قومی لباس اور بینک کی ریسپشن والی لڑکی


اس دن جمعہ تھا۔ میں پچھلے دس سال سے اکثر و بیشتر جینز  پلس کیژوئل شرٹ، فارمل پینٹ شرٹ یا پھر جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس رہتا ہوں۔ شلوار قمیض فقط عیدین یا کسی کی فوتگی کے موقع پہن لیا تو پہن لیا۔

اس دن نہ جانے کیا ترنگ آئی میں نے الماری کھولی تو استری شدہ سفید شلوار قمیض پر نظر پڑی۔ میرا جی چاہا تو میں نے پہن لیا۔ مجھے ایک چیک جمع کروانے بنک جانا تھا۔

پہلے پہل گارڈ نے روکا،
”او ہیلو۔ ؟ ویرے“ ماکس ”پاؤ۔ ایدے بغیر انٹری نہیں ہے۔“ (بھائی ماسک پہنو، اس کے بغیر اینٹری نہیں ہے)

ساتھ ہی غالباً بنک کا اپنا بندہ ماسک کا خوانچہ سجائے بیٹھا تھا۔ میری طرف ماسک بڑھا دیا اور بقیہ ماسک کی ترتیب درست کرتے ہوئے بے دھیانی سے بولا

”بیس روپے۔“
ماسک لیا۔ پہنا۔ اندر گیا۔

ریسیپشن پر ماڈل نما لڑکیاں براجمان تھیں۔ پنسل اٹھانے سے لے کر لکھنے تک ادائیں دکھاتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا تازہ تازہ بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر کسی فیشن شو میں آئی ہیں۔

میں ایک کے پاس گیا۔ یہ موبائل پر فیس بک چلا رہی تھی۔ وہ جو ایک پوسٹ کرتے وقت ”ٹڑنک“ کی آواز آتی ہے اور وہ جو لائک شائک کا مخصوص ساؤنڈ ہے، وہ اس کے موبائل سے کاؤنٹر عبور کر کے میری سماعتوں سے ٹکرا رہا تھا۔

”السلام علیکم! بی بی یہ چیک ڈپازٹ کرانا ہے۔ چیک ڈپازٹ مشین ایرر دے رہی ہے۔“
اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ گویا بہری ہے۔
”یار مہوش دس ایکسل شیٹ از سو کمپلیکس دیٹ۔ آئی کانٹ۔“
”ایکسیوزمی! میڈم یہ چیک۔“

”چیک مشین دو دن سے خراب ہے۔ کس بنک کا چیک ہے۔ آپ وہاں۔ وہ وہاں ٹیبل نظر آ رہا ہے ناں؟ وہاں سے ڈپازٹ سلپ اٹھا لیں جا کر ۔ اسے فل کر کے کاؤنٹر نمبر چار پر چلے جائیں۔ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟“

اس نے لیموں کے عرق کا گلاس میرے تھوبڑے پر انڈیلا۔

کاؤنٹر نمبر چار پر بہت لمبی لائن تھی اور مجھے کہیں ضروری کام جانا تھا۔ اسی واسطے چیک مشین سے ڈپازٹ کرنے کی کوشش کر چکا تھا۔

میں واپس چلا آیا۔

سوموار کے دن میں نے لیوائز کی جینز، آؤٹ فٹرز کی شرٹ اور پیروں میں سکیچرز کے سنیکرز پہنے اور سن گلاسز لگائے دوبارہ اسی برانچ پہنچا۔ میں نے آج بھی کوئی ماسک نہیں لگایا تھا۔

ماسک والا بدستور اپنی چھابڑی سجائے بیٹھا تھا۔ جونہی میں دروازے کے قریب آیا اسی گارڈ نے پہلے مجھے سیلوٹ نما سلام ٹھوکا پھر جھک کر مودبانہ انداز سے دروازہ کھولا۔

کاؤنٹر چار پر پہلے سے کہیں زیادہ طویل قطار تھی۔
میں سیدھا ریسیپشن پر اسی مائی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
”گڈ آفٹرنون۔ آئے ووڈ لائک ٹو ڈپازٹ دس چیک رائٹ ناؤ۔ اٹس ارجنٹ۔ دیٹس نوٹ ورکنگ۔“
میں نے چیک مشین کی جانب شاہ رخ خان اسٹائل میں ڈھیلا سا اشارہ کیا۔
وہ اس وقت سرجھکائے فائلوں کے پلندوں پر عرق ریزی کر رہی تھی۔

میرے جملے ابھی ختم نہ ہوئے تھے کہ وہ بجلی کی سی تیزی سے کاؤنٹر سے ایسے باہر نکلی جیسے خوشامدی سیاسی لیڈروں کا ”سامان“ اٹھانے کو آگے بڑھتے ہیں۔

”سر وی ریگریٹ فو ان کنوینیئنس۔ گیو می دا چیک اینڈ پلیز ہیو آ سیٹ۔“
اس نے قریبی صوفے پر عین ٹاور اے سی کے سامنے جھک کر اشارہ کیا۔

میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔ اور سامنے پڑے اخباروں میں سے چھانٹ کر انگریزی اخبار نکال کر اسے گھورنے لگا۔

وہ تیزی سے ڈپازٹ سلپ بھر کر قطار کو چیرتی ہوئی کا ؤنٹر چار کا عقبی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔

اندر بیٹھے شخص کے کان میں کچھ ”گٹ مٹ“ کی۔ اس نے سارے کام چھوڑ، ٹھک ٹھک ٹھک چیک کا اندراج کمپیوٹر میں کیا۔ مہریں مار کر رسید اس کے حوالے کی۔

وہ تیز قدم اٹھاتی میری جانب آئی۔
”سر آئی ہیو ڈن دیٹ۔ یہ رسییٹ ہے۔ پلیز۔ اینی تھنگ ایلس سر؟“
”شلوار قمیض والوں اور جنرل پبلک کے لئے بھی آپ کا بی ہیو یہی ہونا چاہیے۔ دیٹس یور ڈیوٹی۔“

”جنرل“ کے لفظ کے ساتھ ساتھ دیگر انگریزی الفاظ میں نے فل برگر اور برطانوی ہائبریڈ لہجے میں جان بوجھ کر منہ ٹیڑھا کر کے بولے۔

اس کا سانس اوپر کا اوپر، نیچے کا نیچے اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی یا سنبھلتی میں تیزی سے اس کے ہاتھ سے رسید لے کر باہر نکلتا چلا گیا۔

Facebook Comments HS