ایجوکیشن غائب کر کے بڑا ہاتھ کیا گیا ’اس یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کا فائدہ صرف تھل کے مرکزی ضلع لیہ کو نہیں ہونا تھا بلکہ تھل کے سات اضلاع کو ہونا تھا‘ لیکن شاید اس پر موصوف کے ابا جی کا نام نہیں ہونا تھا ’یوں یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ کو بلی چڑھا دیا‘ اب لیہ کے طلباء کے لئے یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے نہ ہونے کا عذاب یہ آیا ہوا کہ پرائیویٹ کالجوں نے تھل کی باہر کی یونیورسٹیوں کے ساتھ الحاق کر کے فیسوں کے ساتھ مختلف اشکال میں بھتہ طالبعلموں پر ڈالا ہوا ہے ’نواز لیگی ایم پی اے اعجاز اچلانہ لیہ کا سرسید احمد خان بنا ہوا ہے؟

اب کہانی نے یوں موڑ لیا ہے کہ کاغذوں میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ موجود ہے‘ یوں اب اس یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کا کیمپس بھی نہیں بن سکتا ہے؟ ظاہر ہے جہاں مکمل یونیورسٹی کاغذوں میں ہوگی ’وہاں کیمپس کس قانون و ضابطے کے تحت بنے گا؟ ادھر نیب جیسے ادارے بھی ایسے تعلیم دوست منصوبوں کے خلاف کی گئی واردات پر خاموش ہیں؟ پتہ نہیں کیوں تھل کے ساتھ یہ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے‘ نیب چیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال جب پریس کانفرنس کرتے ہیں تس یقین نہیں آتا کہ اس صاحب بہادر کے نیچے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لیہ جیسے کتنے سکینڈل ہیں جو کہ توجہ کے منتظر ہیں لیکن موصوف ہیں کہ اس طرف نظر کرم کرنے پر تیار نہیں ہیں؟

لیہ کے ساتھ صرف شہباز شریف نے کھلواڑ نہیں کیا بلکہ چودھری پرویز الہی نے بھی بحیثیت وزیراعلی پنجاب کمی نہیں چھوڑی تھی ’موصوف نے ڈسٹرکٹ ہسپتال لیہ جو کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر لیہ کی عمارت میں اونٹ اور خیمہ کے مصداق کام کر رہا ہے؟ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے لئے‘ لیہ کے ضلع بنتے وقت کی گئی زمین پر منتقل کروانے کی بجائے ’لیہ پر بڑا احسان یہ کیا کہ ایک وارڈ جو کہ میرے نزدیک غیر قانونی طور گورنمنٹ ڈگری کالج لیہ کی زمین پر بنوا دیا‘ لیکن یہ واردات بھی نیب جیسے اعلی ادارے کی نظر میں نہیں آئی اور نہ آئے گی کیوں کہ اس میں تھل بالخصوص لیہ کی عوام کا مفاد ہے؟

ایسا نہیں ہے تو نیب چیرمین جاوید اقبال تحقیقات کا حکم دیں؟ ایک اور بھی لیہ کے ساتھ نواز لیگی دور میں جب ابا جی شہباز شریف وزیراعلی تھے اور حمزہ شہباز شریف پنجاب بالخصوص تھل کی قسمت کے فیصلے کر رہے تھے ’موصوف نے باریک واردات یوں ڈالی کہ لیہ شہر کے وسط پھاٹک کے پاس گلبرگ ہوٹل کے ساتھ جڑے جی ٹی ایس کی اربوں کی زمین ملتان کی ایک پارٹی کو لیہ انتظامیہ کے ناجائز تعاون سے ملتان کے فرنٹ مین کو دلوا دی‘ اخبارات میں شور مچا ’لیکن لیہ انتظامیہ‘ آج تک وہ فائل سامنے نہیں لائی ’جو کہ اربوں کی لیہ کی زمین ملتان کی پارٹی کو دی گئی تھی‘ نیب اس پر بھی خاموش ہے ’کیوں؟ وضاحت تو آنی چاہیے‘ ؟ ادھر شاباش ہے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار تک کہ ان کے لئے شہباز شریف کے ایسے سکینڈلز کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments