ہٹی دا ٹائم

’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا

Read more

شبانہ

 ’مولانا آپ نے شبینے تو بہت دیکھ رکھے ہوں گے، آج شبانہ کو دیکھیے‘ میں نے احترام الحق تھانوی صاحب سے شبانہ اعظمی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، مولانا جو کراچی کی نصف شب میں سر پر چار کونی کلف لگی ٹوپی، سفید براق لباس مین ناقابل یقین حد تک سیاہ لشکتی ہوئی ڈاڑھی، سرمہ لگی روشن انکھوں اور اپنے بوٹا سے قد کے ساتھ ہماری محفل میں شامل ہوئے تھے۔  ’بھئی یہ تو شبانہ ہیں اور ہم روزانہ ہیں‘

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

گوتم سے ملاقات

1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ

Read more

زرد گلاب

اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے

Read more

مجید امجد اور باطن کی مٹی

(اورینٹل کالج میں مجید امجد کی برسی پر پڑھی گئی ایک تحریر) صدر محترم، یہ کوئی علمی یا تدریسی مقالہ نہیں بلکہ میرے کچھ تاثرات ہیں جن کو میں اپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے محترم ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی طرف سے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے ’مجید امجد اور ثقافتی جڑیں‘۔ میں نے سوچا شاید اس کے لیے مجھے جڑانوالہ جانا پڑے گا لیکن پھر خیال آیا کہ ثقافتی جڑوں کا قصہ تو ڈیڑھ

Read more

’اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں‘

احمد مشتاق کے ساتھ ایک دن – 26 جون 2023ء ۔ امریکا میں ہوسٹن شہر کے ایک ہوٹل کے باہر ڈرائیو وے کے فٹ پاتھ پر، اپنی کافی اور سگریٹ لے کر بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک ایسے شخص کا انتظار ہے جس کو مل کر عمر رفتہ، جو کبھی نہیں لوٹتی، والہانہ انداز میں مجھ سے لپٹ جاتی ہے۔ میں اس کے انتظار میں ساری عمر اسی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ سکتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی آ

Read more

میرا باس

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

من رنگ کے سو رنگ

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

مطلع (ایک مکالمہ)

میرے استاد گرامی عارف وقار نے سرمد صہبائی کی اس تحریر پر ذیل کا تبصرہ کیا ہے۔ Being a Ghalib enthusiast, I have been in touch with this opening couplet of his Deevaan, since my school days. From the school master’s classroom notes to the university professor’s pedagogical explanations, and from Yousuf Saleem Chishti’s "Ghalib Made Easy” to Tabatabaee’s more scholarly commentary, I have seen almost everything said about "naqsh furyadi hai kiski…” but the truth is that nobody had

Read more

لاحاصل

جنوں پریوں کا گانا (3) نزاکت علی خاں صاحب کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد موسیقی میں میری دلچسپی اور بڑھتی چلی گئی۔ میں موسیقی کی ہر محفل میں شریک ہوتا اور آخر تک وہاں بیٹھا رہتا، اس زمانے میں میری دوستی اسلام آباد میں ہر اس شخص سے ہوئی جو موسیقی کا رسیا تھا اور خاص طور پر وہ لوگ جو خود گاتے بجاتے تھے میرے بہت قریب تھے۔ عارف جعفری جو کمال کی بانسری بجاتے۔ علم موسیقی

Read more

پنچم کا فراق

جنوں پریوں کا گانا (2)  ’ خاں صاحب آپ میرے گھر میں رہیں‘ استاد نزاکت علی خاں صاحب ایک دو ہفتے کے بعد مجھے لاہور سے اسلام آباد ملنے آ جاتے، کہتے لاہور میں ان کا دل نہیں لگتا، میرا دو بیڈ روم کا گھر کوئی اتنا بڑا تو نہیں تھا کہ میں کسی کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دے سکتا لیکن جب خاں صاحب تیسری بار مجھ سے ملنے آئے تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں

Read more

جنوں پریوں کا گانا (1)

استاد حامد علی خاں کہتے ہیں ایک دفعہ امانت علی خان صاحب اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے گانا گا رہے تھے کہ انہیں محسوس ہوا کوئی اور بھی ان کے ساتھ گا رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے لیکن گانے کی آواز پھر بھی آتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کوئی جن گا رہا تھا۔ امانت علی خاں صاحب نے ایک ایسا ہی واقعہ مجھے لاہور ٹی وی میں میرے کمرے میں

Read more

یا استاد

مشکل وقت میں انسان یا تو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور یا پھر اپنے استاد کو. لیکن مجھے اپنے استاد کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ وہ میری زندگی کی سرگزشت کا حصہ ہے, میری ہڈ بیتی ہے. میں اسے نہ بھی یاد کروں تو وہ مجھے یاد رہتا ہے. یہ ان استادوں میں سے نہیں جو ہمیں کلاس روم میں درسی کتابیں پڑھاتے ہیں, یہ وہ استاد ہے جو ہمیں زندگی کرنا سکھاتا ہے.

Read more

سورہ یاسین

’ سوہنا ایتھایں تاں مینڈا دم گھٹدا ای‘ (میری جان یہاں تو میرا دم گھٹتا ہے) ’ ایہہ تاں مٹھی قید آھی‘ (یہ تو میٹھی قید ہے) پٹھانے خان نے اسلام آباد سی ڈی اے ہوسٹل کے ایر کنٖڈیشن کمرے میں بچھے آرام دہ بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ پٹھانے خان جب کسی پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد آتا تو اکثر میرے گھر میں ٹھہرتا۔ میرے گھر میں کوئی مہمان خانہ تو نہیں تھا لیکن ایک بڑا لاؤنج تھا

Read more

ھم دیکھیں گے (گزشتہ سے پیوستہ)

اج دولتاں ساڈے گھر آ گئیاں نیں جب بھٹو برسراقتدار آئے تو پاکستان ٹی وی کی لائیو ٹرانسمیشن میں ساری رات بھٹو صاحب کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا تھا مجھے دس بجے کے قریب فیض کا فون آیا، کہا، ‘ آ جاؤ،’ میں ہوٹل انٹر کا نٹیننٹل پہنچا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ دروازے پر گھنٹی دی تو ایک دبلا پتلا شخص نمودار ہوا اور دروازے کے چوکھٹے میں آڑا ہو کر ایسے کھڑا ہوگیا کہ میں اندر

Read more

ہاں بھئی زندہ ہو؟

فیض صاحب جب بھی مجھے ملتے سب سے پہلے یہی پوچھتے۔ ’ہاں بھئی زندہ ہو؟‘ میں سوچتا کیا وہ مجھ سے یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ میں تخلیقی یا ذہنی طور پر مر تو نہیں چکا، کہیں میں نے جینے کی ہمت تو نہیں ہار دی؟ ایک دن ملاقات ہوئی تو دیکھا سفید پتلون پر تربوزی رنگ کی بڑی رونقی اور پربہار بش شرٹ پہنے کھڑے ہیں۔ ہونٹوں میں سگریٹ کی لٹک اور آنکھوں میں ہلکی سی غنودگی، ’ہاں

Read more

ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں –

” سرمد یار میں تے چل ھاں، پر ایہہ باقی لوگ کون نیں؟” (سرمد یار چلو میں تو ہوں لیکن یہ باقی لوگ کون ہیں) منیر نیازی نے شام کو مال روڈ پر آوارہ گردی کرتے ہوئے کہا ” کون منیر صاحب؟” میں نے پوچھا  "ایہی مکروہ چہرے، خبیث روحاں تے چڑیلاں جیہڑیاں میرے اگے پچھے پھردیاں رھندیاں نیں۔”  (یہی مکروہ چہرے، خبیث روحیں اور چڑیلیں جو میرے آگے پیچھے پھرتی رھتی ہیں )  ” چھڈو منیر صاحب! آخر اللہ

Read more

دلیپ کمار اور ہالۂ شہرت

”شہرت ایک ہالہ ہے، اس سے پہلے کہ یہ ہالہ آپ کا گلہ گھونٹ دے آپ کو اسے مار ڈالنا چاہیئے! ’ یہ وہ الفاظ تھے جو میں نے زندگی میں پہلی بار سکرین سے باہر ایک جیتے جاگتے دلیپ کمار کے منہ سے سنے تھے۔ 1988 میں جب دلیپ کمار پاکستان آئے تو سارے ملک میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ جدھر جاؤ، جس سے ملو وہ دلیپ کمار کی باتیں کر رہا تھا۔ ”کل میں نے دلیپ کمار

Read more