پاگل خانہ
”تم ذہنی طور پر اپاہج ہو چکے ہو“
صبح آٹھ بج کر چالیس منٹ پر نازنین نے فاروق سے یہ جملہ کہا تھا اور ٹھیک دس منٹ بعد فاروق اس جملے کا ہاتھ پکڑ کر اپاہج راستوں کی طرف چل پڑا تھا۔ فاروق جو غم حیات کی بے رنگ تصویر میں کچھ رنگ بھرنے کی کوشش میں گھر سے نکلنے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ اس فقرے کے بعد اسے لگا وہ ایک بار پھر سے صفر ہو گیا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ نازنین نے پہلی بار اس جملے کا استعمال کیا تھا۔ نازنین کے ایسے بہت سے جملے روزانہ ہی چابک کی طرح فاروق کو لگتے تھے لیکن اس روز اس جملے کی چبھن اتنی شدید تھی کہ فاروق کا پورا وجود ناقابل بیان درد کی شدت سے کراہنے لگا تھا۔
نازنین اور فاروق کی محبت کی شادی ہرگز نہیں تھی۔ یہ رشتہ خاندان کے بزرگوں کی مرضی سے طے ہوا تھا۔ فاروق نے اس رشتے میں محبت کا رنگ شامل کر دیا تھا لیکن وہ عمر بھر نازنین کو خود سے محبت کرنے ہر مجبور نہیں کر سکا۔ نازنین کے خواب بہت اونچے تھے جبکہ فاروق کا مسکن زندگی کی پتھریلی زمین تھی۔ وہ پچھلے سات سال سے اس کوشش میں مصروف تھا کہ اس پتھریلی زمین پر کچھ پھول اگا سکے لیکن زمین کی خاردار جھاڑیاں کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔
وہ ایک نجی ادارے میں روزانہ تیز سے تیز تر بھاگنے کی کوشش کرتا لیکن دن کے اختتام پر اسے احساس ہوتا کہ اتنا تیز بھاگنے کے باوجود وہ وہیں پر کھڑا ہے۔ ذلت ،کم مائیگی اور احساس کمتری جیسے جذبے واپسی پر اس کے ساتھ ہو لیتے۔ گھر پہنچتے ہی نازنین ان تمام تر جذبوں کو نئے سرے سے ترتیب دیتی اور ایک بار پھر فاروق کے گرد ان منفی جذبوں کا حصار باندھ دیتی اور فاروق انہی جذبوں کو اوڑھ کر سو جاتا۔ ایک روز آفس سے واپسی پر طلائی زیورات کی ایک دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے نجانے من میں کیا سمائی۔
شوکیس میں سجے زیورات کو غور سے دیکھنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ نازنین کی طویل خواہشات کی فہرست میں طلائی زیورات کی جگہ کافی اونچی ہے۔ اس روز اسے تنخواہ ملی تھی۔ نازنین کی حسین مسکراہٹ دیکھنے کی خواہش میں اس نے ایک خوبصورت سی طلائی زنجیر خرید لی۔ زنجیر لے کر وہ گھر پہنچؒا تو نازنین کے چہرے پر اسے وہی اداس رنگوں کی تصویر دیکھنے کو ملی۔ فاروق نے مسکراتے ہوئے اسے پشت سے تھاما اور اپنے قریب کرتے ہوئے اس کی گردن میں وہ طلائی زنجیر پہنا دی۔
اس لمحے مسکراہٹ اس ویران کمرے میں اچانک سے لوٹ آئی تھی لیکن اس مسکراہٹ کی عمر خاصی مختصر تھی۔ اگلی صبح کا سورج فاروق کے لئے کچھ اچھی خبر لے کر نہیں آیا تھا جب نازنین کے پوچھنے پر فاروق نے اسے مژدہ سنایا کہ اس طلائی زنجیر کی قیمت اس کی مہینے بھر کی تنخواہ تھی۔ فاروق کے لئے زندگی تو کبھی آسان نہیں تھی لیکن اس طلائی زنجیر کے بعد تو زندگی کی پتھریلی زمین مزید سخت ہو گئی تھی۔ اس دن کے بعد وہ روزانہ نازنین کے چابک جیسے جملے سنتا اور زندگی کے میدان میں اور تیز بھاگنے کی کوشش کرتا۔
اس نے بھاگنے کی رفتار بہت تیز کر دی تھی۔ وہ رات گئے تک بھاگتا رہتا لیکن اس کی زندگی کا عنوان مسکراہٹ نہ بن سکی۔ اس روز نازنین کا یہی جملہ اس کا ہمسفر تھا۔ اس کا پہلا سامنا پٹرول پمپ پر کھڑے اس شخص سے ہوا جس سے اس نے اپنی بائیک میں پٹرول ڈلوانا تھا۔ اس سے آگے ایک مرسڈیز کھڑی تھی۔ جس کے مالک نے اپنے والٹ سے نجانے کتنے ہی نوٹ نکال کر پیٹرول ڈالنے والے شخص کو پکڑائے اور آگے بڑھ گیا۔ یہ سب دیکھ کر فاروق کی آنکھوں کے سامنے نازنین کا چہرہ آ گیا ساتھ ہی وہ جملہ چابک کے طرح اسے لگا تھا۔
وہ کچھ سوچتا ہوا آگے بڑھ گیا کہ اچانک سے سڑک کے درمیان اس کی بائیک نے چلنے سے انکار کر دیا۔ فاروق نے پیچھے مڑ کر دیکھا نجانے کتنے ہی لوگ وہی جملہ اس پر اچھال رہے تھے۔ وہ بائیک چھوڑ کر آگے بھاگنے لگا لیکن جملے کی رفتار اس کے اپنے وجود سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ وہ بھاگتے بھاگتے ایک وسیع میدان میں گر گیا۔ اس نے سامنے نگاہ کی تو ایک بورڈ نظر آیا جس پر جعلی حروف میں لکھا تھا۔
”پاگل خانہ“


