کیویز کا ادھورا دورہ۔۔۔تھریٹ، سازش یا کچھ اور؟


نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم دورہ بیچ میں چھوڑ کر ملک لوٹ چکی ہے اور پاکستانی حکومت اور عوام اس پر سراپا احتجاج ہیں اور کل تک مسجد النور کے سانحے پر مسلمانوں کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہونے والی کیوی وزیراعظم جیسنڈا کی بلائیں لینے والے مومنین اب اسی جیسنڈا کے لتے لیتے نظر آرہے ہیں اور اس دوران ہمیشہ کی طرح بھرپور جذباتیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور حقائق سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے جو منہ میں آتا ہے بولے اور لکھے جا رہے ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کہنا کہ کیوی ٹیم آ گئی تھی اور اس کے بعد اس کا یوں کھیلے بغیر بھاگ جانا پاکستان کے خلاف ”سازش“ ہے اور ہمیشہ کی طرح اس سازش کے تانے بانے ہندوستان سے ملائے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ہندوستانی تجزیہ نگار اور صحافی برجیش مشرا کی ”گارجین“ کے لیے بھیجی گئی اس خبر کو بنیاد بنایا جا رہا ہے جس میں مشرا نے

”کیوی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے“

کا خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن یہ خبر گارجین میں شائع ہونے کے بعد کیوی ٹیم کے سیکیورٹی ایڈوائزر پاکستان پہنچتے ہیں اور اپنی ٹیم کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات پر اپنی حکومت کو اوکے کی رپورٹ دیتے ہیں اور کیوی ٹیم پاکستان پہنچ جاتی ہے اور پھر اچانک کیوی حکومت اپنی ٹیم کو واپس بلا لیتی ہے اور اس ضمن میں ”Five Eyes“ کا نام بھی لیا جاتا ہے جو کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، امریکہ اور نیوزی لینڈ کی ایک مشترکہ تنظیم ہے اور یہ سب ممالک اس کے ذریعے ایک دوسرے سے معلومات کے حوالے سے جڑے رہتے ہیں اور جونہی کسی بھی ملک کی کسی خفیہ ایجنسی کو کسی رکن ملک کے بارے کسی کوئی خاص یا خطرناک خبر ملتی ہے تو اسے معاہدے کی روشنی میں فوراً نہ صرف اس ملک سے شیئر کیا جاتا ہے بلکہ سب رکن ممالک اس خبر کی جزئیات پر غور کر کے اس کا تدارک بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ”فائیو آئیز“ ہی نے کوئی ایسی تجویز یا صلاح دی تھی جس کی وجہ سے کیوی حکومت سٹپٹا گئی اور ایک لمحہ ضائع بغیر اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان سے نکالنے پر گل گئی تھی اور وزیراعظم عمران خان کی کسی بھی یقین دہانی کو خاطر میں لانے کی زحمت بھی گوار نہ کی گئی کہ کیوی وزیراعظم جیسنڈا کے نزدیک اس کے کھلاڑیوں کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور وہ معمولی سا رسک بھی نہیں لینے کو تیار نہیں ہیں، اب ہمارے حکومتی زعما ایسے نادان ہیں کہ اسے بھارتی لابی کی سازش قرار دیتے ہوئے یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ایسی باتوں سے ان کی اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا پول کھلتا ہے اور اپنی ہی بدنامی ہوتی ہے لیکن بھونپو ہیں کہ باز ہی نہیں آ رہے ہیں جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ برسر اقتدار ٹولہ کس قدر بچگانہ ذہنیت کا حامل ہے۔

آخر میں اگر یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ کیا کیوی ٹیم کو دی جانے والی برطانوی شاہی خاندان کے برابر سیکیورٹی واقعی ہی ویسی ہی تھی؟ کیونکہ میڈیا میں آ چکا کہ پاک کیوی ون ڈے کرکٹ سیریز کے پریکٹس سیشن اور ٹرافی کی تقریب رونمائی کے لیے کرکٹ ٹیموں کی اسٹیڈیم کی جانب موومنٹ کے دوران ٹیموں کو لانے والے قافلے کے روٹ میں اچانک راولپنڈی پولیس کے ایک اعلی افسر کی گاڑی داخل ہونے پر سیکیورٹی حکام میں خاصی کھلبلی مچ گئی تھی اور سیکیورٹی عملے نے قافلے کی طرف بڑھتی گاڑی کو روک لیا تھا، ذرائع کے مطابق ٹیموں کی موومنٹ کو انتہائی سیکیورٹی کے قواعد و ضوابط کی وجہ سے اچانک پہلے سے اختیار کردہ روٹ کو اچانک تبدیل کر کے فیض آباد کی جانب سے ون وے پر اسٹیڈیم کی جانب لایا جا رہا تھا اور سیکیورٹی کور فراہم کرنے والی چند گاڑیاں روڈ کی مخالف سائیڈ پر رواں دواں تھیں، ٹیموں کو لانے والا قافلہ ون وے پر چل رہا تھا کہ اچانک سکستھ روڈ راولپنڈی کی جانب سے آنے والے راولپنڈی پولیس کے ایک اعلی افسر کی گاڑی نہایت تیزرفتاری کے سات شمس آباد ڈبل روڈ کو کراس کرتی ہوئی مری روڈ پر فیض آباد کی جانب ون وے پر موجود وی وی آئی پی موومنٹ کی جانب بڑھتی چلی گئی جسے آگے بڑھ کر روکا گیا۔

کیا یہ تھے وہ برطانوی شاہی فیملی کے برابر سیکیورٹی انتظامات؟ حیرت ہے کہ اتنی اہم موومنٹ اور ایک پولیس افسر اس کی نزاکتوں سے بے خبر تھا اور اس نے اپنی گاڑی اس قافلے میں گھسیڑ دی اور کیا کیوی حکام اس ”مداخلت“ کو ”کمزوری اور خامی“ سمجھ کر تو واپس نہیں گئے ہیں؟ کہیں کیوی سیکیورٹی ایڈوائزر اور فائیو آئیز نے خیال کیا ہو کہ اگر ایک غیر متعلقہ پولیس افسر کی گاڑی قافلے میں داخل ہو سکتی ہے تو اس کی طرح کسی دہشت گرد کی گاڑی بھی تو ایسے ہی قافلے میں داخل ہو سکتی ہے اور پھر انہوں نے سنگین سیکیورٹی خلا محسوس کرتے ہوئے اپنے اوکے سے رجوع کر لیا ہو اور حکومت کو ٹیم کی فوراً واپسی کی صلاح دے دی ہو؟

حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ کیوی ٹیم مطمئن ہو کر آئی تھی لیکن یہاں کچھ ایسے تشویش ناک معاملات ہوئے کہ کیوی حکومت کو واپسی کا سخت اور ناپسندیدہ فیصلہ کرنا پڑا اور اب ہندوستان اور دیگر دشمن ممالک بغلیں بجا رہے ہیں تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، ایسا نہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی آخری بار، یہ آئندہ بھی ہو گا اور اس بار ممکن ہے کہ ہندوستان سے کوئی ٹیم واپس جا رہی ہو تو کیا تب کہیں کوئی پاکستانی لابی اس کے پیچھے کارفرما ہوگی؟

بہرحال کیوی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کی یہ بات زیادتی پر مبنی ہے کہ وہ پاکستان سے سیکیورٹی تھریٹ کے حوالے سے کوئی معلومات شیئر نہیں کریں گے، یہ حیرت انگیز اور افسوس ناک بات ہے اور دفتر خارجہ کو اس پر سخت ردعمل دینا چاہیے کیونکہ یہ تھریٹ کا معاملہ پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے سامنے آیا ہے اور پاکستان کو کیویز معلومات دیں گے تو ان شرپسند عناصر کا سدباب کرنے میں مدد ملے گی اور اگر کیویز ایسا نہیں کرتے ہیں تو حکومت پاکستان کو اسے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش قرار دینے میں لمحہ بھر بھی تامل نہ کرنا چاہیے۔

آخر میں یہ بھی سن لیں کہ کیوی حکومت نے صرف پاکستان سے کرکٹ کھیلنے سے معذوری ظاہر نہیں کی ہے بلکہ اس نے جون 2022 انٹرنیشنل ہاکی ایونٹس کھیلنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ کیویز نہ ہاکی کی کی میزبانی کریں گے اور نہ ہی کسی ایونٹ میں شرکت کریں گے اور کیوی ہاکی فیڈریشن نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

”کیوی ہاکی ٹیم پرو ہاکی لیگ، جونئیر ورلڈ کپ اور انڈور ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرے گی“
اب کیویز کے اس فیصلے کو ہاکی کے خلاف سازش قرار دینے والے آگے آجائیں۔

Facebook Comments HS