اگر لباس کا تعلق ریپ سے ہے تو پھر کانفیڈنس کا تعلق اعتماد سے کہنے پہ سیخ پا کیوں ہیں؟
دو تین دن سے سوشل میڈیا پہ ایک شور مچا ہے۔ بظاہر پڑھے لکھے لوگ بھی پروفیسر ہود بھائی کے ایک وڈیو کلپ کو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں کہ ہود بھائی نے جو سٹیٹمنٹ دی ہے۔ وہ تعصب پہ مبنی ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم ان کے اس بیان پہ بات کریں۔ پہلے ہم شخصی آزادی اور اس کے احترام پہ بات کر لیتے ہیں۔ میرے نزدیک بطور انسان ہر وہ فرد جو بنا کسی جبر کے اپنے جسم پہ اختیار رکھتا ہے، وہ جو چاہے پہنے، اوڑھے۔ یہ اس کی ذاتی چوائس ہونی چاہیے۔ یہاں پہ یہ بات واضح طور پہ سمجھ لیجئیے کہ میں نے فرد کی بات کی۔ اس میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
بطور انسان فرد کو اپنے جسم و ذہن پہ اختیار ہونا چاہیے۔ مگر ہمارے یہاں بدقسمتی سے اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے۔ پلاننگ کے ساتھ نہ تو شادیاں ہوتی ہیں نہ ہی بچے۔ بنا کسی سمجھ بوجھ کے بس معاشرے میں بچے پر بچہ پیدا کر لیا جاتا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ ایک انسان کا اس معاشرے میں جو کردار ہونا چاہیے۔ کیا ہم وہ کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ ایک باشعور نسل اس معاشرے کو دے سکیں۔ ہم صرف خود سے ہونے والے سوالات سے بچنے کے لیے جلد سے جلد ایک وجود کو دنیا میں لانا چاہتے ہیں۔
بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی اس پہ پہلے تو اپنے والدین، خاندان اور پھر معاشرے کا پریشر پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ آپ غور کریے جس گھر میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ پیدا ہوئے بچے کے نام سے لے کر مذہب، عقیدے، مسلک اور قبر تک کے معاملات وہی طے کرتے ہیں۔ جو کہ ان کے باپ دادوں نے ان کے لیے کیے۔
آزاد معاشروں میں آزاد انسان جنم لے گا۔ مگر ہماری غلامانہ ذہنیت پیدا ہوتے ہی بچے کی سوچ پہ قبضہ شروع کر دیتی ہے۔ بیٹا اور بیٹی کا پہلا امتیاز گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد گلی محلہ اور سکول کالج اور پھر شادی تک یہ چیز اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہمارے معاشرے میں بطور انسان نہ تو مرد آزاد ہے نہ ہی عورت۔ بدقسمتی سے عورت کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ تو اس لحاظ سے غلام عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔
بچہ جس گھر میں پیدا ہوتا ہے اس کی تربیت اس گھر کے چلے آ رہے ماحول کے تحت ہو گی۔ کھانا پینا کپڑے پہننا اٹھنا بیٹھنا سب ویسے ہو گا جیسے اس گھرانے میں سالوں سے چلا آ رہا ہو۔ بچہ جب دو سے ڈھائی سال کی عمر میں ہوتا ہے تو آپ غور کیجئیے گا۔ وہ اپنی پسند ناپسند کسی حد تک بتانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ کچھ چیزیں اسے پسند ہوں گی۔ کچھ پہ ناک منہ چڑھائے گا۔ کپڑے پہننے کے معاملے میں بھی یہی معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ہم اسے شلوار کے ساتھ قمیض ہی پہنانا چاہتے ہیں۔ مگر وہ شلوار کے ساتھ ٹی شرٹ پکڑ کے بیٹھا ہوتا ہے۔ ہم اپنی کر کے اسے اپنی مرضی کا لباس پہناتے ہیں۔ یہاں سے بچے میں جھنجھلاہٹ شروع ہوتی ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی عادی ہوتا جاتا ہے۔
لڑکے اور لڑکی کی پرورش میں ایک واضح فرق تو صنفی ہے۔ اور دوسرا ان کے لباس کے معاملے میں بھی ہے۔ لڑکا نیکر پہن سکتا ہے۔ لڑکی نہیں پہن سکتی۔ توجیہہ اس کی یہ ہو گی کہ لڑکی کیوں نیکر پہنے۔ یہ تو بے شرمی ہے۔ تھوڑا بڑے ہونے پر بچیوں کو شلوار قمیض پہنا دی جاتی ہے۔ دوپٹہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ مگر لڑکوں کو ہنوز نیکر پہننے کی بھی اجازت ہے اور جینز کی بھی۔
لڑکی جینز پہننے کی ضد کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں جینز نہیں پہنتی۔ یہ جملہ کہ لڑکیاں یہ نہیں کرتیں لڑکیاں وہ نہیں کرتیں ان بدنصیبوں کے ساتھ قبر تک چلتا ہے۔ عمومی تعداد جو اسی جملے کو سچ کرتے کرتے مٹی ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف جو چند اس جملے کو ماننے سے انکار کریں۔ ان پہ آوارہ، آزاد خیال اور بدمعاش عورت کے ٹھپے لگ جاتے ہیں۔
لڑکیوں کا کالج جانا ویسے تو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کہیں لڑکی کی مان کر آگے پڑھنے کی اجازت مل جائے تو ساتھ ایک شرط عبایہ کی رکھ دی جاتی ہے۔ ایک مخصوص عمر پہ پہنچنے کے بعد لڑکیوں کو عبایہ پہننا پڑتا ہے کہ ان کی ماں اور ماں کی ماں دادی نانی اور ان کی بھی مائیں سب یہی پہنتی تھیں۔ سو اب یہ واجب ہے کہ تم بھی پہنو۔
یہ جبر کہ ایک چیز کو آپ نے روزمرہ کی بنیاد پہ استعمال کرنا ہے۔ آپ کے ذہن کو جھنجھلائے کے لیے کافی ہے۔
آپ کسی روز تجربہ کیجئیے۔ آپ صبح اٹھ کے چڑیوں کے لیے دانہ اور پانی کے پیالے بھر کے رکھئیے۔ آپ بنا کسی بھی پریشانی کے یہ کام انجام دیتے جائیں گے۔ لیکن اگر کسی دن آپ کو یہ کہا جائے کہ کل سے ہر روز چھ بجے پرندوں کا کھانا چھت پہ رکھنا ہے۔ آپ کو اپنے ذہن پہ بوجھ محسوس ہونے لگے گا۔ آپ پہلے چڑ جائیں گے۔ پھر اکتائیں گے۔ اور آخر میں وہی کام جسے آپ شوق و خوشی سے کرتے تھے۔ اس میں بے دلی اور اکتاہٹ شامل ہو جائے گی۔
یہی چیز آپ لباس کے معاملے میں سمجھ لیں۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند کے کلچر میں برقع یا عبایہ کبھی ایسے شامل نہ تھا۔ جیسے اب اسے لازم و ملزوم سمجھا جانے لگا ہے۔ یاد رکھئیے لباس جسم کو ڈھکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لباس میں شلوار قمیض ساڑھی جینز سبھی کچھ شامل ہے۔ میں اس میں عبایہ کو بھی شامل کر لیتی ہوں مگر عبایہ ہمارا کلچر نہیں۔ یہ بدوؤں کا کلچر ہے جو ہم پہ مسلط کیا جا رہا ہے۔
اب یہاں سے بات کرتی ہوں ہود بھائی کے بیانئیے کی جو انہوں نے کہا کہ عبایہ والی لڑکیاں کانفیڈنس کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔ سوال نہیں کرتیں۔ اگر آپ اس بات کو سمجھیں تو میں اسے ریلیٹ کرنا چاہوں گی۔ کہ جس وقت عورت کے ساتھ زیادتی کے واقعات پہ اس کے کپڑوں کو وجہ بنایا جاتا ہے۔ تو ہم یہی بات کہتے ہیں کہ عورت کا ریپ اس کے کپڑوں کی وجہ سے نہیں۔ ریپسٹ کے دماغ اور اس کی سوچ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ایسے ہی جب ہود بھائی نے کہا تو اس کا مطلب عبایہ پہ تنقید نہیں تھا۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ جب لڑکیوں کے دماغ پہ ان کا اپنا کنٹرول ہی نہیں تو وہ اعتماد سے کیسے رہ سکتی ہیں۔ آپ مانیں نہ مانیں مگر والدین معاشرے اور کہیں نہ کہیں ریاست نے بھی عورت کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ عبایہ ان کی حفاظت کا معیار یا چیز ہے۔ اگر وہ عبایہ پہنیں گی تو وہ ہراسمنٹ اور ریپ سے محفوظ رہیں گی۔ اگر وہ کم بولیں گی تو لوگ ان کی جانب کم متوجہ ہوں گے۔ حتی کہ ہر ممکن طریقے سے لڑکیوں کو یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ کم بولنا، نمایاں نہ ہونا ان کی حفاظت کے لیے کس قدر ضروری ہے۔ اور اس ضرورت میں پہلا حصہ عبایہ یا برقع کی صورت سامنے آتا ہے۔
جب آپ کسی بھی فرد کی سوچ کو اس حد تک دبا دیتے ہیں تو وہ اعتماد کے ساتھ معاشرے میں کیسے چل سکتے ہیں۔ اب یہاں میجارٹی کے بعد بات ان کی آتی ہے جو لڑکیاں اپنی مرضی سے حجاب نقاب اور عبایہ پہنتی ہیں۔ اس کی توجیہہ جو ان کی جانب سے سامنے آتی ہے اور جو مشاہدہ میں نے بھی کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یونیورسٹی اور آفسز میں جاب کرنے والی لڑکیاں جن کا تعلق سفید پوش طبقے سے ہے۔ وہ کپڑوں کی کمی کی وجہ سے عبایہ پہنتی ہیں۔ ان کے بقول روز نیا جوڑا کہاں سے پہنا جائے۔
عبایہ کی بدولت وہ ہفتہ بھر ایک ہی جوڑا پہن کے اوپر عبایہ پہن کے چلی جاتی ہیں ان کی عزت بنی رہتی ہے۔
اس لیے آج کل اگر زیادہ لڑکیاں عبایہ میں نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ ان کا مقصد صرف پردہ نہیں بلکہ اپنے بغیر استری شدہ کپڑوں کو چھپانا اور کپڑوں کی کمی کے مسلے کو حل کرنا بھی ہے۔
اگر آپ یہ دلیل لاتے ہیں کہ کانفیڈنس کا تعلق کسی بھی لباس یا عبایہ سے نہیں تو اس بات پہ بھی یقین لے آئیں کہ ریپ کا تعلق بھی عورت کے لباس سے نہیں۔ ورنہ قبر میں تو ایک سفید کپڑا ہوتا ہے۔ جو ظاہر ہے پرووک نہیں کر سکتا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ لڑکی جینز پہنے سکرٹ پہنے فراک پہنے یا عبایہ پہنے۔ اگر اسے ذہنی سکون و خوشی ملتی ہے تو وہ ضرور پہنے۔ مگر اگر آپ بندوق کی نوک پہ برقع پہنائیں اور کہیں کہ اسے پہن کے ہی تم لوگ روزمرہ کے کام انجام دے سکتے ہو تو یہ جبر کسی طور قابل قبول نہیں۔ عورت کے لیے یہ معاشرہ اگر رہنے کے قابل بنانا ہے تو مردوں کی تربیت اس نہج پہ کریں کہ ان کی آنکھوں پہ برقع پڑا رہے، شرم و حیا و عورت کے احترام کا۔ پھر چاہے آپ عورت کو بکنی میں باہر نکال دیں۔ کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔
آزمائش شرط ہے مگر آزمائے گا کوئی نہیں۔


