نیلی آنکھوں والی گڑیا (دوسری قسط)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات ہو رہی تھی ڈائری کی جس کا ہر صفحہ زینب کے ذکر بنا ادھورا ہے کیونکہ میری ڈائری کے ہر لفظ کو وہ ہی دل جمعی سے سنتی تھی اور وہی میری ڈائری کا ہر ورق تھی۔ میں اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اس سے شیئر کرتی۔

لوگ ڈائری کے اوراق کو اپنے راز و من کی باتیں سونپ کر دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور میں زینب کو سنا کرتی تھی۔ بہت عرصہ گزرنے کے بعد مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ میں عام لوگوں کی طرح کبھی ڈائری یا خط کیوں نہیں لکھ پائی۔ اس لیے کہ میں اپنا فارغ وقت زینب کے ساتھ گزارتی تھی اور دن بھر کی ادھر ادھر کی باتیں اس سے شیئر کر کے ہلکی پھلکی ہو جاتی۔ یوں مجھے دوستوں سے بھی اپنی پریشانی شیئر کرنے کی عادت نہ رہی۔

جب سے ہوش سنبھالا تب سے زینب کو اپنی ڈائری سمجھا جو ڈائری کے صفحے کی طرح خاموشی سے میری ہر اوٹ پٹانگ اور چھوٹے بڑے مسائل اور ان کا حل تک سنتی رہتی اور پھر اس کے بال سنوار کر میں باہر بھاگ جاتی جہاں گھر سے بھی زیادہ خاموشی و سناٹا ہوتا۔ کبھی کبھار میرا دل بہت گھبراتا اس گہری چپ سے وحشت ہونی لگتی۔

اس وحشت سے بھاگتی باہر کا رخ کرتی جہاں

ہر شاخ پر کسی نہ کسی پرندے نے ڈیرا لگایا تھا۔ ان کی چہچہاہٹ سے زندگی کے ہونے کا احساس ہوتا سارا دن پرندوں کے قافلے آتے جاتے۔ کچھ بیری کے درخت کے دیوانے ہوتے۔ کچھ شہتوت کے اور کچھ امرودوں کو ٹک ٹک کرتے رہتے۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ درختوں کی تعداد کم ہوتی گئی کہیں گھر کے نقشے میں سبزہ حائل ہونے لگا تو کہیں جگہ کی کمی کے پیش نظر پرانے درخت کاٹے گئے۔ ان پرانے درختوں اور پودوں سے جڑی یادیں بہت قیمتی اور سہانی تھیں لیکن یادوں کا کیا ہے۔

یادیں تو ہمیشہ دل میں آباد رہتی ہیں ان چیزوں کا کیا ہے خود کو یہ بات باور کروا کے طفل تسلی دی جاتی رہی۔ زمانے کے ساتھ چلنے کا گر بہت کم لوگ سمجھتے ہیں جو یہ گر سمجھ جاتے ہیں وہی لوگ زمانہ شناس ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی سوچ ماضی کے جھروکوں میں گروی رکھتے ہیں وہ ہمیشہ بند کوٹھری کے قیدی کی مانند زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود خوش ہوتے ہیں نہ دوسروں کو خوش دیکھ سکتے ہیں، نہ خود ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کی کامیابی کو سراہتے ہیں۔ معلوم نہیں سبزہ ختم کر کے جدید رہائش کو اولین ترجیح دینے والے لوگ اپنی جگہ ٹھیک تھے کہ نہیں لیکن وہ آگے بڑھنے کے لیے زمانے کے چال چلن کو کھلے دل سے قبول کرنے لگے۔

کبھی کبھی تو بوہڑ کی جڑوں کی مضبوطی سے زیادہ اس کی برداشت پر رشک آتا ہے۔ کیسے تنہائی کے ماروں کو اپنی آغوش میں سمیٹتا رہا۔ اس آغوش کی تاثیر وہ ہی بتا سکتے ہیں جو اس پناہ گاہ کے مکین تھے۔ اب نہ مکین ہیں نہ ہی وہ پناہ گاہ آباد ہے۔ جن کے گھر ہوں اور گھر والے نہ ہوں ان لوگوں نے اپنی کہیں نہ کہیں پناہ گاہ ضرور بنائی ہوتی ہے جہاں وہ اپنی ذات کی اندھیر نگری میں گم ہو کر اپنے من کا بھید تلاشتے ہیں۔

مجھے حیران پریشان و اپنی سوچوں میں گم دیکھ کر نانا ابو آواز دیتے تو میں بھاگ کر ان کے پاس درخت کے نیچے بیٹھ جاتی۔ جہاں وہ دنیا جہاں کی خبریں پڑھنے میں مشغول ہوتا۔ ایک اخبار صبح آتا ایک دوپہر کو۔ دونوں کا ایک ایک حرف پڑھ نہ لیتے کسی کو ہاتھ نہ لگانا دیتے۔ ہاں جب مکمل اخبار پڑھ لیتے۔ پھر کسی راہ گیر کو دے دیتے۔

میں خاموشی سے ان کے پاس جا کر بیٹھ جاتی۔ ان کے اندر کنڈلی مارے سناٹوں کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگتی۔ مجھے لگتا وہ جتنا مسکراتے ہیں، اندر ہی اندر اتنا روتے بھی ہیں۔ میری باتیں ان کے پاس بیٹھتے ختم ہو جاتیں وہ بولتے رہتے۔ چھوٹے چھوٹے سوال کرتے میں ہوں، ہاں، نہ میں جواب دیتی رہتی۔

میں ان کے چہرے کی اداسی کو دیکھتے دیکھتے ان کا بازو تھام لیتی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لگا کر پوچھتے۔
”میرا بیٹا پریشان کیوں ہے؟“ ۔
میں کہنا چاہتی۔ آپ کو جب دیکھتی ہوں۔ دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ لیکن لفظ میرے ساتھ نہ دیتے۔

میں انہیں ایک بوڑھا آدمی سمجھتی۔ حالاں کہ ان کی بہنیں ابھی تک ان کی شادی کے لیے لڑکی ڈھونڈتی پھر رہی تھیں۔ ہمارے ہاں ایک ساٹھ سال کے آدمی کے لیے لڑکی تلاش کرنے کا بھونڈا مذاق ممکنات میں سے ہے۔ مرد پیسے والا ہو۔ خوش شکل ہو اور اولاد نرینہ سے محروم ہو تو مائیں بہنیں بھائی کی دوسری شادی کے لیے رضامند لڑکی پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔ مجھے حیران پریشان و اپنی سوچوں میں گم دیکھ کر نانا ابو آواز دیتے تو میں بھاگ کر ان کے پاس درخت کے نیچے بیٹھ جاتی۔ جہاں وہ دنیا جہاں کی خبریں پڑھنے میں مشغول ہوتا۔ ایک اخبار صبح آتا ایک دوپہر کو۔ دونوں کا ایک ایک حرف پڑھ نہ لیتے کسی کو ہاتھ نہ لگانا دیتے۔ ہاں جب مکمل اخبار پڑھ لیتے۔ پھر کسی راہ گیر کو دے دیتے۔

میں خاموشی سے ان کے پاس جا کر بیٹھ جاتی۔ ان کے اندر کنڈلی مارے سناٹوں کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگتی۔ مجھے لگتا وہ جتنا مسکراتے ہیں، اندر ہی اندر اتنا روتے بھی ہیں۔ میری باتیں ان کے پاس بیٹھتے ختم ہو جاتیں وہ بولتے رہتے۔ چھوٹے چھوٹے سوال کرتے میں ہوں، ہاں، نہ میں جواب دیتی رہتی۔

میں ان کے چہرے کی اداسی کو دیکھتے دیکھتے ان کا بازو تھام لیتی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لگا کر پوچھتے۔
”میرا بیٹا پریشان کیوں ہے؟“ ۔
میں کہنا چاہتی۔ آپ کو جب دیکھتی ہوں۔ دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ لیکن لفظ میرے ساتھ نہ دیتے۔

نانا ابو اپنی دونوں بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی بیٹا نہ ہونا کا روایتی رونا نہیں رویا۔ نہ ہی ہر ایک کے سامنے اپنے غموں کی نمائش کی۔ بہنوں کے لیے بھائی کے آنگن میں بیٹے کی قلقاریاں سننے کی خواہش مرتے دم تک زندہ رہی۔

ان لوگوں کو ہمارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کافی عرصے تک وہ ہمیں اولاد کی جگہ دینے کو تیار نہ ہوئیں۔

منجھلی بہن کو ہم ایک آنکھ نہ بھاتے۔ ہم جب نانا ابو کی طرف جاتے تو وہ بھی آئی ہوتیں۔ ہمیں گھوریاں ڈالتے وہ نانا ابو کو شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتیں۔

”نجمہ اللہ نے اتنی پیاری اولاد دی ہے۔ وہ ہماری طرف اشارہ کر کے کہتے۔ اب اس عمر میں شادی کرتا اچھا نہیں لگتا“ ۔

وہ بہن کو ہر دفعہ انکار کرتے اور بہن کی بھائی کے وارث کی خواہش نے کبھی ختم ہونے کا نام نہ لیا۔
”پھپھو خدا کا خوف کریں۔ کس بیچاری کی قسمت اپنے بوڑھے بھائی سے پھوڑ کر گناہ کمانا چاہتی ہیں“ ۔
ایک دن امی اور نجمہ پھپھو کی اچھی خاصی تلخ کلامی ہو گئی۔

”اے بی بی قسمت پھوٹے گی نہیں، جاگے گی۔ میرے بھائی کا ایک نام ہے۔ جس لڑکی پر ہاتھ رکھے۔ لوگ سوچے سمجھے بنا لڑکی رخصت کر دیں“ ۔

نجمہ پھپھو بھائی کی شان و شوکت کے گن گانے لگتیں۔

وہ سمجھتی تھیں۔ دونوں بیٹیاں چاہتی نہیں۔ ان کا کوئی بھائی ہو۔ اپنے باپ کے گھر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ بھائی آ گیا تو جائیداد میں سے ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔

وہ اپنے خیالات کا اظہار باقی سب بہنوں سے بھی کرتیں۔ دوسری بہنیں نجمہ پھپھو کی طرح اپنے گھر کو چھوڑ کر بھائی کی شادی کے لیے اتاؤلی نہیں ہوتی تھیں۔ ہاں یہ ضرور چاہتی تھیں۔ بھائی کا خیال رکھنے والی کوئی ہو اور شاید اللہ اپنی نظر کرم فرما دے۔

ہم نانا ابو کی شادی کا انتظار کرتے بڑے ہو گئے۔
”نانا ابو آپ کی شادی کب ہو گی؟“
ایک دن میں نے پوچھا۔
نانا ابو میرا سوال سن کر مسکرانے لگے۔ پھر ایک دم سنجیدہ ہو کے کہنے لگے۔
”تمہاری نانی ماں کے علاوہ اس دل میں کسی اور کی جگہ نہیں“ ۔
اس وقت میں یہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ شادی اور دل، دل اور شادی کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
شادی کا تعلق دل میں جگہ ہو تو بنایا جاتا ہے۔ جس کے دل میں کوئی جگہ نہ بنا سکے وہ شادی نہیں کر سکتا۔
نانا ابو کے پاس وقت گزرنے کا پتا نہ چلتا۔

وہاں کھانے پینے کا سامان آ جاتا۔ جس میں آدھی چیزیں میری ہوتیں اور آدھی زینب کی۔ تھوڑا سا بڑی ہوئی تو میں نانا ابو کو منع کرنے لگی کہ پہلے والی چیزیں ابھی پڑی ہیں ان کی ضرورت نہیں آپ رہنے دیں۔ تو وہ ہنس کر کہتے کہ منع نہیں کرتے میرا تم لوگوں کے علاوہ اور کون ہے۔

یہ بات تو سچ تھی کہ ان کا ہمارے علاوہ کون تھا ان کی زندگی کا دائرہ ہمارے گرد ہی گھومتا رہا یا پھر اپنے چند دوستوں اور چاہنے والوں کے۔ میں نے نانا ابو کی کسی بھی بات پر نہ کرنا چھوڑ دیا۔ میں ان کا چہرہ دیکھتی رہتی اور واپسی پر وہ میرے سر پر پیار دیتے اور میں ان کے چہرے پر اپنا ننھا ہاتھ پھیر کر درخت کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کو دیکھ کر آ جاتی۔

گھر آ کر صحن میں لگے پودوں پر کھلے پھولوں کو گھوم کر دیکھتی اور ان کی خوشبو اپنی سانس میں اتارنے کی کوشش پھول والی ٹہنی کو ناک کے قریب کر کے سونگھتی رہتی۔ سرخ اینٹوں والے صحن کے چاروں طرف کیاریاں ہونے کے ساتھ درمیان میں بھی چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنی تھیں جن میں زیادہ تر موتیے کے سفید پھول لگے ہوتے۔ موتیے کے سب پھول صبح ہوتے ہی غائب ہو جاتے۔ کبھی کبھار ایک آدھ پھول پودے پر بچ جاتا۔ نہیں تو گھر کی بزرگ خواتین موتیے کے پھول چمک دار تھالیوں میں بھر لیتیں اور کچھ اپنے کانوں میں بندے بنا کر سجا لیتیں۔

کچھ اپنی پڑوس میں رہنے والی سہیلیوں کو دے دیتیں۔ مجھے وہ چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے پھول اور ان کی نرم و ملائم مہک بہت اچھی لگتی۔ اس وقت میرے کان میں سوراخ نہیں تھے کہ میں کوئی بالی ڈال سکتی۔ ایک دفعہ میں نے کوشش کی کہ پھول یوں ہی کانوں میں اڑس کر دیکھو کیسے لگتے ہیں۔ ابھی میں یہ کوشش کر رہی تھی کہ اماں نے آ کر منع کر دیا کہ

” ابھی آپ چھوٹی ہو اور چھوٹی بچیاں اس طرح پھول کان میں نہیں سجاتیں“ ۔
میں نے وہ پھول زینب کے سرہانے رکھ دیے اور اس سے باتیں کرنے لگی۔

اس کے پاس فیڈنگ کپ پڑا تھا جو دودھ سے بھرا تھا۔ اس سے اب فیڈنگ کپ میں دودھ پیا نہیں جاتا تھا۔ میں کپ پکڑ کر اس کو سمجھانے لگی کہ یہ دیکھو ایسے پیتے ہیں۔ یوں کپ منہ کے ساتھ لگاؤ اور تھوڑا سی کوشش کرو دودھ تمہارے اندر چلا جائے گا۔ پہلے تو اس کا کمزور اور بے جان ہاتھ تھامتی پھر اس کو کپ یا فیڈر پکڑانے کی کوشش کرتی پہلے وہ آسانی سے تھام لیتی پھر اس نے گرے ہوئے ہاتھ اٹھائے نہیں۔ کافی دیر سمجھانے کے بعد بھی جب وہ میری سمجھ نہ پائی تو میں اس سے دن بھر کی باتیں کرنے لگی۔

تمہیں پتا ہے زینب نانا ابو نے نیا کتا لیا ہے وہ بہت خوفناک ہے پہلے والا بہت پیارا تھا سفید رنگ کا۔ یہ بہت کالا ہے اور اس کی زبان بھی بہت لمبی ہے مجھے باہر جاتے اب ڈر لگتا ہے۔ تم جلدی سے چلنا شروع کرو ہم دونوں باہر ایک ساتھ جائیں گے تو پھر مجھے تسلی ہو گی۔ تم میرے ساتھ ہو۔ سب کے بہن بھائی اکٹھے گھومتے پھرتے ہیں۔ تایا ابا کے بچے بھی بڑے ہیں وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن وہ بہت بڑے ہیں اور وہ اپنے بہن بھائیوں سے لڑتے جھگڑتے، ہنستے بولتے ہیں۔

ان کو دیکھ کر میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ گھوموں پھروں اور کھیلوں۔ لیکن تم تو اب بس ہنستی ہو یا روتی ہو۔ کیا تمہارا دل نہیں کرتا کہ تم باتیں کرو۔ کھیلو، باہر جاؤ، دوست بناؤ اور اپنی پسند کے کھانے کھاؤ۔ تم یوں لیٹے لیٹے تھکتی نہیں۔ چلو میں تمہیں پہلے سکھاتی ہوں کہ کیسے بولنا ہے۔ تم میری باتیں سن سکتی ہو پھر ان پر عمل بھی کیا کرو۔ میں تھک ہار کر زینب کو ہلکی سی ڈانٹ پلاتی تو وہ زور زور سے ہنسنے لگتی۔

”تم ہنس رہی ہو تمہیں پتا ہے میں اتنے سال کی تھی تو اسکول چلی گئی تھی اور تم یوں گھر مزے سے پڑی ہو“ ۔

اماں یہ اسکول کب جائے گی ”۔
میں بے چینی سے ماں کو ہلا کر پوچھتی تو وہ اپنی کہانیوں والی کتاب سے نظر ہٹا کر کہتیں۔
”بہن کے لیے دعا کیا کرو کہ وہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے پھر آپ کے ساتھ ہی اسکول جایا کرے گی“ ۔

”دعا کرتی تو ہوں مگر یہ ٹھیک نہیں ہوتی آپ اس کو ڈانٹیں کہ پہلے جیسے بولتی تھی چلتی تھی ویسے ہی ہو جائے یہ جان بوجھ کر ایسا کرتی ہے اسکول نہ جانے کے بہانے ہیں آرام سے گھر پڑی رہتی ہے“ ۔

میری فضول باتوں پر اماں کوئی جواب نہ دیتیں اور میں پھر زینب کے ساتھ جا کر لیٹ گئی۔ اب ایسا معمول کا حصہ بننے لگا۔ میری خواہش شدت و جنون اختیار کرنے لگی کہ زینب سب کی طرح نظر آئے۔ میرے ساتھ ہر طرف بھاگے دوڑے۔ اس کی وجہ سے میں بھی کبھی تیز چلنے اور دوڑ لگا کر کھیلنے کا شوق پورا نہ کر سکی۔ گفتگو کا سلسلہ جہاں چھوڑا تھا میں پھر وہیں سے جوڑنے لگی اور زینب کو سمجھانے بلکہ یاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔ یہ کون سی بہت پرانی بات تھی جو اسے یاد نہ ہو گی۔

ایک سال پہلے نہیں کچھ سال سے کچھ مہینے کم ہوں گے۔ جب تم چیزوں کا سہارا لے کر چلتی تھی۔ اور جب چلنے سے تھک جاتی تو زمین پر بیٹھ کر رینگنے لگتی اور اپنی پسند کی جو چیز ہوتی وہ اٹھا لیتی۔ اماں جان بوجھ کر کھلونے تمہاری دسترس سے دور رکھتیں تاکہ تم چلنے کی حرکت کرنے کی کوشش کر کے ان تک پہنچ سکو۔ اور تم پہنچ بھی جاتی چاہے کھلونے کے پاس جا کر گر کیوں نہ جاتی۔ پھر تمہاری آواز پورے گھر میں گونجتی جب تم اماں اور ابا بولتی چلی جاتی اور چپ نہ ہوتی۔ میں تمہارے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی لیکن تم کبھی میرے پیچھے نہیں آئی۔

اب تم پھر پہلے کی طرح اماں ابا بول کر دکھاؤ۔ زینب میری بات بہت دھیان سے سن رہی تھی میں نے سوچا آج یہ ضرور بولے گی۔ اچھا یوں کرو پہلے اما۔ بولو پھر اماں یوں کوشش کرو۔ منہ کھولو اور کوئی سی بھی آواز نکالو ایک دفعہ آواز نکالو گی تو پھر تم آسانی سے بول سکو گی۔ وہ حیرت سے میرا چہرہ اور میں اس کا چہرہ تکتی رہی۔

زینب اس نے چلنا بھی دو سال بعد شروع کیا اور وہ بھی ڈر ڈر کر قدم اٹھائے کبھی کسی کے ہاتھ کا سہارا لیے اور کبھی کسی چیز کا سہارا لیے۔ شروع میں سب بچے سہارا لے کر ہی چلتے ہیں لیکن پھر وہ سب سہاروں سے ہاتھ چھڑا کر اکیلے بھاگنے دوڑنے لگتے ہیں۔ زینب نے عام بچوں کی طرح نہ چلنا سیکھا نہ ہی چل کر بھاگنا دوڑنا۔ وہ چلتے چلتے گر جاتی۔ جب گر جاتی تو زمین پر رینگنے لگتی۔ ایک سال کے اندر ہی وہ کرالنگ سے چلنے اور پھر گرتے پڑتے کرالنگ پر آئی تو کرالنگ کرتے بھی پیچھے کی جانب گر جاتی جس سے بہت دفعہ اس کو چوٹیں آئی۔

کتنی دیر یوں ہی اس کو آواز نکالنے کی کوشش میں گزر گئی باہر سے بلیوں کی عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں ایسی آوازیں جب بہت ساری بلیاں جمع ہوتیں اور لڑائی کرتیں۔ اکثر اماں بلیاں بھگا دیتیں ان کو بلیوں کی آواز پسند نہیں تھیں۔ اب بھی وہ بلی کو نجس نجس کہتی ہیں۔ بلکہ جو بلی کو پکڑے اس کو آٹا گوندھنے کی اجازت نہیں ملتی۔
(جاری ہے )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments