رمّو کا گدھا

رمّو میرا مالک! جی ہاں، وہی رمّو جو ملیر ندی کے پاس کچے پکے مکان میں رہتا ہے۔ میں اس کا گدھا ہوں، اس کا ساتھی، اس کی مجبوری، اور شاید اس کا ہمزاد بھی۔ لیکن ہم دونوں کی زندگیوں میں بس انیس بیس کا ہی فرق ہے کہ وہ دو پیروں پر چلتا ہے، میں چار پر۔ مگر دونوں ہی پستے ہیں، دونوں ہی تھکتے ہیں، اور دونوں ہی ایک دوسرے کے رحم و کرم پر ہیں۔ میرا رمّو

Read more

دیس پردیس

وہ اور میں پہلی جماعت سے ایک ہی اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ میں انگلینڈ سے اپنی مونٹیسوری مکمل کر کے اس شہر آئی جبکہ وہ شروع سے یہاں کا باسی تھا۔ ہم دونوں میں سنجیدگی، حقیقت پسندی اور جستجو کا عنصر مشترک تھا۔ اسی بنا پر نصابی کتب کے علاوہ دوسری کتابیں بھی ہمارے زیر مطالعہ رہتی تھی سو ہماری آپس میں خوب نبھتی تھی۔ وہ اپنی دو بہنوں کا اکلوتا بڑا بھائی اور میں دو بڑی بہنوں کی

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ سوہانہ شرما عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ و زاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ وزاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا نہیں بلکہ اپنی

Read more

الہی بخش جھلا ہو گیا!

الہی بخش کے رخساروں کا گوشت سکڑ چکا ہے اور جبڑے کی مضبوط ہڈیاں اوپر کو اٹھ آئی ہیں۔ روتے ہوئے اس کے سیاہی مائل موٹے ہونٹوں کے درمیان اچھڑے پچھڑے میلے دانت باہر امڈے چلے آتے۔ غصے کی حالت میں اس کا جبڑا مضبوطی سے بھچ جاتا اور گالوں کی ہڈیاں مزید ابھر کر چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں معلوم ہوتیں۔ چہرے پر مینڈک جیسے گول گول باہر کو اُبلتے ڈیلوں پر منقش خون کی باریک رگیں پھیل کر آنکھوں کو

Read more

میں نے کچھ غلط نہیں کیا: سیریز ایڈولینس پر ایک مختلف نقطہ نظر

”میں نے کچھ غلط نہیں کیا“ یہ وہ جملہ ہے جو حال ہی میں ریلیز ہونے والی برطانوی منی سیریز Adolescence (ایڈولینس) میں ایک تیرہ سالہ بچہ بارہا دہراتا ہے، جو اپنی ہی کلاس فیلو کو سفاکی سے قتل کر دیتا ہے۔ یہی جملہ میرے لیے اس تحریر کا نقطۂ آغاز بنا، کیونکہ یہ جملہ صرف ایک بچے کے دفاع کا بیان نہیں بلکہ ایک پورے ذہنی، سماجی اور خاندانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

نسلوں کے گھن چکر

سوشل میڈیا کی بدولت جہاں ہمیں پوری دنیا کے بدلتے رجحانات، نئی تحقیقات، ان گنت مسائل، تعلیم اور روزگار کے مواقعوں سے آگاہی ملی ہے وہیں ہم پاپولر کلچر، برانڈنگ، لیبلنگ اور ورچول زندگی سے بھی روشناس ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے توسط سے آج ہمیں ان باتوں کا علم بھی ہو جاتا ہے جو ہمیں آج سے ڈیڑھ دو دہائی قبل پتا ہی نہ تھیں۔ مثلاً ہم میں سے کتنوں کو یہ معلوم تھا کہ ہم کس جنریشن سے

Read more

دادیوں والا گاؤں

گھنٹی دوسری بار بجی تو ملازم دوڑ کر دروازے کی طرف لپکا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی نوجوان ایک نوعمر بچے کی انگلی تھامے کھڑا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹا چرمی بیگ اٹھایا ہوا تھا۔ ہاں جی! کیا کام ہے جی؟ کس سے ملنا ہے؟ یہ محمد رشید کا گھر ہے؟ اجنبی شخص نے سوال کیا۔ یہاں تو مجید دادا اور ان کے بیٹے بھائی یاسین رہتے ہیں۔ کم عمر ملازم نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔

Read more

کیا لوگ تھے جو راہِ جہاں سے گزر گئے

(سندھ اور بالخصوص کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں یہودیوں کی آمد انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی راج میں شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بیشتر یہودی ایرانی نسل کے تھے۔ یہ تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقہ تھا۔ کراچی کے علاقے منوڑا، گارڈن، لی مارکیٹ، لیاری، رنچھوڑ لائن، پان منڈی، سولجر بازار، جوڑیا مارکیٹ اور رام سوامی میں یہودیوں کے کئی محلے آباد تھے۔ پرانے کراچی کی سینکڑوں قدیم عمارتوں کے ماتھے پر آج بھی نشان داؤدی موجود

Read more

پر یوں نہ مریں گے ہم

ٹڑی پوندا ٹاریئین جڈھن گاڑھا گل الومیان تڈھن ملنداسین۔ فضا میں شیخ ایاز کی شاعری الّن فقیر کی سریلی آواز میں دلوں کو چھو رہی تھی۔ دسمبر کی سردی میں کوئٹہ سے آنے والی ہواؤں نے حیدرآباد کی راتوں کو خنک کر دیا ہے لیکن ایاز میلو کے چاروں پنڈال رات ایک بجے تک ہزاروں لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں واقع سندھ میوزیم کے اطراف رات میں بھی دن کا سماں ہے۔ شام گہری اور سرد

Read more

باغی عورتیں

20 دسمبر 2020 کی خنک دوپہر کریمہ بلوچ نے اپنا گرم کوٹ پہنا اور حسب معمول اپنے شوہر کی طرف مسکرا کر بولی ”تھوڑی چہل قدمی کر کے آتی ہوں“ ۔ خوبصورت چہرے اور چمکتی ہوئی آنکھوں والی کریمہ اکثر جھیل کے کنارے گھنٹوں ایسے ہی وقت گزارتی تھی۔ شاید یہاں اسے تربت کی ساحلی پٹی سے کوئی نسبت محسوس ہوتی ہوگی۔ یہ کریمہ کی زندگی کی آخری دوپہر تھی۔ اچانک صفحہ ہستی سے غائب ہو جانے کے دو دن

Read more

فکر و فلسفہ

کہتے ہیں اچھی کتاب ہو یا فلم بار بار پڑھنی اور دیکھنی چاہیے۔ مثلاً قرۃ العین حیدر کا معرکتہ آرا ناول ”آگ کا دریا“ جتنی بھی بار پڑھیں تو ہر بار ایک نئے جہت سے تعارف ہوتا ہے۔ رینے ڈی کارٹ کے مشہور قول I think, therefore I am کو جناب جمشید اقبال نے اپنی کتاب ”فکری روایات کا تنقیدی مطالعہ اور مقامی فکر و شناخت کا مقدمہ“ لکھ کر عملی جامہ پہنایا ہے۔ فلسفہ پڑھنا، سمجھنا اور پھر فلسفیانہ

Read more

تالہ بندی اور نسوانی ختنہ: تین سوالات

کون انکاری ہے کہ ہمارے سماج میں اکثریت عورتوں کی زندگی ایک جانور سے بھی بدتر ہے؟ کس نے کہا کہ عورت کے ساتھ بدترین، گھناؤنے جرائم نہیں ہوتے؟ اس ملک میں انہونی ہونا بعد ازقیاس ہرگز نہیں۔ جہاں ایک محبوبہ کا سر تن سے جدا کر کے اسے فٹبال بنا کر کھیلنا ہو یا ایک دس ماہ کے بچے کی ماں کو ریپ کر کے روتے بچے کو قتل کر دینا ہو۔ یا بیوی کو مار مار کے بھرکس

Read more

ایک شاگرد جسے اپنی استاد کے لباس پر اعتراض تھا

چند روز قبل میری دوست زینب ڈار غصے اور افسوس کے ملے جلے جذبات لئے اپنی یونیورسٹی سے سیدھے میرے گھر پہنچی۔ زینب سے میری شناسائی کوئی پندرہ سال پرانی ہے اور ان کا شمار بلاشبہ ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو بنا کسی خوف و جھجک کے اس سماج میں اپنی مرضی سے زندگی جی رہیں ہیں۔ زور دار قہقہے اور دبنگ چال ان کی پہچان جبکہ ساڑھی ان کا من پسند پہناوا ہے جو ان پر جچتی

Read more

کراچی – وہ تین دن

سندھ کی بیٹی ہونا قابل فخر بات کیوں نا ہو، کہ یہ وہ مٹی ہے جو امن، محبت، بھائی چارگی اور دوسروں کو خود میں کھلے دل سے ضم کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ایک لمبے عرصے تک مہاجرین اس سرزمین پر آ کر آباد ہوتے رہے اور سندھ کے مقامی باسیوں نے انھیں دل سے خوش آمدید کہا۔ کراچی میں بے شمار دو بولنے والے زیادہ بستے ہوں یا پشتونوں کی پشاور سے

Read more

ایک وہ ہیں کہ جنھیں تصویر بنا آتی ہے

کہتے ہیں کہ یورپ کا رومانس سر چڑھ کر بولتا ہے۔ چاہے وہ فن تعمیرات ہو یا مصوری، چرچ ہوں یا بازار، اوپرا ہاؤس ہو یا شراب خانے ہر شے اپنے اندر پوری تاریخ سموئے ہوئے نظر آتی ہے۔ مغرب آج اس مقام پر کئی انقلابات سے گزر کر پہنچا ہے۔ صرف مصوری کی ہی بات کی جائے تو کتنی تحریکیں اس خطے میں ظہور پذیر ہوئیں جن کے دور رس اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ ہر آرٹ کی

Read more

سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمہ داریاں

ماحولیاتی تبدیلی ( گلوبل وارمنگ) کے اثرات پچھلے ایک دہائی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ سمندری طوفان، قحط سالی، ہیٹ ویو، شدید بارشیں اور سیلاب ہر خطے میں اپنی تباہ کاریاں پھیلا رہے ہیں۔ پچھلے کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ ممالک کے سائنسدان مسلسل ایسے سانحات کے رونما ہونے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ اسی لئے ان ممالک نے تیسری دنیا کے مقابلے میں اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی کو

Read more

کیا واقعی عورت بااختیار ہے؟

کہنے کو آج عورت ماضی کی بہ نسبت زیادہ آزاد اور با اختیار و مختار ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اتنا بدلاؤ آنے کے باوجود ابھی بھی ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ ظلم کا بازار گرم ہے جو ہم تک اخبار کے اندرون صفحات میں دو کالمی خبر کی صورت ناشتے کی میز پر پہنچتا ہے اور رات کے کھانے تک سب کے ذہنوں سے محو ہوجاتا ہے۔ عورت کیا واقعی آزاد ہو گئی ہے؟ عورت چاہے شہر سے

Read more

آزاد بنگلہ دیش پر ایک نظر

انگلینڈ میں اپنے چند سالہ قیام کے دوران میرے بھانت بھانت کے دوست احباب بنے۔ جن میں سے چند ایک سے دوستی آج بھی اسی طرح تروتازہ ہے جیسی دو دہائیوں قبل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میری یہ دوستیاں انڈین اور بنگلہ دیشیوں کے ساتھ آج بھی قائم و دائم ہیں جو کہ ہمارے دشمن ممالک گردانے جاتے ہیں۔ انڈین دوست بنانے میں کوئی تگ و دو نا کرنی پڑی کہ ”تقسیم، قتل و غارت گری اور

Read more

نور کا مقدمہ اور سماجی دباؤ

نور مقدم کے بہیمانہ قتل پر بہت کچھ لکھا گیا، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ کیونکہ ہر وہ انسان جس میں ذرا برابر بھی انسانیت ہوگی وہ اس قتل کے طریقہ کار اور نور کے دردناک انجام پر آج بھی لرز اٹھتا ہو گا۔ مجھے محمد حنیف کے کالم ”خاموش رہیں اندر لڑکی قتل ہو رہی ہے“ نے واقعتاً جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ محمد حنیف نے اپنے کالم کا اختتام اس جملے پر کیا کہ ”خاموش

Read more

 ثمینہ نذیر اور ان کی عورتیں

مکتبہ دانیال کی روح رواں ہماری پیاری دوست حوری نوارنی کا واٹس اپ آتا ہے کہ ہم اسلام اباد ارہے ہیں تو ملاقات ہونی چاہيے اور میں تمھارے لیے”کلو”بھی لا رہی ہوں۔ میری کم علمی کہ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ کون کلو۔ "مکتبہ دانیال” کے فیس بک پیج پر ثمینہ نذیر اور ان کی تخلیق "کلو” سے میرا پہلا تعارف ہوا۔ اس اشاعتی ادارے کا کمال ہی یہی ہے کہ ان کی مطبوعات نا صرف تخلیقی اعتبار

Read more

ثمینہ نذیر اور ان کی عورتیں

مکتبہ دانیال کی روح رواں ہماری پیاری دوست حوری نورانی کا واٹس اپ آتا ہے کہ ہم اسلام آباد آ رہے ہیں تو ملاقات ہونی چاہیے اور میں تمھارے لیے ”کلو“ بھی لا رہی ہوں۔ میری کم علمی کہ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ کون کلو۔ ”مکتبہ دانیال“ کے فیس بک پیج پر ثمینہ نذیر اور ان کی تخلیق ”کلو“ سے میرا پہلا تعارف ہوا۔ اس اشاعتی ادارے کا کمال ہی یہی ہے کہ ان کی مطبوعات نا صرف تخلیقی اعتبار سے بلکہ ان کی کتابوں کی طباعت، کتابت، چھپائی اور سرورق بھی اعلی معیار کا ہوتا ہے۔

Read more

بچیوں کو بوجھ نہ سمجھیں

صحافی علی سلمان علوی جیسے مردوں کی اس معاشرے میں کمی نہیں۔ اس نوعیت کے کتنے واقعات ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس طرح کے مرد صرف اپنا مطلب پورا کرتے ہیں اور جب مطلب نکل جاتا ہے تو پھر تمام الزام عورت پر دھر دیتے ہیں کہ وہ عورت تھی ہی خراب۔ علی سلمان علوی نا صرف کئی دیگر خواتین کو سہانے خوب دکھا رہے تھا بلکہ بلیک میل

Read more

سماجی سائنس کے اساتذہ سے کیا تکلیف ہے؟

جس ملک کے نہ صرف وزراء بلکہ وزیراعظم تک مرغیوں، کٹوں، ٹڈی دل جیسے مضحکہ خیز اور ناقابل عمل منصوبوں سے لے کر کورونا جیسی بین الاقوامی وبا پر سائنسی ضابطوں سے انحراف کرتے رہے ہیں اور کووڈ 19 کی جو بے سروپا تشریحات عوام کےگوش گزار کرتے رہے ہیں، اس کی سمجھ بوجھ کسی سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک کے تمام ادارے ہی روبہ زوال تھے لیکن جس شدت سے اس حکومت نے

Read more

شیر شاہی بیٹیاں اور افسر شاہی – دوسرا رخ

کیا واقعی بیٹیاں پیدا کرنے کا تاوان بیٹیوں کا سی ایس ایس کے امتحان میں پاس ہونا قرار پایا ہے؟ تب ہی کیا بیٹی پیدا ہونے کا جواز درست ثابت ہو سکے گا؟ ورنہ کیا زندگی بھر بیٹی پیدا کرنے کی پاداش میں والدین کا سر اس معاشرے میں ہمیشہ جھکا رہے گا؟ یہ ہم آج بھی کس صدی کا ماتم لئے بیٹھے ہیں کہ اگر کسی کے گھر چار یا پانچ بیٹیاں پیدا ہو گئیں تو سب کو سی

Read more