سابق صدر زرداری اپنے صدارتی عہد میں کافی غیر محتاط زندگی گزارنے پر تلے رہتے تھے اور ان کے دور میں عجیب و غریب حرکتیں ہوا کرتیں اور ملک بعض اوقات کسی سرکس کی طرح لگنے لگتا تھا، مثلاً ایک دفعہ یہ بات نکلی کہ زرداری اپنی جماعت کی خواتین ایم این ایز اور منسٹرز کو بہت ہی ناپسندیدہ ناموں سے پکارتے ہیں جن میں سے ایک لفظ ”خصی“ بھی ہے اور کبھی سننے میں آتا کہ موصوف اونٹ، گائے اور بکری کا دودھ ”مکس“ کر کے پیتے ہیں اور اس حوالے سے ایوان صدر میں یہ جانور بھی رکھے ہوئے تھے، ان کی حرکات و سکنات کسی بھی طور ایک وفاق کی علامت سے میل نہ کھاتی تھیں ایک بار امریکہ گئے تو جینز پہن کر جہاز سے اترتے دیکھے گئے تھے جو کہ سربراہ مملکت کے باوقار عہدہ کے شایان شان بات نہ تھی اور پھر موصوف جو کہ ”وفاق کی علامت“ تھے، ایران سندھی ٹوپی پہن کر پہنچ گئے تھے جس کا اعلی ترین حلقوں میں خاصا برا منایا گیا تھا کیونکہ کسی بھی ملک کے صدر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بیرون ملک دورے کے دوران ایسی بچگانہ حرکت کر کے اپنے ملک اور قوم کی جگ ہنسائی کا باعث بنے۔

یہی صدر زرداری سعودیہ کے دورے کے لیے بے چین نظر آتے تھے لیکن بوجوہ سعودیہ انہیں خوش آمدید کہنے کو تیار نہ ہو رہا تھا، بڑی مشکل سے جب شاہ عبداللہ کو صدر زرداری سے ملاقات کے لیے راضی کیا گیا اور زرداری سعودیہ جا پہنچتے ہیں اور ایک سوئمنگ پول کے کنارے دونوں بیٹھ کر گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور ابھی بس 15 منٹ ہی ہوتے ہیں کہ شاہ عبداللہ صدر زرداری کی کسی بات سے ناراض ہو کر اٹھ کر وہاں سے چلے جاتے ہیں، اب زرداری صاحب وہاں ان کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ شاہ عبداللہ کب آتے ہیں؟ مگر شاہ عبداللہ نے نہ آنا تھا اور نہ ہی آئے، یہ واضح طور پر ایک سربراہ مملکت کی توہین تھی کہ اس کا میزبان اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن کیا اس میں صدر زرداری کا دوش کچھ نہ ہو گا؟ خیال ہے کہ اس ملاقات کے لیے بمشکل راضی ہونے والے شاہ عبداللہ صدر زرداری کی طرف سے مشرق وسطی میں ”ایک شیعہ بلاک“ بنانے کی سرگرمیوں کی پراسرار اور خفیہ اطلاعات کے بعد خاصے برہم تھے اور ان کے پاس اس ضمن میں خاصے شواہد بھی تھے کہ امریکی آشیرباد سے صدر زرداری لبنان، ایران، شام، بحرین اور پاکستان وغیرہ پر مشتمل ایک ”شیعہ بلاک“ بنانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور سعودیہ کو اپنے دیرینہ دوست سے اس بات کی قطعاً امید نہ تھی کہ وہ خطے میں اس کے مفادات کو ضرب لگانے کی کسی بھی ”سازش“ میں حصہ دار بنے گا، سعودیہ سمجھتا تھا کہ ایسا کوئی بھی بلاک اس کے خلاف بنا کر اس کو تنہا، غیر موثر، کمزور اور زخمی کرنے کی چال چلی چلی جا رہی ہے اور کم ازکم گہرے اور دیرینہ تعلقات کا حامل پاکستان اس میں کبھی شریک نہ ہو سکتا تھا لیکن اپنے پاس موجود ناقابل تردید شواہد کی بنا پر وہ اس کا ذمہ دار صدر زرداری کو ٹھہراتا تھا اور اسی لیے وہ اس کو سعودیہ میں خوش آمدید کہنے کو تیار نہ تھا لیکن کچھ مشترکہ دوستوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کرداروں نے برف پگھلانے کی کوشش کی اور ملاقات کا وقت مل گیا لیکن پھر وہ ہو گیا جو کہ کبھی اس سطح کی کسی ملاقاتوں میں آج تک نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد شاہ عبداللہ اور سعودی بڑوں کو کیسے راضی کیا گیا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے جو پھر کبھی کہہ دی جائے گی۔

دوسرے کردار موجودہ وزیراعظم عمران خان ہیں ان کی سعودیہ اور چین بارے انتہائی غیر محتاط باتیں ان کے مشہور زمانہ 126 روزہ دھرنے کے ذریعے دنیا تک پہنچی تھیں اور دوستوں کے بار بار روکنے کے باوجود بھی چین اور سعودیہ بارے غیر ذمہ دارانہ لب کشائی سے نہ خان صاحب رکے اور نہ ہی ان کے نادان دوست، ان ہی دنوں چند ٹی وی اینکرز بھی سعودیہ بارے ایسی ہی گفتگو کیا کرتے تھے اور ان اینکرز کی ہمدردیاں واضح طور پر خان صاحب کے لیے نظر آتی تھیں، ان دنوں یوں لگتا تھا کہ شاید کسی نے سعودیہ کے خلاف کوئی مہم چلانے کے لیے پاکستان کے کچھ لوگوں کو ”ہائر“ کیا ہوا تھا۔

ان دنوں سعودیہ کو شک تھا کہ خان صاحب کے پیچھے ایران نواز لابی لگی ہوئی ہے اور اس کا ذکر معروف کالم نگار سلیم صافی بھی تواتر سے کیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو انہوں نے ان کی پارٹی کے کراچی اجلاس میں فرقہ وارانہ نعروں کے لگائے جانے کا ذکر بھی کیا تھا، کچھ لوگ باقاعدہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ خان صاحب کو سی پیک رول بیک کرنے کے لیے ایرانی لابی نے ”لانچ“ کیا تھا اور اس میں ایران کے شہر چاہ بہار میں ہندوستان کی طرف سے 20 ارب ڈالرز کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جو کہ چاہ بہار بندرگاہ پر گوادر بندرگاہ کو فیل کرنے کے لیے ہندوستان نے کی تھی۔

اس ضمن میں خان صاحب کے وزیر رزاق داؤد کی جانب سے وزارت کے فوراً بعد ایک غیر ملکی اخبار کو انٹرویو میں سی پیک معاہدات پر نظر ثانی والا بیان بھی چینی قیادت کو خاصا ناراض کرنے کا باعث بنا تھا۔ خان صاحب سعودیہ جاتے ہیں تو وہاں ان کی ولی عہد محمد بن سلمان وغیرہ سے بڑی اہم ملاقاتیں ہوتی ہیں لیکن سعودی اس وقت سخت برہم ہو جاتے ہیں جب خان صاحب کے سعودیہ سے پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی ساری ملاقاتوں کی بھنک ایران کو پڑ جاتی ہے اور سعودیہ اس کا الزام خان صاحب کے ساتھ جانے والے ان کے ایک دوست پر عائد کرتا ہے اور آئندہ کسی بھی دورے میں اس دوست کو ساتھ لانے سے منع کر دیتا ہے۔

اب آپ صدر زرداری اور عمران خان کے ادوار کا جائزہ لیں اور ماضی کے ادوار کا بھی، کبھی بھی اس طرح کی ہزیمت کا غیر ملکوں اور وہ بھی دوست ملکوں کی جانب سے کسی وزیراعظم یا صدر کو سامنا کرنا پڑا تھا؟

تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا۔