لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
وہ ادب کے اوائل میں بچپن کا ایک سنہرا دور تھا ’جب میرے لیے سر عام لفظ‘ ناول ’کا تلفظ بھی غیر ممکن تھا۔ ناول کا نام لیتے ہی کچھ چہروں کا ہیولیٰ اس قدر تبدیل ہوجاتا تھا کہ کہیں کسی نے کوئی فحش فلم کا نام تو نہ لے لیا۔ ادب اور اس کے وسیع کائنات سے نا آشنا تھا مگر ناول اور کہانیاں اتنی محبوب تھیں کہ دسترخوان پر رکھا کھانا بھی ٹھنڈ سے برف بن جایا کرتا اور میں چھت کے نیچے ہوا میں جھولتے چھجے پر کسی سہمی ہوئی بلی کی طرح آہستہ سے کتابوں کے اوراق الٹ پلٹ کرتا رہتا۔
اور یہ بھی دیکھتا رہتا کہ کہیں کوئی مجھ پر نگاہ تو نہیں رکھ رہا۔ پریم چند، بیدی، عصمت، منٹو اور عینی دادی جان کی ادبی کائنات اس وقت مجھ سے بہت دور تھی۔ ابن صفی اور کچھ ڈائجسٹ میرے بہت پسندیدہ تھے۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے میں ایک ایسی نئی دنیا میں آ گیا کہ ابن صفی میرے لیے صرف ایک تفریح بن کر رہ گئے۔ ذکر کردہ تخلیق کاروں سمیت فہمیدہ ریاض، تارڑ، اسد محمد خان، فاروقی، نارنگ اور ذوقی کی ادبی شہ پاروں کا مطالعہ کیا تو ڈائجسٹ اور جاسوسی کہانیوں کی طرف عود کر آنے کا خشخاش برابر بھی کوئی امکان باقی نہ رہا۔
ابن صفی اور ان جیسوں کو سرے سے نظر انداز کر دینا بھی مجھے کبھی گوارا نہ ہوا۔ آج بھی جب خود کو بوجھل محسوس کرتا ہوں تو برائے تفریح ہی سہی مگر ابن صفی کا ایک چیپٹر پڑھ کر ہی سکون کی نیند لیتا ہوں۔ ادب کے مقامات آہ و فغاں میں اگر غالب، میر اور اقبال جیسے قد آور شاعر ہیں تو تفریح کے شبنم افشانی کرنے والے خدا رب ذو الجلال کے اس وسیع آسمان کے نیچے کیفی، ساحر اور گلزار بھی ہیں۔ مگر انہیں پسند کرنے کی وجہ ان کی غزلیں اور نظمیں نہیں ’بلکہ ان کے مغنیوں کے سر اور موسیقی کے بیچ ابھرتی سریلی آوازیں ہیں۔ رفیع، کشور مکیش اور لتا منگیشکر جیسی آواز فلم انڈسٹری میں اب کہاں سنائی دیتی ہے۔ اچھا پسند کرنے کے اسی شوق نے‘ تیری مٹی ’راشٹروادی گیت کے خالق‘ منوج منتشر ’کو بھی میری نگاہ میں محبوب بنا دیا۔ لیکن اس زود پشیماں کا پشیماں کہ یہ سمجھنے میں بھی کوئی دیر نہ لگی کہ‘ منوج منتشر ’صاحب کوئی اور ہی ہیں۔
یہ تو رام ہی جانے کہ ’منوج شکھلا‘ عرف ’منوج منتشر‘ کے دل میں ’اکبر‘ ’جہانگیر‘ اور ’ہمایوں‘ کے لیے تعصب کی یہ کیسی آگ بیدار ہو گئی کہ اس نے ان کے حق میں ایسے ایسے الفاظ استعمال کر دیے کہ ایودھیا میں بھٹکتی رام جی کی آتما بھی شرمندہ ہو گئی کہ انہوں نے زندہ راون پر بھی ایسے بم کبھی نہ برسائے تھے۔ ’منتشر‘ بمعنی ’اجڑا ہوا‘ لیکن یہ اس وقت ہے جب اسے اسم مفعول جان کر ’منتشر‘ بفتح الشین پڑھا جائے۔ اسم فاعل جان کر ’منتشر‘ بکسر الشین پڑھا جائے تو بمعنی ’اجاڑنے والا‘ ہی آتا ہے۔ جمہوریہ ہند میں ’شکھلا‘ جی کا لونڈا اپنے شاعرانہ تخلص ’اجاڑنے والا‘ کا حقیقی مصداق بن کر ابھرا۔ پہلے پہل تو یہ غالب، ساحر اور گلزار کی باتیں کر کے ’شکھلا‘ سے ’منتشر‘ بنا۔ اور پھر یہ ہمارا دوست بھی بن گیا۔
”دوسروں کی طرح لکھنے کی کوشش کرنا اپنے اندر پیدا ہونے والے ایک جدت اسلوب کے خالق کی موت ہو سکتی ہے اور یوں جدت طرازی کے ایک نئے رائٹر کی موت کا ذمے دار خود وہ رائٹر ہوتا ہے۔“
میرے پیارے دوست کی یہ نصیحت بھی اب تک مجھے یاد ہے۔ سوچتا ہوں کہ میرے پیارے دوست نے اسلوب کی جس نئی راہ کی طرف ہماری توجہ مرکوز کرنے کی سعی پیہم کی تھی ’اس طرف ان کے قدم بڑھتے ہوئے کیوں ڈگمگا گئے۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ ان کی آنکھوں میں غالب اور ساحر وغیرہ کبھی مرچ کی طرح نہیں گڑے ہوں گے۔ لیکن مجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ ظل الہی اور ان کی نسل اور ان کے مذہب کے خلاف لوگوں کو مشتعل کر کے اپنے مذہب کے حق میں ہمدردی کا اظہار کرنے والا میرا پیارا دوست غالب کا طرف دار کب سے بن گیا؟
امن پسند ہندو ادیبوں کے درمیان میرے دوستانہ تعلقات بھی آج تک یہ ثابت نہ کرسکے کہ منوں مٹی کی تہ میں دبی ہوئیں رام جی کی بوسیدہ ہڈیاں‘ سلطنت دلی کے تخت نشین حکمرانوں سے سخت نالاں ہیں کہ وہ ان کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کیوں آئے تھے۔ مگر منوج شکھلا کی دوستانہ روش نے ہمیں یہ ضرور بتا دیا کہ مغلیہ سلطنت میں موجود بادشاہوں سمیت اکبر، جہانگیر اور ہمایوں چور اور لٹیرے تھے۔
تو پھر اس مشکوک سوال کا کیا جواب دیا جائے کہ کہیں شکھلا جی ہی چور اور ڈاکو بن کر نغمہ نگاری کرنے کے لیے تو نہ بیٹھ گئے؟
جی یہ ناقابل انکار حقیقت ہے۔ کیوں کہ حب الوطنی میں انتہا پسندی کی حد تک ذہن سازی کرنے اور ایک خاص مذہب کے خاص لوگوں کے خلاف بیان دینے والے میرے پیارے دوست کی ڈائری کا ایک ورق کافی چونکا دینے والا ہے۔ مردہ بادشاہوں کو چور اور ڈاکو کہنے والا میرا دوست بھول گیا کہ اصل چور اور ڈاکو تو اسی کے اندر ایک زندہ اجگر کی طرح ڈکاریں لے رہا ہے۔ واقعہ کچھ یوں وقوع پذیر ہوا کہ رابرٹ جے لیوری نے مدتوں پہلے اپنی نظموں کی ایک کتاب ’love lost‘ تخلیق کی۔
’Call me‘ جیسی نظم بھی اسی مجموعے کی ایک نظم ہے۔ جے لیوری کی حیثیت ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک ایسے عاشق کی ہے جو ساتوں جنم بعد اور ساتوں سمندر پار بھی اپنے معشوق کے ساتھ جینے اور مرنے کا عہد رکھتا ہے۔ جے لیوری کوئی غالب یا شیکسپیئر تو تھا نہیں کہ اس کے لکھے ہر حروف زندگی کا حوالہ بن جاتے۔ ممبئی فلم انڈسٹری میں نغمہ نگاری کرنے والے میرے دوست کو بھی احساس ہو چلا تھا کہ جے لیوری نہ تو کسی نصاب کا حصہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی شہرت۔ پھر کیا تھا کہ پیارے دوست نے جے لیوری کی ایک مکمل نظم ’Call me‘ اپنی کتاب ’میری فطرت ہے مستانہ‘ میں ’مجھے کال کرنا‘ کا عنوان لگا کر پکی روشنائی میں وانی پر کا شن سے چھپوا ڈالی۔ اور یوں مغل بادشاہوں کو چور اور ڈکیت کہنے والا میرا دوست حقیقت میں خود ہی سب سے بڑا ڈاکو بن کر برآمد ہوا۔
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی


