علم کیا ہے؟


زمین پر موجود تمام مخلوقات کے اندر ہر سطح پر کسی نہ کسی طرح کا علم ہوتا ہے، جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے افعال کو سرانجام دیتی ہے۔ مثلاً اس نے کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے، کس چیز کے پاس جانا ہے، کس چیز سے اپنے آپ کو بچانا ہے، اپنی نسل کی بڑھوتری کیسے کرنی ہے، اپنی اولاد کی پرورش کیسے کرنی ہے اور اپنے کنبے کو مختلف آفات سے کیسے بچانا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم اس سے آگے علم کی کوئی ایسی بلند سطح نہیں ہے، جس کا حصول اس کے واسطے لازم ہو یا جس کو جاننے کی وہ مکلف ہو۔

تاہم انسان باقی مخلوقات سے اس لحاظ سے ممیز اور امتیازی شان رکھتا ہے، کہ اس کے اندر اس علم کے علاوہ ایک بلند تر سطح کے علم کے حصول کا مادہ یا داعیہ بھی موجود ہے، جو اس کو اس بنیادی حیثیت سے ممتاز کرنے کی جستجو اور لگن میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتا ہے۔ پس جس انسان نے اس آواز پہ لبیک کہا اور اپنے عوارض سے کچھ وقت نکال کر اس علم کے حصول کی طرف متوجہ ہو گیا، اس کا نقطہ نظر، زاویہ نگاہ اور سوچ کا محور یکسر مختلف ہو گیا اور یوں اس انسان سے ایسے کمالات بھی منصہ شہود پر نمودار ہوتے ہیں جو معاشرے میں موجود باقی انسانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔

آج ہم جس دور میں زندہ ہیں اس کو علم کا دور کہا جاتا ہے، جس کی بایں وجہ علم کے حصول کے ذرائع کا آسانی سے میسر ہونا اور ایسے بے شمار راستوں کا موجود ہونا ہے، جن کا تصور آج سے کچھ عرصہ قبل محال تھا۔ تاہم آج ہی کے دور میں یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا جس چیز کو ہم علم کہتے اور سمجھتے ہیں وہ واقعی علم ہے یا محض معلومات کا ایک خزانہ؟

لہذا ہمارے سامنے دو چیزیں اس وقت بہت اہم ہیں۔ اول کہ صحیح علم کیا ہے اور دوئم اس صحیح علم کے فوائد کیا ہیں؟

دراصل علم کی نوعیت ایک روشنی کی سی ہے، جو راستے کے راہی کو اندھیری راہ میں بھٹکنے سے محفوظ رکھتی ہے، اور اسے بحفاظت منزل مقصود تک پہنچاتی ہے۔ لہذا ایک راستہ گو کتنا ہی محفوظ، ہموار اور کشادہ کیوں نہ ہو، اگر اس راستے پہ اندھیرا ہے تو اغلب گمان ہے کہ راہی اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا ، بلکہ اس کا بھی امکان ہے کہ وہ جس سمت چل رہا ہو، وہ اسے منزل مقصود کے قریب لے جانے کی بجائے اس سے اور دور لے جائے۔

اگر ہم علم کی بات کریں تو اس سے مراد کسی چیز کی اصلی ماہیت کا کھوج لگانا، یا اس کی کوشش کرنا ہے۔ جس کے لئے ہم اپنے حواس خمسہ اور عقل کی مدد سے پہلے سے موجود علم سے نامعلوم کو معلوم کرنے کا سفر شروع کرتے ہیں۔ اس راہ پر ہم ان افراد سے بھی مدد لیتے ہیں، جو اس نامعلوم سے معلوم کے سفر میں ہماری مدد کرسکیں اور ہمیں منزل راہ کا پتہ اور نشان سمجھا سکیں۔ جیسا کہ حکماء فلاسفہ کا وتیرہ رہا ہے، جو انسان کے اندر مختلف سوالات کو اٹھا کر ان کے اندر اس تشنگی کو بیدار کرتے تھے، تاکہ وہ اس چیز پر سوچیں اور اپنے مقصد زندگی کو جانیں۔ کیونکہ مقصد زندگی کو پہچان لینا ہی علم کی اصل غرض و غایت ہے جو منزل مقصود کو متعین کر کے انسان کو اس راہ کا مسافر بناتی ہے، جس پہ اس نے جانا ہے۔ اور اسی تاریک راستے کا روشن چراغ علم ہے، جو اگر بجھ چکا ہے یا جس کی لو دھیمی ہے تو مسافر کے بھٹکنے اور منزل کے کھو جانے کا گمان یقینی ہے۔

ہم جس اصلی علم کی بات کر رہے ہیں، یہ چراغ اگر انسان کے اندر روشن ہو جائے، تو وہ راہ میں آنے والے مصائب اور دکھوں کے زور دار طوفانوں سے نہ تو گھبراتا ہے اور نہ ہی اسے اس راہ سے بد گمان کرنے والے وساوس ڈگمگا سکتے ہیں۔ بلکہ ہر نیا طوفان، ہر نیا وسوسہ اس کے اندر موجود عزم مصمم کے اندر تیقن کا مزید رس گھولتا ہے اور راہی شاداں و فرحاں منزل مقصود کی جانب لمحہ بہ لمحہ سفر کیے جاتا ہے۔

تاہم ایک انسان کو ساری زندگی اس کا علم اگر مقصد حیات کے تعین کرنے میں ناکام رہے، تو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ جس چیز کو علم سمجھتا اور مانتا ہے وہ علم نہیں بلکہ محض ایک دھوکہ اور سراب ہے، جو اس کو چپکے چپکے اپنی منزل مقصود سے دور کرتا اسے ناکامی کے اس گڑھے کی جانب دھکیل رہا ہے، جس کی گہرائی کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے اور جہاں سے واپس باہر نکلنے کی امید ناممکن۔

اگر ایک انسان واقعی صاحب علم ہے تو وہ صاحب بصیرت بھی ہوتا ہے۔ گویا اس کے پاس وہ آنکھ ہوتی ہے، جس سے وہ امروز میں رہ کر بھی فردا کو دیکھ لیتا ہے، جس کو دیکھنے کی صلاحیت سے عام افراد محروم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اسی بصیرت کی نگاہ سے اپنے معاشرے کے باقی افراد کو بھی آنے والے طوفانوں سے آگاہ کرتا ہے اور اس کے مناسب حل کی جانب بھی رہنمائی کرتا ہے، مگر عام افراد معاشرہ اپنی پست کم علمی اور بصیرت سے محرومی کے سبب ان پند و نصائح کو پست پشت ڈال دیتے ہیں۔

جس کے نتیجے میں جب اس طوفان کی خبر ان تک پہنچتی ہے، اس وقت تک بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہوتا ہے۔ اور تاریخ میں اس کی متعدد امثلہ موجود ہیں۔ تاہم ان طوفانوں کے بعد معاشرے کا کچھ حصہ اپنا قبلہ درست کر کے، اپنی اصل راہ کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے، مگر ازلی بد بخت پھر بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور اپنی پرانی ڈگر پہ قائم رہ کر پھر ایک نئے طوفان سے نقصان اٹھاتے ہیں۔

لہذا ہمارے واسطے آج کے دور میں یہ بات بہت لازم ہے کہ ہم اس چیز کے اندر موجود فرق کو جانیں کہ اصل علم واقعی کیا ہے؟ اور اس کے ذرائع کہاں کہاں پر ہیں؟ کیونکہ من حیث القوم ہمارا اجتماعی وتیرہ جو اب ہماری فطرت ثانیہ بنتا جا رہا ہے، کہ ہم جذبات سے اس قدر مغلوب ہیں کہ ہم نے اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر اب تک نہ صرف اپنا بے شمار نقصان کر چکے ہیں، بلکہ دھوکہ پہ دھوکہ کھانے کے باوجود بھی اپنی اسی روش پہ قائم و دائم ہیں، جہاں دلیل کے مقابلے میں دشنام طرازی، علم کے مقابلے میں گولی اور حسن اخلاق کے مقابلے میں غرور و تکبر پیش کرتے ہیں۔

تاہم یہ سارے منفی اوصاف یکسر ختم ہوسکتے ہیں، اگر ہم اس چیز کو جان لیں کہ محض جاننے کا نام علم نہیں، بلکہ اپنے اندر کر ادر کی اور سوچ کی تبدیلی کا نام علم ہے۔ اور جب یہ علم ہمارے معاشرے میں رائج ہو گا اور تو پھر ہمارا وقار اور مرتبہ بھی اقوام عالم میں بلند ہو گا۔ لیکن اگر ہم اس علم کے حصول سے تہی دست رہے، تو ہم ہر بار ایک نئی جذباتی تحریک کا حصہ بن کر اپنے ہی ہاتھوں اپنا، اپنے معاشرے کا اور اپنا نقصان کرواتے رہیں گے اور ترقی و کامرانی کے اس خواب کی تعبیر کبھی نہیں پا سکیں گے جو ہماری خواہش ہے۔ اور ایک مرتبہ ہم صاحب علم قوم کی صفت سے متصف ہو گئے، تو پھر کوئی بھی طوفان، چاہے وہ مذہبی رنگ میں ہو، سیاسی رنگ میں یا میڈیا کے رنگ میں ہو، وہ ہمارے قدم ڈگمگا نہیں سکے گا اور ہم ان تمام وساوس کے باوجود اپنی منزل کی جانب بڑھتے چلے جائیں گے۔

Facebook Comments HS