سید علی شاہ گیلانی: سپہ سالار حریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جد و جہد آزادی، وطن سے محبت کا درس دیتے سید علی شاہ گیلانی ’یکم ستمبر 2021، بروز بدھ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ اپنے بچپن سے سید علی شاہ گیلانی کو ٹیلی ویژن پر دیکھا، سنا۔ اس عمر میں آزادی، غلامی، وطن، ہندوستان، پاکستان، مقبوضہ، غاصبانہ قبضہ اور ظلم و ستم جیسی اصطلاحوں سے میں ناواقف تھا۔ مگر جب جب سید علی شاہ گیلانی کو ٹیلی ویژن پر دیکھا تو اس بوڑھے شخص کی شخصیت اور آواز نے بہت متاثر کیا۔ وقت گزرا اور سکول کے زمانے میں یہ علم ہوا کہ کشمیری راہنما ہیں۔

جب تحریک آزادی کشمیر کو سمجھا۔ تو احساس ہوا کہ جس شخص کو میں بچپن میں بوڑھا بابا سمجھتا تھا۔ وہ درحقیقت حریت پسندوں کا سپہ سالار ہے۔ اور پھر جب آزادی و غلامی جیسی اصطلاحوں کی سمجھ آئی تو سید علی شاہ گیلانی کے افکار و نظریات کی سمجھ آنے لگی۔ اور اس کے بعد سے میرے دل و دماغ نے ہمیشہ سید علی شاہ گیلانی کے لیے ایک مخلص راہنما کی تصویر کھینچی۔ آپ کے وصال کے بعد میرے اندر کا بچہ بار بار پرانی ریکارڈنگز سن کر اس شخصیت اور آواز کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ جس آواز نے مجھ ایسوں کو فلسفہ آزادی اور پاکستان سے عشق سکھایا۔ وہ آواز جو محکوم کشمیریوں کی ڈھال بنی۔ ایک پرامن آواز جس سے غاصب کانپ اٹھے۔

سید علی شاہ گیلانی کی پہچان ایک پرامن حریت لیڈر کی ہے۔ آپ نے ساری زندگی پرامن اور جمہوری انداز میں آزادی کی تحریک چلائی۔ اور جو موقف پہلے دن اپنایا۔ ساری زندگی اس پر پہرہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم و بیش بیس برس کی قید و صعوبت، بے انتہا سازشوں، ہر طرح کے لالچ، ہر طرح کے مکروہ حربے کے جواب میں آپ نے صرف ایک ہی نعرہ لگایا۔ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔

آپ الحاق پاکستان کے داعی تھے۔ اور بڑے فخر سے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اٹل حقیقت قرار دیتے تھے۔ اسی لیے مختلف موقعوں پر فخریہ انداز میں خود کو پاکستانی کہتے اور کبھی اپنی وفات کے بعد ، قبر پر الحاق پاکستان کی خبر سنانے کی وصیت کرتے دکھائی دیتے۔

اپنی شناخت پاکستانی کی حیثیت سے وہ صرف اپنی تقریروں تک نہیں کرواتے تھے بلکہ عملاً بھی بے شمار موقعوں پر آپ نے پاکستانی ہونے کی دلیل دی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مشرف دور میں مقبوضہ کشمیر سے سیاسی راہنماؤں کے متعدد وفد پاکستان آئے تو سید علی شاہ گیلانی کسی بھی وفد کا حصہ نہیں تھے کیونکہ آپ کے لیے یہ بات قابل قبول ہی نہیں تھی کہ ہندوستانی پاسپورٹ پر سفر کروں۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب سب کو لگ رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔

مگر سید علی شاہ گیلانی نے عارضی مفادات کی خاطر اپنے اصولی موقف سے ہٹنا مناصب نہ سمجھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ کی بیٹی شدید علیل تھیں سعودی عرب میں۔ بیٹی کی عیادت کے لیے آپ کو خصوصی طور پر 2015 ء میں نظر بندی سے رہائی دی گئی۔ اس مقصد کے لیے جب پاسپورٹ کے حصول کے لیے آپ نے درخواست فارم پر کیا تو شہریت کا خانہ خالی چھوڑ دیا۔ جب پاسپورٹ آفس نے کہا کہ آپ کی عرضی نامکمل ہے تو سید علی شاہ گیلانی نے کہا۔ ”میں پیدائشی ہندوستانی نہیں ہوں۔ ہم مقبوضہ ہیں اور ہم قبضہ ہو جانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔“ ( یاد رہے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے سفری دستاویزات کے لیے اپنی شہریت ہندوستانی لکھنا لازمی ہے۔ )

ساری زندگی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے لیے جدوجہد کی۔ آپ کی پہچان ایک پاکستان نواز کشمیری رہنما کی تھی۔ مگر جب مشرف دور میں پاکستان و ہندوستان کے درمیان اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر چار نکاتی فارمولا زیر بحث آیا۔ تو نئی دلی میں پاکستانی سفارت خانے میں اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف سے ہونے والی ملاقات میں آپ نے کہا کہ انھیں کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر ان کے سیاسی مستقبل کا یک طرفہ فیصلہ لینے کا کوئی حق نہیں۔ واحد کشمیری سیاسی راہنما جس کی ایک آواز پر پوری کشمیر قوم لبیک کرتی تھی۔

ابتدائی تعلیم سو پور سے حاصل کی۔ اورینٹل کالج لاہور سے ادیب فاضل (ایم اے ) کرنے کے بعد آپ نے واپس کشمیر جا کر بحیثیت مدرس سرکاری نوکری اختیار کر لی۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد 1950 ء میں آپ نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ ابتدائی سیاسی وابستگی آپ کی جماعت اسلامی سے رہی۔ تین بار مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ممبر رہے۔ 1962 ء میں پہلی بار گرفتار ہوئے۔ 1993 ء میں آپ نے دیگر کشمیری رہنماؤں کے ہمراہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی۔

اور ایک منظم اور پرامن انداز میں تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھرپور جد و جہد کا آغاز کیا۔ اور الحاق پاکستان کو سیاسی نصب العین کے طور پر اپنایا۔ آپ نے بیس سے زائد کتابیں، کشمیر، کشمیریوں اور پاکستان کے عشق میں تحریر کیں۔ جن میں آپ کی خودنوشت ”ولر کنارے“ اور ”روداد قفس“ تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ 2003 ء میں آپ کو تاحیات چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس نامزد کیا گیا۔ جو 26 سیاسی و مذہبی کشمیری جماعتوں کا اتحاد ہے۔ تاہم گزشتہ برس علالت کے باعث آپ اس منصب سے سبکدوش ہو گئے۔ اس کے علاوہ آپ رابطہ عالم اسلامی تنظیم کے بھی رکن رہے۔ 2004 ء میں آپ نے تحریک حریت کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی۔

آپ کو 2020 ء میں حکومت پاکستان نے نشان پاکستان سے نوازا۔

1981 ء سے لے کر تادم آخر آپ سوائے حج 2006 ء کے نہ کہیں باہر گے اور نا ہی تحریک جد و جہد آزادی کشمیر کے علاوہ کوئی اور مصروفیت رکھی۔ نومبر 2010 ء میں ہندوستان نے غداری کے مقدمے میں آپ کو نظر بند کر دیا۔ اس تمام عرصے میں بھی آپ کشمیر پر اپنے موقف سے ذرا برابر نہ ہٹے۔ اور مزاحمتی سیاست جاری رکھی۔ زندگی بھر دشمن آپ سے خوف زدہ رہا۔ مگر دشمن کی بوکھلاہٹ پاکستانی پرچم میں لپٹے حریت کے سپہ سالار کے جسد خاکی کو دیکھ کر مزید بڑھ گئی۔

92 سالہ ایک بوڑھے کشمیری کی میت سے مودی سرکار اس قدر خوف زدہ تھی کہ رات کی تاریکی میں تمام تر تدفین و تجہیز کے عالمی قوانین کو رد کرتے ہوئے ہندوستانی فوج نے نہ صرف سید علی شاہ گیلانی کے اہل و عیال سے میت چھینی بلکہ مرحوم کی وصیت کے برعکس زبردستی تدفین بھی کی۔ کیونکہ مکار مودی سرکار یہ جانتی تھی کہ حریت پسندوں کے سپہ سالار سید علی شاہ گیلانی کا جنازہ، ہندوستان کے خلاف ”رائے شماری“ ہو گی۔ مگر ہندوستان کے تھینک ٹینک شاید یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس کا جنازہ روک کر انہوں نے ہندوستان کی جمہوریت کا جنازہ نکلوا دیا۔

آج ہر جمہوریت پسند شخص مودی سرکار اور اس کی جمہوریت پر تھو تھو کر رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا آخری رسومات کی اجازت نہ دینے پر ہندوستان کا مکروہ چہرہ دکھا رہا ہے۔ ہندوستان نے حریت لیڈر کی وصیت کے مطابق سرینگر کے شہداء قبرستان میں تدفین اور کشمیریوں کی جنازے میں شرکت کی خواہش کو فوجی طاقت سے روک تو لیا۔ مگر ہندوستان کا یہ شرمناک رویہ اس کا خوفزدہ اور مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں کر گیا۔ یوں 29 ستمبر، 1929 ء کو سو پور بارہ مولا میں پیدا ہونے والے سید علی شاہ گیلانی 2 ستمبر 2021 ء کو اپنے آبائی علاقے حیدر پورہ میں سپرد خاک ہو گئے۔

سید علی شاہ گیلانی پیرانہ سالی ’گردے، دل اور کینسر جیسے عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود زندگی کے آخری 11 برس جبری نظر بندی میں رہے۔ اس دور میں بھی آپ پوری جرآت سے ہندوستان کو للکارتے اور اس دور میں سامنے آنے والی آپ کی ہر گفتگو، حریت کے متوالوں کو نیا جذبہ دیتی رہی۔ آخری ویڈیو میں آپ عالم مدہوشی میں یہ الفاظ بار بار دہرا رہے ہیں۔ ”لا الہ الا للہ۔ پاک سر زمین۔“ گویا مہر ثبت کر رہے ہوں کہ دیکھو میں آخری سانس تک ڈٹا رہا۔ نظر بندی کے ایام میں ہی ایک موقع پر ہندوستان کو للکارتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”دروازہ کھولو! تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے“ ۔ اور آپ کی رحلت پر پوری دنیا نے ہندوستان کی جمہوریت کا جنازہ نکلا دیکھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments