افغانستان : ابہام کا طلسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان کی صورتحال مبہم اور بہت سی ممکنات سے مملو ہے۔ امریکی انخلا کے بعد طالبان کا سریع الحرکت فتوحات اور کابل پر قبضے کے بعد جو صورتحال نظر اتی ہے، اس میں مستقبل میں ابھرنے والے منظر نامے بارے کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ وادیٔ پنجشیر پر قبضے کے بعد اگرچہ طالبان واحد غالب قوت بن کر ابھرے ہیں لیکن حکومت کی تشکیل ابھی تک نامکمل ہے۔ طالبان کا موقف ہے کہ وہ ایسی حکومت کا قیام چاہتے ہیں جس میں تمام مذہبی فرقوں اور نسلی گروہوں کی نمائندگی موجود ہو۔

ماضی میں اپنی حکومت کے مقابل اس بار طالبان کا طریق یکسر مختلف نظر اتا ہے، جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ قطر معاہدہ اور دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ طے پانے والی تفہیم کے مطابق طالبان وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے پابند ہیں، دوئم ریاستی امور انجام دینے کے لئے پیسے درکار ہوتے ہیں، جس کے لئے بین الاقوامی امداد ناگزیر ہے۔ طالبان کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ دنیا کسی جنگجویانہ گروہی حکومت کی امداد نہیں کرے گی۔ لہذا طالبان ان غیر پشتون گروہوں کو پرامن رکھنے کے لئے حکومت میں ان کی شمولیت ضروری خیال کرتے ہیں۔

اس وقت طالبان کو چھ ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اثر و رسوخ کے اعتبار سے ان کی ترتیب یوں بنتی ہے، پاکستان، امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور ایران۔ ان ممالک کی حمایت طالبان کے لئے اگرچہ اطمینان قلب کا باعث ہونی چاہیے، لیکن ان متضاد مفادات کے حامل ممالک کی ایک ہی ملک میں گہری دلچسپی اپنے بطن میں خلفشار لیے ہوئے ہے۔

ملک کے انتظامی امور سے امریکہ اور اس کی حمایت یافتہ اشرف غنی حکومت کے بظاہر بوکھلاہٹ کے عالم میں انخلا اور کابل کے ہوائی اڈے کے ڈرامائی مناظر نے، دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ طالبان کو ناقابل مزاحمت طاقت حاصل ہے۔ لیکن چند روز قبل روسی نشریاتی ادارے آر ٹی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ایک ترجمان ملا محمد نعیم نے بتایا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران اور اخری وقت تک طالبان کا اصرار رہا کہ امریکی انخلا منظم انداز میں ہونا چاہیے لیکن حیران کن طور پر امریکی طرز عمل اس کے برعکس تھا۔ دنیا کے لئے اس سیاسی اشتہاری مہم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے امریکی تقریباً ستاسی ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ، اور بعض اعلی نسل کے پالتو کتے بھی چھوڑ کر بھاگ گئے۔

یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ طالبان کوئی یکساں ہموار تنظیم نہیں ہیں، بلکہ مختلف جتھوں کا مجموعہ ہیں۔ اس وقت افغانستان میں، بقول افراسیاب خٹک، گرگ اشتی، یعنی بھیڑیوں کے مابین امن کی فضا طاری ہے۔ لیکن یہ نازک صورتحال زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ افغانستان پر گہری نظریں جمائے ممالک میں چین، روس اور ایران ایک طرف نظر آتے ہیں جبکہ امریکہ اور برطانیہ کے پرانے اور ہمہ گیر سامراجی مفادات سب کو معلوم ہیں۔ پاکستان کے لئے اس قضیے میں اپنے حتمی کردار کا فیصلہ کرنا شاید اب بھی باقی ہے۔

افغانستان میں امریکی ناکامیاں ماضی میں اس کی مہم جوئیوں اور کسی بھی سامراجی قوت کی فوج کشی کا شناختی وصف رہی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن جو لوگ طالبان کی فتح پر شادمان ہیں اور امریکی انخلا کو سوویت یونین کی شکست کا اعادہ قرار دے رہے ہیں، ان میں سے اکثریت کا رویہ نادانی کا عکاس ہے جبکہ واقف حال لوگوں کی اداکاری، اپنے ہم وطنوں کو دھوکے میں مبتلا رکھنے کی کوشش ہے۔ امریکہ نہ تو اقتصادی طور پر دیوالیہ ہوا ہے اور نہ ہی اس کی فوجی استعداد میں کمی آئی ہے۔ جولیان اسانج کے مطابق امریکہ کا مفاد فتح حاصل کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کے تسلسل میں ہے۔ 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ میں فوجی ساز و سامان تیار کرنے والے اداروں کی شرح منافع میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے نہ ہی یہ اس ملک کا محض داخلی معاملہ ہے، بلکہ نئے عالمگیر تنازع کی انتہائی اہم کڑی ہے۔ اہل افغانستان ہمارے بھائی بہن اور پڑوسی ہیں لیکن شدید خطرہ ہے کہ خدانخواستہ افغانستان اور اس کے ارد گرد کے ممالک بین الاقوامی طاقتوں کا میدان جنگ نہ بن جائیں۔ میرا مقصد خوف کی ترویج نہیں بلکہ تلخ حقائق کا ادراک ہے۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں بحث کے دوران زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ افغانستان میں استحکام امریکہ نے پیدا کیا جس سے روس اور چین نے مفت میں فوائد حاصل کیے ہیں۔ اس نے ایسا اس لئے کہا ہے کہ طالبان کی پسپائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسی ممالک نے رسد و ترسیل کا انتظام کیا ہے۔ ازبکستان کی ریل گاڑی مزار شریف تک آ پہنچی ہے، ایران کی ٹرین صوبہ ہرات میں اندر تک اتی ہے، جبکہ ترکمانستان کو بذریعہ ٹرین افغانستان کی سرحد تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

بل کلنٹن دور میں سیکریٹری خارجہ میڈلین البرائٹ اور دنیا کی پچیس کثیر القومی کمپنیوں نے قریبا اکیس سال پہلے یہ پیشگوئی کی تھی کہ چین کی روز افزوں ترقی اسی طرح جاری رہی تو 2025 میں چین دنیا کی غالب قوت بن جائے گا۔ ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ اگر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو چین کے سپر پاور بننے میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ سی پیک اس عظیم منصوبے کا نہایت اہم حصہ ہے جو چین کو بذریعہ وسط ایشیا یورپ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لئے پرامن افغانستان چین کے لئے بہت ضروری ہے۔

آسٹریلوی نژاد پیرانہ سال برطانوی صحافی جان پلیجر کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ہل میں جنگ کے خوگر منصوبہ ساز امریکی خارجہ پالیسی کے خون آلود افق پر چین کی صورت میں نئے دشمن کو اپنا ہدف قرار دے چکے ہیں۔ پینٹاگون کے معتبرین نے واشنگٹن انتظامیہ کو باور کرایا ہے کہ چین کے ساتھ تنازعہ میں اگر دسیوں لاکھوں افراد تلف بھی ہو جائیں تو امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہوگی۔

اوپر بیان کیے گئے حقائق کے بعد یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی افغانستان سے انخلا کے دوران ستاسی ارب ڈالر کا اسلحہ یونہی نہیں چھوڑ گئے تھے۔ اس کے نتائج بھی برامد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ نشرو اشاعت کے اداروں پر پابندیوں کے باعث یہ اطلاعات عوام تک نہیں پہنچ پا رہیں لیکن گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں گوادر میں چینیوں پر تین حملے ہو چکے ہیں۔ ادھر سابق فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردی کی ایسی چھوٹی بڑی وارداتیں بھی ہو چکی ہیں۔

موجودہ صورتحال پاکستان کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ صاحبان اقتدار ان کٹھن حالات میں ملک اور خطے کے مفاد میں کیا حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، یہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اس تقسیم میں امریکہ کے ساتھ دوستی ہرگز ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments