یورپ امریکا اختلافات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کو روکنے کے کے مقصد سے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ ایک نئے دفاعی انڈو پیسفک اتحاد ”آکوس“ قائم کرنے کے اعلان نے فرانس اور یورپی یونین کو بھی ناراض کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکا کے درمیان پہلے سے ہی کئی امور پر اختلافات موجود ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے موقع پر یورپین یونین امریکا سے اس بات پر ناراض تھے کہ امریکا نے یورپ کو اس حوالے سے اپنے اعتماد میں نہیں لیا تھا اس کے بعد کابل ائر پورٹ سے یورپین شہریوں کے انخلا کے حوالے سے بھی یورپین امریکن سے ناراض نظر آئے کیوں کہ کابل ائر پورٹ کی اندرونی سیکورٹی امریکن کے پاس تھی اور یورپین ممالک یہ شکایات کرتے نظر آئے کہ امریکن اپنے شہریوں اور اپنے لوگوں کو تو کابل ائر پورٹ سے نکال رہی ہے لیکن یورپین شہریوں کو کابل ائر پورٹ پر مسائل کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے یورپین ممالک نے متبادل راستے اختیار کرنا شروع کیے ۔

اب اس دفاعی معاہدے کے بعد یورپ اور امریکا کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یورپین ممالک کے اہم ممالک سے یہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ہر اہم ایشو پر یورپ امریکا کا اتحادی تھا ان کے ساتھ کھڑا تھا لیکن اتنے اہم دفاعی معاہدے پر انہوں نے نہ صرف یورپ کو نظر انداز کیا بلکہ اس دفاعی معاہدے کی وجہ سے فرانس کو معاشی نقصان بھی ہوا۔ فرانس نے اسے ’پیٹھ میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف کہا جبکہ یورپین یونین نے شکایت کی کہ اسے‘ نظر انداز ’کیا گیا۔

اس دفاعی معاہدے کو آکوس کا نام دیا گیا ہے، جو دراصل آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کے ناموں کے حروف تہجی پر مشتمل ہے۔ اس معاہدے سے فرانس اور یورپی یونین کو الگ رکھا گیا ہے، یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران جوزف بوریل نے بھی کہا کہ اتنے اہم معاہدے سے قبل یورپ کے ساتھ کسی طرح کا صلاح  مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں فرانس کے تقریباً 36 ارب ڈالر کے معاہدے منسوخ ہو جائیں گے جو فرانس نے آسٹریلیا کو 12 نیوکلیائی آبدوزوں کی فراہمی کے حوالے سے کیے تھے۔

نئے معاہدے کے تحت امریکا اور برطانیہ نے آسٹریلیا کو نیوکلیائی آبدوزوں کی تیاری میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانس نے دیرینہ اتحادی آسٹریلیا اور امریکہ پر سکیورٹی معاہدے پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے جس میں آسٹریلوی حکومت نے امریکی جہازوں کے حق میں فرانسیسی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔

فرانس نے آسٹریلیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فرانسیسی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ منسوخ کرنے اور ان کی بجائے امریکہ سے معاہدہ کرنے کے حوالے سے جھوٹ بولا۔ فرانس نے آبدوز معاہدے کی منسوخی کے ردعمل میں امریکہ اور آسٹریلیا سے اپنے سفیر فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفیر واپس بلانے کے غیر معمولی اقدام سے اس معاملے پر فرانس کا اپنے اتحادیوں کے خلاف شدید غصے کا اظہار ہوتا ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ فرانس نے امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلایا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1778 میں قائم ہوئے تھے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژان یویس لی ڈریان نے ہفتے کے روز الزام لگایا کہ ”جھوٹ، دوغلا پن، اعتماد اور توہین کی ایک بڑی خلاف ورزی ہے۔“ ”یہ نہیں چلے گا،“ انہوں نے سفیروں کی واپسی کو ایک ”انتہائی علامتی“ عمل قرار دیا جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ہم کتنے ناخوش ہیں اور یہ کہ ہمارے درمیان ایک سنگین بحران ہے اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے اپنے عہدوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہے۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان گیبریل اتل نے اتوار کے روز بتایا کہ اگلے چند دنوں کے اندر امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوگی۔ یہ بات چیت امریکی صدر کی درخواست پر ہو رہی ہے۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا، ”ہم ان سے وضاحت چاہتے ہیں۔ امریکا نے جو کچھ کیا ہے اسے اس کا جواب دینا ہو گا کیونکہ یہ ایک بڑی اعتماد شکنی کے مترادف ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ فرانس کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کے لیے آئندہ ایام میں رابطے جاری رکھے گا۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس امریکہ کا اہم شراکت دار اور سب سے دیرینہ حلیف ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فرانس اب یورپی یونین کی سکیورٹی حکمت عملی تیار کرنے کو ترجیح دے گا جب وہ 2022 کے آغاز میں یورپین بلاک کی صدارت سنبھالے گا۔“ فرانسیسی وزیر خارجہ نے آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے فرانس کے ایک ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”جھوٹ، دوغلا پن، بداعتمادی اور توہین ہوئی ہے۔ فرانس کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سفیروں کو واپس بلانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم کتنے ناراض ہیں اور ہمارے درمیان شدید بحران ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف فرانس اور آسٹریلیا کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اتحادوں میں اعتماد کو توڑا گیا ہے‘ ۔ اس سے قبل فرانس سے آسٹریلیا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے فرانسیسی آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ منسوخ کرنے اور ان کے بجائے امریکا سے معاہدہ کرنے کے سلسلے میں غلط بیانی کی۔

لیکن آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے حوالے سے چند ماہ قبل ہی اپنے خدشات کا اظہار کرچکے تھے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن کا کہنا تھا کہ وہ فرانس کی مایوسی کو بخوبی سمجھتے ہیں لیکن“ مجھے آسٹریلیا کے قومی مفاد کو سرفہرست رکھنے میں کوئی افسوس نہیں اور آئندہ بھی نہیں ہو گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن، کورونا کے باعث عائد سفری پابندیوں میں نرمی کر کے یورپی شکایات کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب جب اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے وہاں پر اب یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکن اور یورپین کے درمیان اختلافات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments