سینیٹ میں ”گھریلو تشدد کی روک تھام“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

21 جون 2021 ءکو سینیٹ (ایوان بالا) میں ”گھریلو تشدد کی روک تھام“ کے عنوان سے ایک بل پیش کیا گیا۔ جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے باہمی اختلافات کو بالا تر رکھتے ہوئے بل کی منظوری پر آمادگی و رضامندی کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ ایام قریب ہی میں ان تمام سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں میں جو طوفان بدتمیزی، گالیوں کی گرم بازاری اور اخلاقیات کی قدروں کو جس طرح پامال کیا الامان و الحفیظ۔ لیکن مذکورہ بل پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اس بل کے مضمرات پر ذرا برابر بھی نظر ثانی کرنے کی تکلیف گوارا نہ کی۔

ایسے قوانین کسی بھی ملک کی تہذیب و ثقافت، اخلاق و روایات، معاشرت و سماجیت، شرم و حیا سے مزین ”خاندانی نظام“ کی عمارت پر ایسے ضرب کار ثابت ہوتے ہیں، جو اس عمارت کی بنیادوں کو ہلانے اور بالآخر زمین بوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قارئین کی خدمت میں مذکورہ بل کا مختصراً پس منظر پیش کر کے اس کے اثرات و مضمرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

5جون 2005 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک اہم اجلاس ”بیجنگ پلس 5“ کے عنوان سے شروع ہوا۔ جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے پروگرامز کا منصوبہ بنایا گیا۔ جس کا موضوع ”خواتین کی صنفی مساوات اور اکیسویں صدی“ بتایا گیا۔ جس کا مقصد مرد و عورت کے تمام معاملات میں مکمل مساوات کا اہتمام، اور جن ممالک میں خواتین کے صنفی فرق کی بنیاد پر امتیازی قوانین موجود ہیں انہیں ختم کرنا۔

2 اپریل 2000 ءمیں ”بیجنگ پلس 5 سیشن“ کی مجوزہ قرار داد کا ایک مسودہ جاری کیا گیا۔ جس کی بعض شقیں درج ذیل ہیں

( 1 ) جنس، نسل، مذہب، معذوری، عمر یا جنسی رجحانات کی بنیاد پر امتیاز ختم کرنے کے لیے قوانین نافذ کیے جائیں۔

( 2 ) ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے والے قوانین منسوخ کیے جائیں، کیونکہ ایسے قوانین ہم جنس پرست خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کو تقویت دیتے ہیں۔

( 3 ) عورتوں کو گھریلو اور تولیدی ذمہ داریوں پر معاوضہ ادا نہ کرنا ان کی غربت ختم کرنے میں رکاوٹ ہے ان کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں اور حصہ بہت کم اس عدم توازن کو مناسب پالیسیوں اور پروگرامز کے ذریعے تعلیمی میدان میں اور جہاں ضرورت ہو قانون سازی کے ذریعے سے، نیز گھریلو ذمہ داریوں میں مرد و عورت کی مساوی شرکت کے حوالہ سے رائے عامہ کو حساس اور بیدار کرنے کے لیے عوامی مہم منظم کی جائے۔

( 4 ) بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے اور گھریلو تشدد کی دوسری صورت حال سے نمٹنے کے لیے فیملی کورٹس بنائیں جائیں اور قوانین متعارف کرائے جائیں۔

( 5 ) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قومی سطح پر قانونی اور انتظامی اصلاحات میں خواتین کو مردوں کے مساوی معاشی حقوق بالخصوص جائیداد اور وراثت میں مساوی حصہ دینے کی طرف قدم بڑھایا جائے۔

( 6 ) بیجنگ کانفرنس کے تجوید کردہ لائحہ عمل کے پیراگراف 95 میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے جو تولیدی حقوق شامل ہیں مثلاً آزادانہ جنسی تعلقات اور اسقاط حمل کا حق وغیرہ۔

( 7 ) عورتوں کے بارے میں تمام امتیازات کو ختم کرنے کے لیے تمام ممالک کنونشن کے مقاصد کی تائید کریں، کم سے کم تحفظات پیش کریں، ایسے تحفظات سے دستبردار ہو جائیں جو کنونشن کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں۔

یہ مجوزہ قرارداد کسی بھی ملک میں بے حیائی کے فروغ، ملکی کلچر و روایات کو ختم کرنے اور معاشرہ کو ناکارہ بنانے کے لیے کافی ہیں۔ جس کی عملی مثال ان مغربی ممالک میں پائی جاتی ہیں جہاں پر ان قراردادوں کو عملی جامہ پہنایا جا چکا ہے۔

چنانچہ ”گھریلو تشدد کی روک تھام“ بل مذکورہ بل کا منطقی تسلسل ہے۔ جس کے ذریعے پاکستان میں زنا و بے حیائی سبقت حاصل کرے گی۔ اور مردوں کو شرعی، فطری، شہری و دیگر تمام حقوق سے دستبردار ہو کر خان پروری کا طوق گلے میں پہننا ہو گا۔

”گھریلو تشدد کی روک تھام“ بل میں جو تشدد کی تعریف کی گئی ہے وہ مذکورہ بل کے پس پردہ خوفناک نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں۔

گھریلو تشدد میں ایسے تمام افعال شامل ہوں گے جو کسی گھر میں عورت، بچے یا نقصان پہنچائے جانے کے قابل شخص پر جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی یا معاشی بدسلوکی کا باعث بن رہے ہوں۔ ایسا شخص گھر میں مقیم کسی بھی رشتہ دار کو خوف کا شکار کرتا ہو، جسمانی طور پر نقصان پہنچاتا ہو یا نفسیاتی طور پر پریشان کرتا ہو۔

مذکورہ تعریف میں شامل تشدد جسمانی سے ہر عاقل و بالغ باخوبی واقف ہے، لیکن تشدد جذباتی وضاحت طلب ہے۔ تشدد جذباتی کی وضاحت آرٹیکل بی سیکشن میں 9 طرح کے جذباتی اور نفسیاتی تشدد کی فہرست دی گئی ہے حسب ضرورت تشریح بھی ملاحظہ فرمائیں۔

( 1 ) کسی شخص کے ذہن میں جنون کی حد تک کسی دوسرے شخص پر اختیار کا مسلسل اظہار، یا کسی خاندانی ممبر سے اس قدر حسد جس سے فرد کی آزادی، ذاتی خلوت یا اس کی سلامتی خطرے میں آ جائے۔ (اس شق کے تحت اگر کوئی باپ اپنی پدری شفقت کی شدت میں اپنی اولاد کو کسی غیر مذہبی، غیر آئینی یا بد اخلاقی کے کسی امر سے روکتا ہے تو متاثرہ فرد اپنے باپ پر مقدمہ درج کرنے کا جواز رکھتا ہے جو کہ اخلاقیات و مذہبی روایات کے نہ صرف منافی ہے بلکہ مغربی کلچر کی بد نما عکاسی بھی ہے )

( 2 ) اگر کوئی فرد گھر میں کسی کا مذاق اڑاتا ہے یا اس کی توہین کرتا ہے تو وہ مجرم ہے۔
( 3 ) کوئی شخص اپنی بیوی یا گھر کے کسی افراد کو کہتا ہے کہ میں تمہیں ماروں گا تو مجرم ہے

( 4 ) کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دوں گا یا دوسری شادی کروں گا اور بیوی پر بانجھ پن یا پاگل پن کے جھوٹے الزامات لگاتا ہے تو مجرم ہے (شریعت نے مرد کو جو طلاق دینے یا دوسری شادی کرنے کا اختیار دیا وہ سلب کیا گیا)

( 5 ) کوئی شخص مرضی سے یا بے خبری سے گھر کے افراد سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو مجرم ہے۔

یہ بل خاندانی نظام کی بنیادوں میں ایٹم بم کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ہمارا خاندانی نظام نہ صرف درہم برہم ہو گا بلکہ نسل نو کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔ حقوق نسواں کے نام ہے مغربی کلچر کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اور ففتھ جنریشن وار کا یہ حربہ ہمیں غلامیت کی زنجیروں میں جکڑ لے گا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے دینی حلقوں، نظریاتی اداروں اور علمی مراکز کے پاس کوئی منظم منصوبہ بندی یا ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے۔ جبکہ مغربی کلچر کے مدح خواں تسلسل کے ساتھ اس قسم کے سیمینار اور لوگوں کی ذہن سازی میں مستغرق ہیں۔

ہم قانون بنانے والے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دست بدستہ التماس کرتے ہیں کہ ایسے قوانین سے بے اعتنائی برتیں جس سے ملک شرعی، نظریاتی، ثقافتی، تمدنی، اور تہذیبی طور پر مفلوج ہو جائے۔

جب تک کہ غیر حق کی یونہی بندگی ہے دوست
زندگی بھی میری، کوئی زندگی ہے دوست


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حافظ اسامہ عزیر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments