مرغابیوں کے غول میں، ایک گونگی بطخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متجسس طبعیت، دوہرے کردار اور ڈرپوک شخصیت کا مالک جمعہ خان ہر ویک اینڈ پر مے خانے جاتا تھا لیکن وہاں اس نے کبھی شراب نہیں پی۔ وہ شیشے کے گلاس میں کوک انڈیل کر پیتا رہتا اور سب دیکھنے والوں کو یہی تاثر دیتا کہ وہ بھی بہتی گنگا سے سیراب ہو رہا ہے۔ اگر کاؤنٹر پر گلاسوں میں مے انڈیلنے والی اس سے پوچھتی کہ سر کون سا برینڈ چاہیے تو وہ بہانہ بناتا کہ میں نامزد ڈرائیور ہوں، مجھے ڈرائیونگ کر نی ہے یعنی کسی کے ساتھ آیا ہوں اس لیے بس سوڈے کا ایک گلاس دے دیں۔

جمعہ خان جس ماحول میں پلا بڑھا تھا وہاں شراب پینے کو برا بلکہ حرام سمجھا جاتا تھا اس لیے وہ مے کدے میں بس دوسروں کے چھلکتے جام دیکھ کر ہی گزرا کرتا اور اپنے من کی پیاس بجھا لیتا۔ مے خانے میں جمعہ خان کا حال بالکل اس بطخ کی طرح ہوتا جو مرغابیوں کے غول میں گھل مل کر رہنا پسند کرتی ہے لیکن وہ ان کے ساتھ لمبے سفر کے لیے اڑان نہیں بھر سکتی۔ وہ بطخ جو قیں قیں کی آواز تو نکال سکتی ہو مگر اپنے گونگے ہونے کا ناٹک کرتی ہے مبادا کہ اسے کوئی بدرنگ بول بولنے پر غول سے باہر نہ نکال دے۔

بادہ خانہ جاکر جمعہ خان کی حالت دیدنی ہوتی، ویسی ہی جیسے کسی ساغر کنارے بیٹھے ایک شخص کی، جو یہ سوچ رہا ہو، یہ ساغر کتنا گہرا ہو گا، اس کی لہروں کے تھپیڑوں میں کتنی طاقت ہے، وہ بس دوسروں کو دیکھ کر اندازے لگا رہا ہو کہ وہ کتنے بہادر ہیں جو گہرے پانی میں بے خطر کود پڑے اور انہیں کوئی خوف بھی نہیں۔ وہ غالب کی طرح اتنا بے بس بھی نہیں تھا جو لاچارگی کے عالم میں پکار اٹھے، گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے، رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے۔ وہ اپنے فیصلوں میں آزاد تھا مگر عبدیت کی ڈور میں بندھا ہوا ایک غلام، جو جب چاہے بھاگنے کا اختیار رکھتا ہو لیکن اپنے مالک کے قریب رہنا پسند کرے۔

جمعہ خان کو امریکہ گئے ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دوست اسے پکڑ کر اسٹرپ کلب لے گیا اور کہا، آؤ تمہیں امریکہ دکھاتے ہیں۔ یہ امریکہ میں اس کا کسی بھی پرائیویٹ مگر عوامی جگہ پر جانے کا پہلا تجربہ تھا۔ اسٹرپ کلب ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں انسانی جسموں اور لمس کے بھوکے، تھرکتے بدن دیکھ کر، اپنی چاہ کی آگ ٹھنڈی کرنے والے، ہوس کے پجاری جاتے ہیں۔ وہ نیم برہنہ اور ننگی ناچتی گاتی نوجوان حسیناؤں کو دیکھ سکتے ہیں، انہیں چھو سکتے ہیں مگر وہاں اس سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اسٹرپ کلب جانے کا ناخوشگوار تجربہ حاصل کرنے کے بعد جب جمعہ خان اور اس کا دوست خالی ہاتھ ملتے اور پشیمانی سے منہ لٹکائے واپس اپنے فلیٹ پر جا رہے تھے تو خان نے اپنے شتونگڑے دوست سے پوچھا یہ کیسا گناہ بے لذت تھا۔ یہ تم نے مجھے کون سا امریکہ دکھایا ہے۔ دوست نے اسے ٹیڑھی نظروں سے دیکھا اور کہا، کیوں مزا نہیں آیا۔ وہ لمبی والی تو تم پر بڑی لٹو ہو رہی تھی۔ جمعہ خان نے کہا، تف، وہ تو سب کو خوش کر رہی تھی۔ میں نے اسے چھوا بھی نہیں۔ دوست نے خان کے پارسائی پر ایک طنزیہ مسکراہٹ بکھیری اور بولا:

دیکھو، امریکہ وہ نہیں جو تمہیں مین سٹریم میڈیا پر نظر آتا ہے، جہاں رنگ برنگی دکانیں سجائے، ڈبو میں بند اور اپنے سامنے مائیک رکھے لوگ تمہیں دکھا رہے ہوتے ہیں۔ اگر تم نے اصل امریکہ دیکھنا ہے اور یہاں کی ثقافت کے بارے میں جاننا ہے تو گھر سے باہر نکلو، عوامی جگہوں پر جاؤ، کنسرٹ دیکھو، اسٹرپ کلب کے مزے لو، جم جایا کرو، نائٹ کلب جا کر دیکھو کہ امریکی کیسے ہوش و حواس کی دنیا سے باہر نکل کر اپنا اصل روپ دکھاتے ہیں۔

جمعہ خان نے اپنے دوست کی دلیل رد کرتے ہوئے جواب دیا، امریکہ کا اصل چہرہ تو وہ لوگ ہیں جو روز ٹریفک اشارے کی پابندی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کسی پارک میں ورزش کرتے ہوئے، کسی کا پھینکا ہوا ٹریش کین اٹھاتے ہوئے، کسی سٹور کے سامنے لائن بنا کر کھڑے ہونے والے، اپنی نظروں پر قابو میں رکھنے والے، اپنی باری کا انتظار کرنے والے اور اپنے حق کے لیے بولنے والے۔ وہی اصل امریکی ہیں۔ یہ کیا تھا، جہاں تم مجھے لے گئے ہو۔ ہوس کے ماروں کے لیے بنائی گئی ایک مصنوعی جنت!

جمعہ خان کا دوست امریکی شہری تھا اور پچھلے کئی سالوں وہاں قیام پذیر تھا۔ اس نے خان کی سطحی باتوں پر قہقہہ لگا یا اور اسے بھاشن دینے لگا، جو کچھ تم امریکہ کی گلی کوچوں اور بازاروں میں دیکھ رہے وہ اس قوم کے اجتماعی مزاج کا عکاس ہے۔ اگر تم نے امریکی تہذیب کا گہرا مطالعہ کرنا ہے تو یہاں کے شہریوں کے انفرادی رویے جانو۔ ان کی پرائیویٹ محفلوں میں جایا کرو۔ پارٹیاں اٹینڈ کرو، کڈلنگ کی محافل میں جا کر بیٹھو، استھیٹک ڈانس میں شامل ہونا سیکھو، برف کے مصنوعی تالاب اور ٹھنڈے پانی کے ڈب میں ننگے نہاتے ہوئے امریکیوں کو دیکھو، کریاکی کی دھنوں پر گاتے اور جھومتے لوگوں کے امڈتے جذبات کا نظارہ کرو۔ پھر تمہیں پتا چلے گا کہ کون کیا ہے اور امریکہ اندر سے کیسا نظر آتا نظر ہے۔

ہوں، یہ کڈلنگ کی محفل کیا ہوتی ہے او ر برف کے تالاب میں بھلا کون نہاتا ہے، اور میں وہاں کس کو اور کیا دیکھنے جاؤں، جمعہ خان نے حیران ہو کر اپنے دوست سے استفسار کیا۔ یار تم بھی پکے پینڈو ہو، گوگل میں جا کر سرچ کرو کہ کڈلنگ کیا ہوتی ہے۔ بس اتنا جان لو کہ وہ تنہا لوگوں کے ملنے کی ایک پرائیویٹ محفل کا نام ہے جس میں آنے والے ایک دوسرے کو گلے لگا کر، چھو کر اور ٹٹول ٹٹول کر اپنی کسی کمی کا احساس پورا کرتے ہیں اور مصنوعی برف کے تالاب میں نہانے کا بھی اپنا مزا ہے جہاں تن بدن میں لگی آگ ایسے ہی بجھ جاتی ہے جیسے کسی سلگتی ”چوآتی“ پر پانی پھینک دیا جائے۔

جمعہ خان کے لیے اپنے دوست کی بتائی ہوئی سب باتیں نئی تھی۔ وہ کسی ایسے تجربے سے نہیں گزرنا چاہتا تھا جس کے حاصل ہونے کے بعد وہ احساس گناہ میں مبتلا ہو کر جیے۔ اس نے اپنے دوست سے پوچھا، آپ کے خیال میں، مجھے یہ سب جاننے کی کیا ضرورت ہے۔ خان کے دوست نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا، امریکہ کے لوگ کسی کی پرائیویسی کا کتنا احترام کرتے ہیں، یہ سب تمہیں پرائیویٹ محفلوں میں دیکھنے کو ملے گا۔ وہ اپنے حقوق سے آگاہ اور اپنی حد میں رہنے کی تہذیب سے واقف ہوتے ہیں۔ آپ ان کے سامنے ننگے بھی کھڑے ہوں وہ آپ کو گھوریں گے نہیں کیونکہ یہاں کسی کو گھورنا بدتہذیبی اور جرم سمجھا جاتا ہے۔ آپ کسی کو اس کی اجازت کے بغیر چھو بھی نہیں سکتے یہاں تک کہ اپنی شریک حیات کو بھی نہیں۔ یہ امریکہ میں جرم سمجھا جاتا۔

خان اب بھی اپنے دوست کی باتوں کا قائل نہیں ہوا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی دلدلی دریا میں اترنے سے پہلے کسی ماہر تیراک سے اس دریا کی گہرائی کے بارے جاننا چاہتا تھا۔ اس نے بہانہ تراشنے کی کوشش کی کہ یہ سب جاننے کے لیے اسے کسی محفل یا مے خانہ جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ باتیں تو کتابوں اور تم جیسے صاحب حکمت لوگوں سے بھی سیکھی جا سکتی ہیں۔ اس کا دوست بھی بڑا گھاگ تھا، اس نے پوچھا، بڑی سکرین کے سامنے بیٹھ کر سوئٹزر لینڈ کے نظارے لینے اور وہاں جانے میں تمہیں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ رب کا ذکر تو گھر میں بیٹھ کر اکیلے بھی ہو سکتا ہے پھر معبد کیوں بنائے گئے، مے کی بوتل، گھر میں بھی کھولیں تو اس میں وہی نشہ ہو گا، پھر مے کدے کس لیے سجائے گئے۔

جمعہ خان کے دوست کی باتوں میں وزن تھا۔ اب اس کا فہم کھلنا شروع ہو گیا۔ وہ جان گیا کہ اس کا پیارا دوست، اسے پرائیویٹ جگہوں اور محفلوں میں جانے کی ترغیب کیوں دے رہا ہے۔ خان جسے اپنے دوست کی بری رائے اور دعوت گناہ سمجھتا رہا، وہ اصل میں ایک عملی سبق کا نمونہ تھا۔ جس کے ذریعے وہ خوابوں کے جزیرے امریکہ آنے والے اپنے نئے دوست کو کچھ سمجھانا چاہتا تھا کہ یہ تہذیب ہم سے کیسے مختلف ہے۔ مغرب میں رہنے والے لوگوں کو کس قسم کی آزادیاں حاصل ہیں۔ وہ کس حد تک اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنی حدود میں رہنے کا کس حد تک شعور حاصل ہے۔

حقیقی آزادی اور قانون کی عملداری وہ ہے جو انسان اپنے آپ اور اپنی خوشی سے خود پر نافذ کرے۔ یہ وہ نقطہ تھا جس پر دونوں دوست راضی ہو گئے۔ آپ کسی کو دیکھنے سے گناہ گار نہیں ہو جاتے اور نہ ہی آپ کسی کو تاڑنے سے روک سکتے ہیں۔ بس آپ نے اپنا آپ سمجھ کر جینا ہے کہ میں کون ہوں اور میری حدود کیا ہیں۔ باقی اعمال کا دارو مدار تو انسان کی نیت پر ہوتا ہے۔ برقعہ میں لپٹی، کسی باپردہ خاتون کو تاڑنا، ہوس کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔ پنڈلیوں سے ننگی، کسی راہ چلتی عورت کو دیکھ کر، اپنی نظریں جھکا لینا یا اسے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا، پارسائی کا اعلی درجہ نہیں تو اور کیا ہے۔

جمعہ خان کے دوست نے اسے ایک اور بڑے پتے کی بات سمجھائی جو اسے امریکہ میں رہتے ہوئے آنے والے ماہ و سال میں اس کے بڑے کام آئی۔ وہ تھی کہ ججمنٹل مت بنو۔ کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے بارے اپنی حتمی رائے مت قائم کر لینا، اس کے بارے اپنا کوئی فیصلہ مت صادر کرنا۔ ہنس کر اور مسکرا کر بات کرنا، مغربی تہذیب کا خاصا ہے۔ اگر کوئی مخالف جنس تمہیں مسکرا کر دیکھے اور آداب کے لیے اپنا سر ہلائے تو یہ مت سمجھنا کہ ہنسی تو پھنسی۔ دوست کا آخری فرمان یہ تھا کہ امریکہ میں پیسے لے کر یا رقم دے کر جسم فروشی قانوناً ممنوع ہے۔ ہاں مگر رضامندی اور چھپ چھپا کر سے سب چلتا ہے۔

اضداد کا مجموعہ، جمعہ خان جہاں ہر جمعہ مسجد جاتا تھا، وہیں وہ ہر ہفتے کی شام کسی پب، کلب یا کسی پرائیویٹ پار ٹی میں گزارتا۔ اسے خوش گپیوں میں مصروف لو گوں کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر اچھا لگتا تھا۔ وہ سو چتا رہتا، شاید لوگ شراب کے نشے میں دھت ہو کر، اپنے غم، کچھ دیر کے لیے بھول جانا چاہتے ہیں۔ شاید خان بھی اپنا کوئی غم غلط کرنا چاہتا تھا لیکن مے نوشی سے نہیں، اپنے حواس میں رہتے ہوئے۔ ویسے بھی خان کسی کی ناراضگی اور غصے سے ڈرتا تھا جسے بادہ خوار پسند نہیں۔

امریکہ میں رہتے ہوئے، جمعہ خان کی کیفیت اس پروانے کی طرح تھی جو شمع کی قریب جانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ وہ فرق اور وجہ سمجھ کر جینا چاہتا تھا، تہذیبوں کے ٹکراؤ کی وجہ، وہ جاننا چاہتا تھا کہ تہذیبیں کیسے بنتی ہیں، تہذیبیں کیسے بگڑتی ہے، کیسے تہذیبیں تہذیبوں سے جا ملتی ہیں۔ کیسے سب لوگ مسجد اور مے خانے جا کر ایک چھت کے نیچے بیٹھنا پسند کرتے ہیں، انہیں وہاں ایک دوسرے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ وہاں کے ماحول سے اپنے لیے سکون کشید کرتے ہیں۔ ہنستے، مسکراتے اور ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں۔

پھر وہی لوگ، باہر نکل کر ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے ہیں، آخر کیوں؟ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسا تضاد کیوں ہے، ساتھ بیٹھ کر کھانے، پینے اور عبادت کرنے والے، ایک دوسرے کا حق مارنے سے کیوں نہیں ڈرتے، آخر کیوں؟ وہ ایک دوسرے کو بیگانہ، غیر اور نہ جانے کیا کیا سمجھنے لگتے ہیں۔ جمعہ خان کنفیوز تھا کہ کیا یہ کسی خاص جگہ کے ماحول کا فرق ہے یا اس وقتی سرور کا اثر، جو ”ہو“ کی ضرب دل پر لگانے سے حاصل ہو تا ہے یا کڑوا شربت پی کر اپنا جگر جلانے سے۔ خان اپنے ہوش کے عالم میں رہ کر شراب خانے کی رونقیں دیکھنے کا عادی بن گیا۔ اسے رندوں کی باتیں اچھی لگنے لگیں وہ شراب پینے والوں کی عادات کا بغور مشاہدہ کر تا رہا۔

اس نے دیکھا کہ انگور کی بیٹی، لوگوں کے لہجوں اور باتوں میں ایک مٹھاس بھر دیتی تھی۔ ایک گھونٹ اپنے حلق سے نیچے اتارتے ہی، کچھ لوگ بہت خوش اور کچھ بہت اداس نظر آنے لگتے۔ وہاں کئی رند تو ایسے بھی ہوتے، جو ذرا سی پی کر بہک جاتے، ان کا پیمانہ جلد لبریز ہو جا تا۔ وہ فضول حرکات کی الٹیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے کم ظرفوں کو جلد ہی مے کدے سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ وہاں ان کی حیثیت اس چھوٹے بچے کی طرح ہوتی ہے جو خواب میں ڈر جائے اور رات کے پچھلے پہر اٹھ کر رونا شروع کر دے جس سے خواب گاہ کا رومانوی ماحول متاثر ہو۔

جمعہ خان اس لیے بھی پینے سے ڈرتا کہ کہیں اس کی کم ظرفی کسی پر عیاں نہ ہو جائے، وہ پی کر بہک نہ جائے اور کہیں اسے بھی رومانوی ماحول سے شیطان سمجھ کر باہر نہ نکال دیا جائے، اسی لیے اس نے گونگی بطخ کا روپ دھار لیا۔ وہ جو اونچی اڑان بھرنے والی مرغابیوں کے غول میں رہنا پسند کرتی ہے۔ ساحل پر بیٹھے اس انسان کی طرح جو ڈوبنے سے ڈرتا ہو۔ بس ساغر کے قریب رہ کر اس کی بے پناہ وسعتوں اور رنگوں کو دیکھتے رہنا، بند آنکھوں سے اس کی گہرائی میں جھانکنا، اپنے تصور کے روحانی گھوڑے پر بیٹھ کر اس کی سیر کو نکل جانا اور پھر وہی کہیں گمشدہ ہو جانا۔ روح کی مے پینے کا بھی اپنا ایک نشہ ہوتا ہے، بقول مولانا رومؒ، Spiritual wine is a different substance۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments