سر سید احمد خان اور تحریک علی گڑھ


برصغیر میں مسلمانوں کا زوال یوں تو مغلیہ سلطنت کے انتشار سے شروع ہو چکا تھا مگر 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریز ہندوستان کا باقاعدہ حاکم بن گیا تو ان کے زوال پر گویا مہر ثبت ہو گئی۔

انگریز جنگ آزادی۔ جس کو وہ جنگ غدر کہتے تھے۔ کے بنیادی ذمہ دار مسلمانان ہند کو گردانتے تھے اس لیے ہندوں اور سکھوں سے زیادہ ان کے بغض و عناد اور انتقام بڑا نشانہ مسلمان بنے۔ ان کی جاگیروں کو ضبط کر لیا گیا۔ ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔ بھاری جرمانوں کے ساتھ بہت ساروں کو طویل قید۔ جلاوطنی اور پھانسیوں کی سخت ترین سزائیں دی گئیں۔

اس ہمہ جہت زوال اور پر آشوب حالات میں مسلمانوں کی احساس محرومی۔ شکست خوردگی اور ذہنی انتشار سے دو چار ہونا فطری تھا۔

بہت سارے مسلمان زعماء ان حالات سے نکلنے کی فکر میں تھے مگر کوئی موثر حل یا راستہ نہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ مایوسی اور محرومی کے اس اندھیرے میں راستہ ڈھونڈنے والوں میں ایک شخصیت سر سید احمد خان کی بھی تھی۔

سر سید ہندوستان کے بدلے ہوئے حالات کا جائزہ سطحی جذباتیت کے بجائے ایک سائنس دان جیسی حقیقت پسندی سے لیتا ہے اور اس کی روشنی میں مسلمانان ہند کی نجات و فلاح کے لیے ایک جامع پروگرام ترتیب دے کر ایک تحریک کی شکل دیتا ہے۔ جس کو سر سید یا علی گڑھ تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

جو مایوسی محرومی اور انتشار کے اس ماحول میں روشنی اور امید کا ایک مینار ثابت ہوتا ہے

سر سید کی ایک طرف کوشش یہ رہی کہ مسلمانان ہند کے خلاف انگریزوں کی غلط فہمیوں کو دور کر کے ان کے بغض و عناد کو کم کیا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے ”اسباب بغاوت ہند“ اور وفادار مسلمان ”نامی مقالوں سے موثر کام لیا جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو نئے حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا۔

برصغیر ہند کے مسلمانوں کی بیداری۔ اصلاح اور فلاح کے لیے سر سید تحریک نے پانچ شعبہ ہائے زندگی پر اثرات ڈالے۔ 1۔ تعلیم، 2 سیاست۔ 3 سماج 4 مذہب اور 5 ادب

ان کا یہاں مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے

پہلا شعبہ تعلیم ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر اس نے اپنے سماجی سیاسی اور مذہبی نظریات کا ڈھانچہ تعمیر کیا۔ سر سید کی دوراندیش بصیرت نے جدید تعلیم کی اہمیت اور افادیت کا ادراک کر لیا تھا۔ اور اس حقیقت کا قائل ہو گیا تھا کہ جدید تعلیم کے بغیر مسلمان اپنی موجود حالات سے نکل کر ترقی نہیں کر سکتے ہیں

جبکہ عام مسلمان تین وجوہات کے باعث انگریزی تعلیم کے خلاف تھے۔ ایک یہ کہ وہ اس کو روایتی اسلامی تعلیمات کے مقابلے کمتر سمجھتے تھے

دوسرا یہ کہ یہ تعلیم اجنبی اور غیر مسلم حکمرانوں کی طرف سے دی جا رہی تھی۔ اور تیسرا یہ کہ مسلمانوں کو اس کی کوئی افادیت نظر نہیں آتی تھی۔

سر سید نے ان رویوں کا جرات مندانہ مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو بتدریج اس کی طرف مائل کیا کہ وہ جدید تعلیم کے حصول کے لیے آمادہ ہو جائیں

تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے مراد آباد اور غازی پور میں جدید طرز کے سکول قائم کر دیے جبکہ 1875 میں علی گڑھ کالج کا قیام ان کا شاندار کارنامہ ہے۔

مذہب اس شعبے میں سر سید نے عقلی اپروچ اپنایا۔ اسلامی تصورات کو جدید سائنس سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں ان کے بعض تفاسیر روایتی عقائد کے خلاف رہیں۔ سر سید سب سے زیادہ اپنے مذہبی عقائد اور نظریات کی وجہ سے قدامت پرست حلقوں کی تنقید اور مخالفت کا نشانہ بنا۔

سماجی۔ اس حوالے سے سر سید سادگی، دیانتداری، راست گوئی، انصاف، رواداری اور ایسے دوسرے مثبت اور تعمیری اقدار کے مبلغ تھے آپ کے مشہور رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ نے اس شعبے میں بڑا رول ادا کر دیا تھا۔

سیاست۔ اس میدان میں سر سید تین نکات مسلمانوں کے ذہن نشین کرانا چاہتا تھا۔ 1 ) یہ کہ سیاسی آگاہی نا گزیر ہے 2۔ ) یہ کہ انگریز کو دوست بنایا جائے اور 3 ) یہ کہ کانگرس کی سیاست میں شرکت مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ سر سید کا خیال تھا کہ برصغیر، جہاں پر مختلف نسلوں اور عقیدوں کے لوگ بستے ہیں، میں ایک ایسی نمائندہ حکومت کا قیام، جو اکثریت کے اصول پر مبنی ہو مسلمانوں کے لیے مفید نہیں ہو گی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ انگریزوں کے قریب آئیں اور کانگریس سے دور رہیں اور خود اپنی قوت استوار کریں۔ ان کا اصرار تھا کہ مسلمان جب تک تعلیمی اور معاشی لحاظ سے ہندووں کے ہم پلہ نہ ہو جائیں وہ سیاست میں نہ پڑیں۔

ادب۔ مذکورہ میدانوں کے علاوہ اردو ادب پر بھی اس کے مفید اثرات پڑے۔

اردو ادب کے حوالے سے ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک سوچ اور منصوبے کے تحت سادہ اردو نثر کا آغاز کیا۔

اردو نثر کو روایتی عبارت آرائی، لفاظی تکلف و تصنع سے نجات دلائی۔ اس کو اجتماعی مقاصد سے روشناس کیا اور اس کو سہل اور سلیس بنا کر عام اجتماعی زندگی کا ترجمان اور علمی مطالب کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ اردو نثر کے حدود کو وسیع تر کیا۔ اور اسی بنا جدید اردو نثر کا باقاعدہ بانی سر سید کو قرار دیا جاتا ہے۔ عقلیت، مقصدیت، مدعا نگاری اور استدلالی خصوصیات والی نثر اور سہل اسلوب بیان کے علاوہ درجہ ذیل اصناف ادب کا رواج بھی سر سید اور اس کی تحریک کے زیر اثر ہوا۔

1 نیچرل شاعری 2 سوانح نگاری۔ 3۔ علمی تاریخ نگاری 4۔ ناول نگاری 5۔ مقالہ نگاری 6۔ تنقید نگاری اور 7 علمی مذہبی ادب

سر سید پر بعض حلقوں نے کافر، بے دین۔ ملحد اور نیچری تک فتوی لگائے۔ مگر یہ ان افراد کی متعصبانہ یا سطحی سوچ تھی۔ ان کے خلاف اس قسم کے الزامات لگانے والے یہ نہیں دیکھتے تھے کہ یہ سر سید ہی تھا جنہوں نے اپنی تصنیف ”خطبات احمدیہ“ میں ولیم میور کی کتاب ”لائف آف محمد“ میں لگائے گئے اعتراضات کے بڑے مدلل اور موثر جوابات دیے۔ اپنی اسی کتاب کی اشاعت کے لیے وہ اپنا سارا اثاثہ بیچنے پر بھی تیار تھا۔

ایک ڈچ مبصر نے سید جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہ اور سر سید کا موازنہ کرنے کے بعد یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قابلیت اور ٹھوس اسلامی خدمات کے اعتبار سے سر سید 19 ویں صدی کے سب سے بڑے مسلمان ہیں۔

اپنے دور میں ان کے فکری مخالف نامور طنز نگار شاعر اکبر الہ آبادی نے بھی آخر میں سر سید کی عظمت کا اعتراف کیا تھا

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے۔
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں۔

اسی طرح بعض مخالفین نے اس کو انگریزوں کا مداح بلکہ بعض کم ظرف ان کو ٹوڈی اور چاپلوس اور ابن الوقت تک کہنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ مگر ان کوتاہ نظر ناقدین یہ نہیں جانتے تھے کہ سر سید جو کچھ کرتے تھے وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ مسلم قوم کے تحفظ اور فائدے کے لیے کر رہے تھے۔ سر سید کا قلم، ان کے دینی تصورات، ان انگریز مداحی، ان کا نیچری پن غرض ان کی ساری تگ و دو اور پالیسیوں کے محرکات اور مقاصد کا محور صرف اور صرف مسلمان ہند کا مفاد تھا۔ اس وقت انہوں نے جو طرز عمل اور پالیسی اپنائی تھی وہ حالات کے مطابق حقیقت پسندانہ اور زیادہ مناسب تھی

اگرچہ ان کے بعض عقائد اور نظریات سے اختلاف کی گنجائش رہی ہے مگر اس کی تحریک کی نیک نیتی، اعلی مقاصد اور بحیثیت مجموعی مفید نتائج سے کوئی متوازن ذہن والا انکار نہیں کر سکتا ہے۔ اپنے نقائص کے باوجود سر سید کی تحریک مسلمانان ہند کی اصلاح، فلاح و ترقی کی بلاشبہ ایک ہمہ گیر اور مفید تحریک تھی۔

ممتاز ترقی پسند دانشور سبط حسن نے لکھا ہے ”ہندوستان کے مسلمانوں کی قومی، ملی، تعلیمی، تہذیبی، سماجی و سیاسی بیداری سر سید کی اس تعلیمی و اصلاحی تحریک سے وابستہ ہے“

Facebook Comments HS