پانیوں کا ویران شہر

اس چھوٹے سے سیارہ زمین کے علاوہ آپ کو پوری کائنات میں کہیں بھی انسان نہیں ملیں گے۔ ہم ایک نایاب اور خطرے سے دوچار نوع (endangered species) ہیں۔ کائناتی اعتبار سے ہم میں سے ہر کوئی بیش قیمت ہے۔ اگر آپ کسی سے اختلاف رکھتے ہیں، تو اسے کم از کم زندہ رہنے کا حق ضرور دیں۔ کیونکہ اربوں کھربوں کہکشاؤں میں بھی آپ کو اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔ ۔ کارل سیگان میں بغاوت چاہتا ہوں

Read more

1945 کی ایک حیران کن تصویر سے

اس کے چہرے پر کھردرا پن سمیت وحشت کا خوفناک سایہ تھا، اس کی مونچھ ٹھیک اس کے ناک کی طرح موٹی اور بہت چھوٹی تھیں کہ ناک کے سوراخ والے حصے سے بھی دائیں اور بائیں کی طرف نہیں پھیلتی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور اس میں چمک اور بے باکی اس قدر کہ دنیا کی تباہی دیکھنے کے لیے انتہا کی حد تک ہمیشہ پر شوق رہتی تھیں۔ اس کے گلے میں ایک خوبصورت ٹائی کا قلادہ تھا

Read more

مسخ شدہ جنگل کی ایک نئی تصویر

وہ جنگل کی ایک اداس کن سیاحت تھی جس میں میری صورت مجھ سے جدا ہو گئی تھی۔ مجھے یاد نہیں، مگر یہ سچ ہے کہ میں اپنا چہرہ بھول چکا تھا۔ اس کے خد و خال اور رنگ تک مجھے یاد نہیں رہے تھے۔ کیوں کہ میری آنکھوں میں راحت کا چہرہ آ گیا تھا۔ ابھی جس دم میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، وہ میرے نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ مجھ سے خفا ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ

Read more

ارتعاش کی آگ

اس کا چہرہ سپاٹ تھا وہ ایک اونچی عمارت کی چوٹی پہ چڑھی اور اس نے اپنی تقریر کا آغاز یوں کیا۔ انسانی کائنات کی جبلت بہت عجیب ہے۔ یہاں ہر عشق اور اس کی انتہا ایک داغ دار بھید ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی اس بھید کو، اس میں کئی آہنی دروازے ہیں۔ اے اجنبیو، ذرا اور غور سے دیکھو، اسرار و رموز سے پر ان مقناطیسی دروازوں کو کہ کیسے وہ تمہیں اپنی جانب کھینچتے ہیں مگر کبھی

Read more

نادیدہ خواب کا عفریت

جلا دو کتابیں جو کہتی ہیں دنیا میں حق جیتتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ اور سچ میں ہمیشہ ہوئی جنگ اور جھوٹ جیتا ہے کہ نفرت امر ہے کہ سچ ہارتا ہے کہ شیطان نیکی کے احمق خدا سے بڑا ہے ۔ فہمیدہ ریاض خنک ہواؤں کا ایک ریلا اس کی شکن زدہ سلوٹوں کو چھو کر گزر رہا تھا۔ وہ ایک بوسیدہ لحاف کے اندر تھی اور اس کے جسم کے ہر حصے میں تیزاب کی

Read more

خدا اور بھگوان کی جنگ

ہند و پاک کا مستقبل روشن ہو کہ یہاں کی ہر معیشت تباہی کے دہانے پہ آ سکتی ہے۔ مارڈرن ازم اور ترقی کے ہر میزان میں بڑی آسانی سے چھید کیا جاسکتا ہے، ہر عروج کو زوال آ سکتا ہے، لیکن خدا اور بھگوان کے کاروبار میں کو زوال آئے، یہ تصور ہی خوف زدہ کردینے والا ہے۔ دونوں کا بزنس اتنا ترقی یافتہ ہے کہ اسے کبھی ٹھپ ہونے کا خوف ہی نہیں۔ ہر مذہب کا ایک الگ

Read more

انڈیا میں 2021 کے ادب کا جائزہ

2021 کا ادبی جائزہ لینے بیٹھا تو  ایک قیدی کا مکالمہ یاد آ گیا۔ ایک بے رحم بادشاہ نے اپنے تین قیدیوں کو سزائے موت سنائی۔ ”میں بادشاہ سلامت کے گھوڑے کو اڑنا سکھا سکتا ہوں۔“ قیدیوں میں سے ایک نے کہا۔ جان بخش دی گئی۔ دوبارہ حکم ہوا۔ ”اگر ایک برس کے اندر میرے گھوڑے نے اڑنا نہ سیکھا تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔“ ”مجھے منظور ہے۔“ اس نے پھر کہا۔ ”کیا تم سچ میں پاگل ہو

Read more

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

وہ ادب کے اوائل میں بچپن کا ایک سنہرا دور تھا ’جب میرے لیے سر عام لفظ‘ ناول ’کا تلفظ بھی غیر ممکن تھا۔ ناول کا نام لیتے ہی کچھ چہروں کا ہیولیٰ اس قدر تبدیل ہوجاتا تھا کہ کہیں کسی نے کوئی فحش فلم کا نام تو نہ لے لیا۔ ادب اور اس کے وسیع کائنات سے نا آشنا تھا مگر ناول اور کہانیاں اتنی محبوب تھیں کہ دسترخوان پر رکھا کھانا بھی ٹھنڈ سے برف بن جایا کرتا

Read more

فید قلعہ : ترکی کے ثقافتی آئینے میں اداسی کا عکس

سفید قلعہ (The white castle) ناول کا اردو ترجمہ ہے۔ یوں تو مشرق سے طلوع ہونے والے نوبل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک کا یہ

شاہکار 1991 میں آیا۔ مگر ترجمہ در ترجمہ سفر طے کر کے اسے ہم تک پہنچنے میں بڑی دیر ہو گئی۔ ہندوستان میں اس کی اشاعت مئی 2021 میں اثبات پبلیکیشنز کے ذریعے ہی منظر عام پر آ سکی۔ اسی لیے یہ مجھ سمیت ان احباب کے لیے بھی نیا ہی ہے جن کی پرنور آنکھوں کو اس کے پی ڈی ایف نے بھی ٹھنڈک نہ پہنچائی ہو۔

Read more

ابھی سیارگاں روشن رہیں گے

’ابھی سیارگاں روشن رہیں گے‘ انور شمیم کی تازہ آزاد نظموں کا مجموعہ ہے، جو ہندوستان میں کسوٹی پبلیکیشن سے شائع ہوا ہے۔ گو کہ پاکستان میں یہ مجموعہ ابھی تک ناپید ہی ہے مگر بہت جلد وہاں بھی دست یاب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ واضح کردوں کہ تخلیقی کائنات میں آزاد نظموں کا رواج کافی دنوں سے چلا آ رہا ہے۔ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی زبان میں یہ آپ کو پڑھنے کو مل جائیں گی۔ مگر انور شمیم کی تمام نظمیں روایتی بندشوں سے آزاد ایک علیحدہ دنیا کے علیحدہ انسان کے لیے تخلیق عمل میں آئی ہیں۔

Read more

برف کی تہذیب

مجھے احساس تھا کہ گلیشیئر ٹوٹ رہے ہیں۔ میں حبس کی ایک نادیدہ خلاء میں داخل ہو رہا ہوں۔ اور جس وقت ساحل پر خس و خاشاک میں لپٹیں تند ہوائیں سیاہ آندھی میں تبدیل ہوئیں، سمندر میں لمحہ موجود کی بپھری ہوئی موجوں سے ایک غیر آہنی قلعہ تعمیر ہو چکا تھا اور اس کی کچھ سفید دیواریں بھر بھرا کر تیزی سے گرتی جا رہی تھیں۔ آبی سطح پر دور دور تک پھیلی ہوئی پانیوں کی ایک چمکتی

Read more

پیاسا بندر اور بوسیدہ حویلی

اور جو منکر ہو گئے، ان کے اعمال چٹیل میدان میں ریت کی طرح ہے، جسے پیاسا (دور سے ) پانی گمان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔ (سوائے اسی ریت کے ) ۔ قرآن مجید سے زندگی کے صحیح فلسفے کا سراغ مجھے کہیں سے نہ مل سکا تھا۔ بہت کٹھن وقت تھا کہ میں نے زندگی کی تلاش شروع کی کہ ایک صنف نازک کا پیٹ

Read more

سات برس کی ایک خوفناک مسکراہٹ

لازم ہے کہ کبھی کبھار ادب اور فلسفوں سے منہ پھیر کر اس جمہوری نظام کے آنکھوں میں بھی آنکھ ڈال لی جائے، جہاں سے زعفرانی مینڈکوں کے میر کارواں نے انسان دوستی کے صاف پانیوں میں نفرت کا زہر گھولنا شروع کیا تھا۔ اور یہ وہی وقت تھا کہ آخری مئی کے دو روز پہلے کی سخت دھوپ میں زمین تیزاب سے نہا گئی تھی اور زمین کی کالی کھیتی پر جب ملگجی شام کے ابر آلود بادلوں نے پھول برسائے تو برقی بجلیوں کے فانوس ایک دم سے چمک اٹھے اور اسی وقت میں نے اسے دیکھا کہ وہ اسٹیج پر کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرچہ ہے۔ وہ ایک آواز نکالتا اور پھر جھولنے لگ جاتا۔

Read more

بانسری والے مولانا

محبت سے آگے بھی ایک اور دنیا آباد ہوئی ہے۔ بہت وسیع اور کشادہ پذیر دنیا، جسے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ جس نے بھی اسے دیکھ لیا، وہاں سے آج تک لوٹ نہیں پایا۔ جب حضرت موسی نے عشق سے اصرار کیا کہ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں تو عشق کا جواب آیا‌۔ ’موسی میں ایک مقدس روشن تجلی ہوں۔ تمہاری خاکی وجود میں میری تاب لانے کی قوت نہیں۔ لوٹ جاؤ۔ مان لو۔

Read more

سیاسی آنکھیں، نیلوفر اور بھاپ بن کر اڑ جانے والے

باغوں اور بہاروں والا دریاؤں کہساروں والا آسمان ہے جس کا پرچم پرچم چاند ستاروں والا جنت کے نظاروں والا جموں اور کشمیر ہمارا برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں خوبصورت جھاڑیاں اور کچھ سیب کے درخت سوکھتے جا رہے تھے۔ جھاڑیوں اور درختوں کے اردگرد سفید اور نیلے رنگ کے پرندے دانہ چن رہے تھے۔ بادلوں کا ایک کارواں وہاں سے گزر رہا تھا۔ ننھے منے پرندوں نے بادل کی طرف پر امید نظروں سے دیکھا۔ ”تم نے سیاسی

Read more

فلسطین کے گم ہوتے نقشے

دنیا بھر میں ظلم پر قابو پانے اور انسانیت کو عام کرنے کے لیے 1945 میں یو این او کی بنیاد پڑی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فلسطین کا معاملہ بھی یو این او کی کمیٹی نے اپنے ذمے لے لیا۔ فلسطین کی سو فیصد آبادیوں میں % 44 فیصد علاقے میں یہودی آباد کاروں کو بسایا گیا اور % 48 فیصد علاقے ان کو دیے گئے جو فلسطین میں ہمیشہ سے رہتے آئے ہیں۔ اور % 8 فیصد خطہ

Read more

خدا یا میرے القدس کی آبرو رکھنا

ہلاک ہوئے لوگوں کے درمیان ایک عورت دوڑتی ہوئی آئی میں نے دیکھا کہ اچانک اس عورت کا نقاب اس کے چہرے سے ہٹ گیا اور اس کے گندھے ہوئے بال کھل کر یخ بستہ ہواؤں میں لہرانے کے بجائے ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگے۔ بال جب ٹوٹے تو اس کے بھورے رنگ بالوں میں سرخی آ چکی تھی اور بالوں کے کچھ حصے جو ابھی بھی اپنے گچھے سے لگے ہوئے تھے، ان سے مترشح ہو کر خون کے کچھ قطرے زمین پر گرنے لگے تھے۔ اس نے خود کو زخمی حالت میں دیکھا اور اس پر دھیرے دھیرے غشی طاری ہونے لگی اور یہ کہہ کر وہ بے ہوش ہو گئی۔

’خدا یا میرے القدس کی آبرو رکھنا۔‘

Read more

دشت حیرت

جب تک زندہ ہو خوشی خوشی زندگی گزارو۔ موت کی متلاشی آنکھ سے کسی کو مفر نہیں۔ جب ایک مرتبہ تمہارا یہ بدن جلا دیا جائے تو یہ دوبارہ واپس کیسے آ سکتا ہے؟ برہسپتی میں دشت حیرت میں ہوں اور سقراط کے اس نامعلوم خدا کو تلاش کر رہا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری تلاش کا پیمانہ بہت زیادہ وسیع نہیں ہے۔ ہاں کچھ اپنی کوشش اور مسلسل جہد آوری اور آس کی لگن ہے کہ جس

Read more

وبا کے دوزخ میں سستی لاشیں

مجھے سب سے زیادہ بھیانک تصویر تلک دھاری سنگھ کی بیوی راج کماری کی لگی جو کورونا پازیٹو ہوئی۔ کچھ روز اسپتال میں زیر علاج کے دوران اس کی وہیں پر موت واقع ہو گئی۔ اوروں کی طرح ایمبولینس نے اس کی ڈیڈ باڈی کو گھر چھوڑ دیا۔ گھر میں صرف تن تنہا عمر رسیدہ شوہر، جس کی کمر نیچے کی طرف جھک چکی ہے۔ ذرا سوچیے کہ اس بوڑھے شوہر کو حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہو گی کہ کوئی گھر آئے۔ کاش کوئی رسمی طور پر کچھ دلاسا ہی دے کر چلا جاتا۔

لیکن جب راج کماری کی ڈیڈ باڈی آئی تو بستی سے انسان غائب ہو گئے۔ تلک دھاری سنگھ نے خوب کوشش کی کہ کوئی گاڑی یا کوئی ایسا انسان نظر آ جائے جو اس کی بوڑھی بیوی کو شمشان گھاٹ تک لے جانے میں کام آ سکے۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔ جب اسے ڈر ہونے لگا کہ کہیں لاش کی حالت بگڑنے نہ لگ جائے تو اس نے خود ہی اپنی سائیکل اٹھائی اور جس طرح کسی بڑی بوری یا بھاری بھرکم سامان کو سائیکل کے دونوں پہیوں کے بیچ، آہنی خول لگے چین کے اوپر رکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح اس نے اپنی بیوی کے مردار جسم کا درمیانی حصہ اس پر اس طرح رکھا کہ اس کے سر اور پاؤں دونوں زمین پر گھسنے لگے۔

وائرس کے دوزخ سے دور یہ تصویر اسی راج کماری کی ہے جس کی لاش کو سائیکل پر لے جانے کی توہین تو اس کے شوہر نے پہلے ہی کر دی تھی مگر زندہ انسانوں نے اس مردہ عورت کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کیا کہ جب شوہر اپنی بیوی کی لاش کو شمشان گھاٹ تک لے آیا تو لوگوں نے آخری رسومات ادا کرنے سے روک دیا۔

Read more

مشرف عالم ذوقی: لمحے جو مردار ٹھہرے

ریختہ کے انٹرویو کا سوال آج بھی میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ ’آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟‘ یہ سوال ذوقی سے تھا۔

’ہاں۔ مجھ سے یہ سوال بار بار کیا جاتا ہے۔ اور یہ الزام بھی مجھ پر لگایا جاتا ہے کہ آپ تو بسیار نویس ہیں۔ مگر آج میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ کیا کسی نے ٹیگور سے پوچھا اس نے اتنا کیسے لکھ لیا؟ کیا کسی نے دوستوئیفسکی سے پوچھا کہ اس نے اتنا کیسے لکھا؟ کیا کسی نے بالزاک سے یہ سوال پوچھا؟ نہیں پوچھا۔ کیوں کہ ان لوگوں کا کام ادب کی دنیا میں سانسیں لینا تھا۔‘

Read more

دیوداس : محبت کا مرثیہ

ڈاکٹر شرت چندر چیٹرجی کی ادبی خدمات بہت طویل ہیں۔ وہ بنگال کے نامور ادیبوں میں ایک تھے اور بنگالی زبان میں ہی لکھتے تھے۔ ان کے قصے اور کہانیوں کو جو مقبولیت ان کے قارئین نے دی ہے ، شاید وہ بینکم چیٹرجی اور رابندر ناتھ ٹیگور کے حصے میں بھی نہیں آئی۔

ان کے فلسفے اور زیادہ تر کہانیوں میں بینکم اور ٹیگور کا عکس صاف صاف دیکھنے کو ملتا ہے گو کہ وہ ٹیگور کی طرح معنی خیز اور کافی گہرائی میں جا کر خدا اور بندے کا فلسفہ تراشنے والے نہیں لیکن وہ سب سے پہلے ایسے ہندوستانی ناول نگار ضرور ہیں جنہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے اپنا پیشہ ہی لکھنا بنا لیا۔

Read more

لباس کی آنچ

’میں تو شبدوں کی پہیلی ہوں۔ ایک ہاتھ ایک طلسمی گھر ایک تربوز جو لڑھک رہا ہو ایک سرخ پھل ہاتھی دانت، صندل کی لکڑی وہ ریزگاری جو ابھی ابھی تازہ، ٹکسال سے نکلی ہو ۔ سلویا باتھ تاریکی کے پردے کو چیرتی ہوئی صبح پرنور اجلی کائنات کی آغوش میں سرد آہیں بھر رہی تھی۔ آگ اگلتا سورج نگاہوں سے اوجھل ابلیس کے دونوں سینگوں کے درمیان ٹھہاکا لگا رہا تھا۔ نیلگوں آسمان کے نیچے سمندر کی سطح پر

Read more

اندھیرا، طلسمی چادر اور گرگٹ

آپ دنیا کی تمام عورتوں کو برقع پہنا دیں، پھر بھی حساب اپنی آنکھوں کا دینا ہوگا۔ ۔ سعادت حسن مٹو اندھیرے اور روشنی کے درمیان گرگٹ آ گیا تھا۔ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ گرگٹ رنگ بدلتا ہے۔ لیکن کیسے؟ اس وقت میرے چہار اطراف گرگٹ تھے اور میں انہیں رنگ تبدیل کرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ میں نے سنا تھا، گرگٹ اپنا رنگ جلد کے اندر مخصوص خلیوں میں رنگوں کے کرسٹلز کی ترتیب کو اوپر نیچے

Read more

برف کی چادروں میں سانپ

مجھے احساس تھا کہ برف گر رہی ہے۔ میرا وجود شل ہے۔ پاؤں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ دھند کی ایک چادر ہے اور مجھے دور تک کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ میرا واہمہ ہو سکتا ہے کہ وہ چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور اس نے پوچھا، تم خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہو؟ ہاں۔ سیاہ و سپید میں تمہیں زیادہ کون پسند ہے؟ پتہ نہیں اس نے پھر پوچھا کیا خدا ہے؟ کیا

Read more

مرگ انبوہ سے مردہ خانے میں عورت تک

’مردہ خانے میں عورت‘ مشرف عالم ذوقی کا تازہ ناول ہے جو پاکستان میں سنگ میل اور ہندوستان میں میٹر لنک پبلکیشنز سے، ایک ساتھ شائع ہوا ہے۔ مردہ خانے میں عورت کو مرگ انبوہ کا دوسرا حصہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناول کا ہیرو مسیح سپرا آزاد ہندوستان میں خود کو مردہ ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے حادثات و واقعات سے گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کو مردہ خانہ بنا لیتا ہے۔ گھر میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو زندہ رہنے کی علامت ہو۔ مسیح سپرا کو یقین ہے کہ مردوں کو بھوک ضرور لگتی ہو گی۔ وہ محض اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے، سفید کفن پہنتا ہے اور مردوں کی طرح زندگی گزارنے لگتا ہے۔ مگر مردوں کو بھی چین نصیب نہیں۔ پھر ایک دن اس مردہ خانے میں ایک عورت آ جاتی ہے۔

Read more