ھم دیکھیں گے (گزشتہ سے پیوستہ)


اج دولتاں ساڈے گھر آ گئیاں نیں

جب بھٹو برسراقتدار آئے تو پاکستان ٹی وی کی لائیو ٹرانسمیشن میں ساری رات بھٹو صاحب کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا تھا مجھے دس بجے کے قریب فیض کا فون آیا، کہا، ‘ آ جاؤ،’ میں ہوٹل انٹر کا نٹیننٹل پہنچا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ دروازے پر گھنٹی دی تو ایک دبلا پتلا شخص نمودار ہوا اور دروازے کے چوکھٹے میں آڑا ہو کر ایسے کھڑا ہوگیا کہ میں اندر نہ داخل ہو سکوں، یہ فلم ڈائریکٹر اے جے کاردار تھا جسے میں غائبانہ طور پر جانتا تھا۔ اس نے بڑی بدتمیزی سے مجھے گھورتے ہوئے کہا، ‘ یس؟’ اس سے پہلے کہ میں اسے جواب دیتا فیض صاحب نے اندر سے مجھے دیکھ لیا اور کہا، ‘آؤ بھئی آؤ!’ کاردار تھوڑا پریشان ہوا اور اسے مجبوراً دروازے سے ہٹنا پڑا، فیض صاحب نے مجھے اپنے ساتھ صوفے کے بازو پر بٹھا لیا۔ کاردار ابھی تک مجھے غصے سے گھور رہا تھا۔ کمرے میں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے، عبدللہ ملک، ایوب مرزا اور شاید عابد شاہ۔

 ‘بھئ سرمد کے لیے کچھ لے کر آو’ فیض صاحب نے کاردار سے کہا۔ ٓ کاردار نے ایک بار پھر مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا اور میرا گلاس بنانے لگا۔ ۔ فیض صاحب غالبا کاردار کی باڈی لینگوئج یعنی ‘عضولاتی لسانیات’ ( ترجمہ مقتدرہ) سمجھ گئے تھے، ‘بھئی یہ کاردار ہے۔ ‘ انہوں نے مجھ سے کہا- میں نے کاردار کے ہاتھوں سے گلاس لیتے ہوئے گرم جوشی سے کہا’ آف کورس، انہیں کون نہیں جانتا، ‘ کاردار کچھ ڈھیلا پڑ گیا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ میں نے ابھی اس کی بد تمیزی کا انتقام لینا ہے۔ چنانچہ اسی زمانے مہں ایک اختر کاردا ر بھی تھا جو فلمیں تو نہیں فلموں کے بورڈ بناتا تھا۔

، کمال کا کام ہے سر۔ میں نے ان کے کئی فلمی بورڈ دیکھے ہیں’ میں نے گرم جوشی سے کہا۔ اس سے پہلے کہ کاردار میرے سر پر گلاس مار دیتا فیض صاحب نے مجھے سختی سے کہا ‘نہیں بھئ یہ اے جے کاردار ہے۔ ‘

‘اوھو، آی ایم سو سوری سر، میں تو آپ کا بہت بڑا مداح ہوں وٹ این اونر ٹو میٹ یو سر!۔ چیئرز!’ اس کے بعد کاردار خاموشی سے فرش پر اکٹھا ہو کر بیٹھ گیا اور پھر جب بھی اٹھا میرا گلاس بنانے کے لئے ہی اٹھا۔

"بھئی ہم نے ایک نظم لکھی ہے، اسے سنو۔ ” فیض صاحب نے ایک کاغذ کا پرزہ نکالا اور بھٹو صاحب کی آمد پر تازہ کہی ہوئی نظم سنائی جو انہوں نے پنجابی اور اردو دونوں میں لکھی تھی۔ مجھے پوری نظم یاد نہیں لیکن اس کا پہلا مصرعہ تھا

کہو بسم اللہ

اج دولتاں ساڈے گھار آئیاں نیں ( کہو بسم اللہ آج ہمارے گھر دولتیں آگئی ہیں) اردو کا حصہ یہاں سے شروع ہوتا تھا

سحر کی بات کرو اب سحر کی بات کرو

نظم ختم ہوئی تو فیض صاحب کے پرستاروں نے پنجابی اردو کی بحث چھیڑتے ہوئے فیض صاحب کی نظم کو ایک انقلابی معرکہ قرار دیا۔ اس رات سارے ترقی پسند یہی سمجھ رھے تھے کہ پاکستان میں سوشلزم آچکا ہے۔ بھٹو صاحب کے تو ہم بھی گرویدہ تھے لیکن ان کے نعرے،’ ادھر ہم ادھر تم’ نے ہمیں شش وپنج میں ٖڈال دیا تھا۔ فیض صاحب نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا ‘ فیض صاحب میرے خیال میں تو آپ کو یہ نظم نہیں پڑھنی چاھیے-‘

یکدم فیض صاحب کے حواریوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ‘کیا مطلب؟’ ایک نے پوچھا

 میں نے کہا ‘ میرے خیال میں شاعر سیاست دان سے بڑا ہوتا ہے۔ ‘

‘بھئی کیا بکتے ہو،’ فیض صاحب نے کہا، ‘ اس ملک میں یہ پہلا لیڈر آیا ہے جو سوشلزم کا نام لیتا ہے- ہمیں اسکا ساتھ دینا ہے’ اس کے بعد میں نے کچھ نہ کہا اور ہم سب لوگ فیض صاحب کو لیکر ٹی وی پہنچے جہاں انہوں نے لائیو ٹرانسمیشن میں یہ نظم پڑھی۔ اسی واقعے کے پانچ سال بعد جب جنرل ضیا نے بھٹو کا تحتہ الٹ کر قرآن کی آیت سے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو اشفاق احمد نے کہا، ‘ سرمد، اس ملک میں یہ پہلا لیڈر آیا ہے جو اسلام کا نام لیتا ہے- ہمیں اسکا ساتھ دینا چاھیے’۔ مجھے نہ جانے کیوں اس وقت برتول بریخت کا ایک مکالمہ یاد آرھا ہے، آپ بھی سنئے ‘ افسوس ہے اس قوم پر جسے ایک ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے-‘

 پنجواں چراغ

فیض صاحب جب پاکستان نیشنل کونسل کے ڈائریکٹر جنرل تھے تو انہیں ایران سے ڈانس تھیٹر فسیٹول کا دعوت نامہ آیا۔ فیض صاحب نے مجھے یہ ڈرامہ لکھنے کو کہا، میں نے ان سے اپنے ایک پنجابی کا ڈرامے ‘ پنجواں چراغ’ کا ذکر کیا جو شہبازقلندر کے بارے میں تھا۔ کہنے لگے ‘ بھئی وہ تو آیا ہی ایران سے تھا اور پھر دھمال اور موسیقی بھی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بس یہی ہمیں چاھیے’۔ اس سارے ہفتے فیض صاحب اس ڈرامے کی بات کرتے رھے۔ ایک دن نور جہاں آ ئیں تو انہوں نے اس سے بھی ڈرامے کی بات کی، نور جہاں نے ہم سب کو اپنے گھر پر کھانے کی دعوت دی۔ دوسرے دن میں اعتزاز احسن، صوفی تبسم اور فیض صاحب لبرٹی مارکیٹ کے قریب نور جہان کے گھر کی طرف چل پڑے- نورجہاں کا گھر سڑک سے کچھ دور جگہ پر واقع تھا۔ ایک کچی پگڈنڈی اس کے گھر کی طرف جاتی تھی، ہم نے دیکھا کہ اس پگڈنڈی کے دونوں طرف حسین رقصاؤں اور اداکاراوں کی قطاریں ہاتھ میں پھولوں بھرے تھال اور ٹوکریاں لئے ہمارے استقبال کو کھڑی ہیں۔ ہم گزرتے جاتے اور وہ ہم پر پھولوں کی بارش کرتی جاتیں۔ دروازے پر نورجہاں خود کھڑی تھیں۔ ہم اندر داخل ہوئے تو دیکھا کوئی پانچ چھ مشہور میوزک ڈائریکٹر اور کوئی بیس سازندے بیٹھے تھے، ہمارے علاوہ نورجہاں نے کسی کو نہیں بلایا تھا، یہ موسیقی کی محفل تھی جس میں رات گئے تک شہبازقلندر کے گانے چلتے رھے۔ آخر میں نورجہاں نے فیض صاحب کی نظم ‘مجھ سے پہلی سی محبت’ سنائی اور محفل اختتام کو پہنچی۔ نور جہان فیض صاحب کو رخصت کرتے ہوئے پہلے ان سے بغل گیر ہوئی اور پھر ان کے رخسار پر بوسہ دیا- صوفی صاحب کن اکھیوں سے یہ منظر دیکھ رھے تھے اور مسلسل اپنا برھنہ سر کھجا کھجا کر شرارتا مسکرا رھے تھے۔ نورجہان نے صوفی صاحب کو دیکھا اور کہا ” آ وۓ گنجیا توں کی ٹکر ٹکر ویکھناں پیا ویں۔ آجا توں وی جتھے چمنا ای چم لے'(او گنجے تو کیا باری باری گھور رہا ہے، آ جا تو نے بھی جہاں چومنا ہے چوم لے)۔

فیض صاحب نے دوسرے دن شام کو واپس اسلام آباد جانا تھا۔ صبح صبح فون آیا کہ میں اپنا ڈرامہ لیکر فیض صاحب کے پاس پہنچ جاؤں-

‘ بھئی ہم تو سارا ہفتہ اس ڈرامے کی تیاریاں کرتے رھے اور ہم نے تمہارا سکرپٹ ہی نہیں دیکھا۔ ہمیں پڑھ کر سناؤ’

 عثمان مروندی شہباز قلندر کے حوالے سے روایت ہے کہ جب ان کو راجہ نے زنجیروں میں جکڑ کر قلعہ میں قید کردیا تو ایک رات قلندر نے اپنی مستی میں ناچنا شروع کردیا۔ اس دھمال میں اس کی زنجیریں پگھلنا شروع ہو گئیں اور قلعہ الٹ گیا، ‘پنجواں چراغ’ کا بنیادی استعارہ اسی واقعے سے پیدا ہوا کہ ناچنا دراصل اپنے تعصبات اور سماج کی غیر انسانی پابندیوں سے آزاد ہونا ہے، میرے ڈرامے میں سندھ کے پس منظر میں قلندر کے مزار پر سارے مجاور اپاہج اور لولے لنگڑے ہیں- ان میں ایک اور بندہ شامل ہوتا ہے جس کے ہاتھ پیر تو سلامت ہیں لیکن وہ پورا مفلوج ہو چکا ہے، یہ قلندر شہباز ہے اور باقی اپاھج مجاور اس کے ماضی کے ساتھی ہیں۔ ان سب لوگوں کو اپنا ماضی یاد نہیں، وہ نہ ہی شہبازقلندر کو پہچانتے ہیں، نہ قلندر جانتا ہے کہ وہ شہباز قلندر ہے، وہ سب ناچنا بھول چکے ہیں-

میں ڈرامہ پڑھتا چلا جارھا تھا اور فیض صاحب سگریٹ پہ سگریٹ پیۓ جارھے تھے۔

جب میں آدھے سے زیادہ ڈرامہ پڑھ چکا تو دیکھا فیض صاحب نے اٹھ کر ٹہلنا شروع کردیا ہے- وہ ٖڈرامہ سننے جاتے اور بے چینی سے ٹہلتے جاتے، ان کی یہ بے چینی میری سمجھ میں نہیں آ رھی تھی لیکن میں نے ٖڈرامہ جاری رکھا۔ ڈرامہ ختم ہوا تو وہ رک گئے- میں نے ان کی طرف ان کا رد عمل جاننے کے لئے دیکھا لیکن انہوں نے بغیر کچھ کہے ایک لمبی سانس لی اور پھر دوبارہ ذرا کم رفتار سے ٹہلنا شروع کردیا۔

‘کیا ہوا فیض صاحب؟ ‘

‘بھئی ڈرامہ تو تم نے غضب کا لکھ دیا ہے،

‘ اچھا فیض صاحب ؟’

‘ھاں بھئی لیکن—’

‘لیکن کیا فیض صاحب؟’

‘ بھئ ایران میں تو مارکسسٹوں کو ویسے ہی گولی وولی مار دیتے ہیں۔ ‘

‘حد ہو گئی فیض صاحب اس میں کونسا مارکسزم ہے، یہ تو ہمارے ملک کی صورت حال ہے۔ اس کا ایران کی سیاست سے کیا تعلق؟’

‘نہیں بھئی نہیں اس کو صرف تصوف کے حوالے سے لکھو، ایسے تو یہ بہت خطرناک ہے۔ ‘

‘فیض صاحب یہ آپ کہہ رھے ہیں۔ کمال ہے!’

فیض صاحب نے بغیر جواب دئیے ایک اور سگریٹ سلگا لیا۔

‘فیض صاحب تو ڈر گئے’ میں نے مذاق سے سلیمہ سے کہا

‘ لو تمہیں اب پتہ چلا ہے، میرا باپ تو بڑا ڈرپوک ہے۔ ‘ سلیمہ ہاشمی نے ہنستے ہوئے کہا –

 فیض صاحب واپس اسلام آباد چلے گئے اور’ پنجواں چراغ’ ایرانی فیسٹول میں نہ دکھایا جا سکا، اس واقعے کے دس پندرہ سال بعد جنرل ضیا کے دور میں لاھور میں مدیحہ گوھر کے گھرکے لان میں پرائیوٹ طور پر دکھایا گیا –

 صادقین

فیض صاحب کی صحبت میں جن بڑے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا اور جن سے بہت پیاری دوستی بھی رھی ان میں صادقین بھی تھے۔ ان سے ملاقات ذرا ناخوشگوار حالات میں ہوئی۔

ایک ڈنر پر میں اور فیض صاحب میز پر بیٹھے کھانا کھا رھے تھے- ہماری گپ شپ چل رھی تھی کہ صادقین اپنی کھانے کی پلیٹ لیکر ہمارے ساتھ آکر بیٹھ گئے، ذاتی طور پر نہ صادقین مجھے جانتے تھے نہ میں انہیں- فیض صاحب باتوں میں محو تھے اس لیے انہوں نے صادقین کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ صادقین نے اس پر ایک جھومتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا، ‘ فیض صاحب یہ آپ کس کل کے لونڈے سے گفتگو کر رھے ہیں؟’۔ فیض صاحب نے کہا ‘بھئی ہم تو ان نوجوانوں ہی سے سیکھتے ہیں ‘ میں نے انگریزی میں تمسخرانہ لہجے میں صادقین سے پوچھا،’ صادقین کھانا کیسا ہے؟’ وہ تھوڑا بوکھلا گئے، کہا، ‘اچھا ہے’ ‘ تو پھر اپنے کھانے پر دھیان دو’ میں نے کہا۔ صادقین وھاں سے اٹھ کر لاؤنج میں چلے گئے – انہوں نے ادھر ادھر لوگوں سے میرے بارے میں پوچھ گچھ کی، جب میں کھانا کھا کر لاونج کی طرف بڑھا تو دیکھا صادقین اپنے دونوں بازو کھول کر کھڑے تھےا۔ ‘ اوہ تو تم سرمد صہبائی ہو، ارے میری جان، ‘ وہ میری طرف بڑھے اور بڑے تپاک سے بغل گیر ہوتے ہوئے بولے ‘ کبھی فقیر کے سٹوڈیو آو، فقیر صادقین تمہیں ایسے معجزے دکھاۓ گا کہ با خدا عجائبات مصر تمہیں کھلونے لگیں گے۔ ‘

اس ملاقات کے بعد میں ان کے سٹوڈیو گیا اور ان کے معجزات فن دیکھے، رباعیاں سنیں – اب جب کبھی ملتے تو ایک نحیف اور منخنی جسم کی کوریوگرافی کرتے ہوئے اپنے خاص لہجے میں کہتے، ‘ لو بھئی اپالو آگئے ہیں، اورفئیس ہیں۔ لگتا ہے میں یونان کی گلیوں میں پھر رھا ہوں۔ شاعر ہیں مگر مصور کی آنکھ رکھتے ہیں۔ اہل جمال ہی نہیں اہل کمال بھی ہیں۔ با خدا اگر میں اٹھارہ سالہ دوشیزہ ہوتا تو ان پر عاشق ہوجاتا۔ ‘ میں کہتا، ‘صادقین صاحب مجھے ایسی نحیف اور منحنی دوشیزہ نہیں چاھیے-‘

 نوبل پرائز

 ایک زمانے میں ادبی حلقوں میں یہ کہا جارھا تھا کہ فیض صاحب کو نوبل پرائز ملنے والا ہے۔ مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا فیض آپ کو نوبل پرائز نہیں ملے گا۔

‘کیوں بھئ ؟’

فیض صاحب جب کوئی بڑا شاعر کسی دوسری زبان میں ترجمہ ہوتا ہے تو وہ زبان تھر تھر کانپنے لگتی ہے۔ اسلئے کہ ایک نیا اور اجنبی تہذیبی تجربہ اسمیں داخل ہورہا ہوتا ہے، کچھ ایسے کلچرل کوڈ زھوتے ہیں کہ جن کا دوسری زبان میں منتقل ہونا تقریباً ناممکن ہوتا ہے- اسلئے جس زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے وہ زبان بدل کر نئی ہوجاتی ہے لیکن آپ اپنی شاعری کا انگریزی ترجمہ دیکھیں ایسے ایسے نمونے ملتے ہیں

Goblet of thy neck,/ cheek of my heart, /arrows of thy separation /hand of thy memory

یا پھر کرنن کا ترجمہ

Oh my beloved do not ask me for the former love.

 آپ کی اس قسم کی ٹرانسلیشن سے تو انگریزی اٹھارویں صدی میں چلی جاتی ہے’

‘بھئی کیا بکتے ہو۔ ‘

ٹھیکیداری اور آرٹ

 اسی زمانے میں علی کاظم جو گورنمٹ کالج میں میرے سینئر دوستوں میں تھا، آرٹ کونسل لاھور کا عارضی طور پر ڈاریکٹر بنا دیا گیا۔ ایک دن اس کا فون آیا کہ وہ اور کچھ لوگ شام کو میرے گھر آرھے ہیں۔ چنانچہ علی کاظم، مہاراج کتھک، احمد خان، ظہورالاخلاق اور آرٹ کونسل کی گورننگ باڈی کے کچھ اور لوگ کھانے پینے کا سامان لیکر میرے گھر آگئےـ علی کاظم نے کہا ہم تم سے ایک بات کرنے آۓ ہیں اور تم نے انکار نہیں کرنا، میں نے کہا بتاؤ، اس نے کہا ہم چاھتے ہیں کہ تم الحمرا کے ڈائریکٹر بن جاؤ۔ میں نے کہا مجھے کئی سال پہلے بھی میرے دوست اعتزاز احسن کی طرف سے یہ آفر ہوچکی ہے لیکن مجھے اس قسم کی سیاسی تقرریوں میں ہرگز کوئی دلچسپی نہیں، انہوں نے کہا یہ آفر تمہیں کوئی منسٹر نہیں ہم گورننگ کونسل کے ممبر کررھے ہیں، اس پر میں نے احمد خان سے پوچھا ‘ خاں صاحب آپ میرے لئے سٹیج ڈراموں کے سیٹ بنائیں گے، انہوں نے کہا، ‘ بالکل’ اوروں سے پوچھا تو سب نے کہا ہم خود تمارے سارے پراجیکٹس میں شامل ہوں گے۔ میں نے سوچا اس سے بڑھ کر مجھے کیا چاھیے کہ اتنے بڑے لوگ الحمرا کے پروجیکٹس میں میرے ساتھ کام کریں گے، میں نے کہا مجھے منظور ہے۔ اسی ہفتے مجھے سیکرٹری کلچر کا خط آگیا۔ اچانک مجھے فیض صاحب کا فون آیا، اس وقت وہ نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ انہوں نے مجھے اپنے گلبرگ کے دفتر میں آنے کو کہا، میں چلا گیا۔ سیکرٹری کا خط ان کے سامنے پڑا تھا، اور وہ خاصے پریشان دکھائی دے رھے تھے۔ غالبا انہیں میری ایمپائنٹمنٹ کی خبر دیر میں ملی تھی۔ کہنے لگے ‘ کیوں بھئی تمہیں کرسی کا بڑا شوق ہے؟’

میں حیران ہوا کہ فیض صاحب مجھ سے یہ کیوں کہہ رھے ہیں، میں نے انہیں پچھلے ہفتے کا سارا واقعہ سنایا اور کہا فیض صاحب میرے پاس تو پہلے سے اچھی بھلی نوکری موجود ہے یہ تو میں ان دوستوں کی وجہ سے قبول کی ہے۔

‘بھئی تم ایک کریٹو جینئیس ہو، تمہں یہ ٹھیکے داری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ‘

‘ فیض صاحب اس ملک میں ادیبوں شاعروں کو اپنے جینئس ہونے کی تنخواہ نہیں ملتی، انہیں کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے،’

‘ نہیں بھئی چھوڑو، یہ تمہارا کام نہیں، یہ ٹھیکے داری ہے’

‘فیض صاحب آپ یہاں کیا کر رھے ہیں؟ کیا یہ ٹھیکے داری نہیں؟’ میں نے کہا۔

‘ھاں بھئی ہم نے تو کی اب تم تو نہ کرو-‘

میں خاموش ہوگیا، فیض صاحب نے فون اٹھایا اور سکرٹری کو کہا بھئی وہ ہمارے سامنے بیٹھا ہے

He has declined the offer.

 ایک دو دن میں ہم تمہیں نام بتا دیں گے’

مجھے فیض صاحب پر وقتی طور پر غصہ تو آیا لیکن اس سے پہلے کہ میں یہ سب کچھ بھول جاتا مجھے پتہ چلا کہ ایک احمق ترین سکشن آفیسر کو فیض صاحب نے ڈائریکٹر بنا دیا ہے۔ نیئو یئر نائٹ آئی تو راویت کے مطابق ہم کچھ دوست مختلف پارٹیوں پر ایک آدھ گھنٹہ رک کر کسی دوسری پارٹی پر چلے جاتے۔ ایک پارٹی میں داخل ہوئے تو سامنے فیض صاحب اپنی بیگم ایلس کے ساتھ بیٹھے نظر آے- میں نے ان کو دیکھتے ہی بلند آواز میں کہا

Alice! how do you tolerate this cultural mafia.

 ‘ ایلس آپ اس کلچرل مافیا کو کیسے برداشت کرتی ہیں’

ایلس نے فیض صاحب سے کہا، ‘

‘Faiz what is he talking about?’

(فیض یہ کیا کہہ رھا ہے)

فیض صاحب ہنس کے کہنے لگے، بھئی یہ ہمارا دوست ہے۔ جو کہتا ہے اسے کہنے دو۔ ‘

میں نے کہا ‘ فیض صاحب آپ نے اپنے اندر بڑے شاک ابزاربر چھپا رکھے ہیں میں آپ کو چاقو مارتا ہوں تو آپ اس کا جواب مسکراھٹ سے دیتے ہیں – جو لوگ آپ کا وثزن شیئر کرتے ہیں آپ انہیں اپنے سے الگ رکھتے ہیں اور اہسے ڈڈ ز( کند ذھن) کو اپنے اردگرد بٹھاتے ہیں جن کا آرٹ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ لوگ کلچرل ڈینڈ رف ہیں ان کو اپنے کندھوں سے جھاڑ دیں-‘ اس بات پر فیض صاحب خوب ہنسے اور کہا۔

‘ھاں بھئی ہے تو وہ ڈڈ، لیکن ایسی جگہوں پر ہمیں ڈڈز ہی چاھییں ہوتے ہیں،

‘ فیض صاحب نئے سال کے ساتھ اپ کو یہ ڈڈ بھی مبارک،’ میں نے کہا اور ہم اگلی پارٹی پر چلے گئے.

 ساوی دا ڈھولا

 بھٹو صاحب نے مولانا کوثر نیازی جنہیں وہ پیار سے مولانا وہسکی کہتے تھے اپنی حکومت میں ملک کا وزیر اطلاعات بنا دیا۔ مولانا نے آتے ہی ہمارے دوست اور کمال کے شاعر مشتاق صوفی کی کتاب ‘ساوی دا ڈھولا’ پر فحاشی کا الزام لگا کر بین کردیا اور مشتاق صوفی کو نوکری سے نکال دیا۔ ہم سب دوست اس پر بہت پریشان تھے اور حیران بھی تھے کہ بھٹو صاحب کی حکومت میں یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے۔ ایک دن میں نے صوفی سے کہا چلو فیض صاحب کے پاس چلتے ہیں، مولانا اگر محتسبِ شہر ہے تو ہمارے فیض صاحب تو رند ہییں۔ ہم دونوں فیض صاحب کے پاس گئے اور انہیں سارا قصہ سنایا، فیض صاحب نے کہا ‘ بھئی یہ تم لوگوں کے مسئلے ہیں، انہیں تمہیں حل کرو، ہم سے جو ہو سکا ہم نے کردیا، اب ہم کچھ نہیں کر سکتے، اسی قسم کی بات انہوں نے ایک اور موقع پر بھی کی۔

خمینی کے ابقلاب کے بعد بنی صدر کو جب قتل کیا گیا تو اس کے کچھ چاھنے والے ایرانی بھاگ کر پاکستان آۓ۔ میرا کزن سروش عرفانی جو شیراز یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا، اور علی شریعتی کا بہت مداح تھا وہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ میں نے ایک دن ان کو کھانے پربلایا اور ان کی ساری کہانی سنی جو بہت بھیانک تھی۔ جنرل ضیا کا دور تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی پاسبان یعنی پلس لوگوں کے گھروں پر چھاپہ مارتے ہیں اور ان کو اٹھا کر لے جاتے ہیں خاص طور پر سوشلسٹوں کو۔ میں نے فیض صاحب سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ کوئی اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے – میں نے کہا ‘ فیض صاحب آپ نے تو ایرانی طلبہ پر نظم لکھی ہے، آپ ان کو کوئی رستہ دکھائیں لیکن انہوں نے کہا، بھئی وہ اور زمانے کی نظم تھی اب کیا تم اس کا ذکر کر رھے ہو، میں نے کہا مگر نظم تو واقعہ کے گزر جانے کے بعد بھی زندہ رھنی چاھیے۔ ‘ بھئی کیا بکتے ہو، ہم نے اب ساری دنیا کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا۔ ‘

فیض صاحب آپ میں بڑے تضادات ہیں-‘

بھئی مسئلہ تضادات کو حل کرنے کا نہیں، تضادات کے ساتھ رھنے کا ہے۔ ‘

چلیں چھوڑیں فیض صاحب، کچھ لکھا ہے آپ نے، مجھے بھی سنائیں’

‘بھئی فریج میں کچھ پڑا ہے وہ لے آؤ- ہمیں اس کے بغیر شعر پڑھنے کی جرآت نہیں ہوتی۔” عجیب بات ہے فیض صاحب،’ میں نے فرج کی طرف جاتے ہوئے کہا،’ مجھے بھی اس کے بغیر شعر سننے کی جرآت نہیں ہوتی،

ھم دیکھیں گے

میں نے سب ترقی پسند ادیبوں میں ایک بات یکساں دیکھی ہے اور وہ ہے ان کی بے پناہ رجائیت۔ مجال ہے ان میں سے کسی نے بھی ‘سرخ سویرے’ کے بارے میں کبھی مایوسی کا اظہار کیا ہو- میں نے ان کو ‘امیدِ بہار’ میں ایک بالکل مرجھائے ہوئے شجر کے ساتھ بھی پیوستہ دیکھا ہے۔ فیض صاحب اپنے آخری زمانے میں لگتا تھا کہ انقلاب کا فرض ادا کرتے کرتے تھک چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کہ ‘نہ عشق ہوا نہ کام ہوا،’ انہوں نے ؒامید’ کا دامن نہیں چھوڑا۔

 بلوچستان کے لوک قصے ‘ ہانی اور شاہ مرید’ میں شاہ مرید قبائلی قوانین کے جبر کا شکا ر ہوتا ہے، ان قوانین میں کہیں بیٹا اپنے باپ کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے اور کہیں کسی کی منگیتر کو زبردستی کو چھین لیا جاتا ہے۔ جب شاہ مرید ان قوانین کو بدلنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ حج پر چلا جاتا ہے اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتا ہے کہ اللہ ایسے ظالمانہ قوانین کو بدل دے۔

فیض صاحب نے ایک زمانے میں کہا تھا، ‘یہیں سے اٹھے گا روز محشر/ اسی زمیں پر حساب ہو گا۔ ‘ لیکن جب نہ اس زمیں پر روزِ محشر اٹھا نہ کو ئی حساب ہوا تو فیض صاحب نے قیامت کا رخ کیا، کہا ‘ھم دیکھیں گے’ یہاں نہیں تو اگلے جہان۔ اس لئے کہ یہ روزِ ازل کا وعدہ ہے۔ شاہ مرید اور ہانی کے قصے میں شاہ مرید کی حج کے بعد بھی قبائلی قوانین سے مایوسی یہ تاثر دیتی ہے کہ قبائلی قوانین اتنے سخت اور اٹل ہیں کہ نعوذ و با اللہ انہیں خدا بھی نہیں بدل سکتا۔ لیکن—- ہم دیکھیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments