خواتین اپنے بارے میں کیسا سوچتی ہیں؟ چند سوالات اور جوابات


ژان پال سار ترکی رفیق سفر اور محبوبہ سیمن دی بوا کا خواتین کے متعلق کہنا تھا کہ ”عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ بنائی جاتی ہے“ بہت ہی جاندار جملہ ہے اور خواتین کے متعلق پوری انسانی تاریخ کی نفسیات کی گرہیں کھول کر رکھ دیتا ہے۔ یہ جملہ ایک ضرب المثل بن چکا ہے ”کہ عورت مرد کی نسبت کم عقل ہوتی ہے“ ۔ پتہ نہیں کس سیانے بندے نے یہ بات کہی تھی مگر اس جملے کا اثر عورت کی نفسیات پر بہت برا پڑا ہے۔ میرا تعلق ٹیچنگ پروفیشنل سے ہے اور دوران کوچنگ مجھے بچیوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر بات چیت کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے، بیچلر اور ماسٹرز لیول کی بچیوں سے میں مختلف قسم کے سوالات پوچھتا رہتا ہوں۔ کافی عرصے سے میں اپنی طالبات سے ان کی نفسیات جاننے کے لیے کچھ اس طرح کے سوالات پوچھ رہا تھا کہ جس سے میں یہ اندازہ کر سکوں کو کہ خواتین اپنی ”سیلف“ کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں۔ اگر چہ یہ سیمپل سائز بہت زیادہ بڑا نہیں ہے مگر مجموعی طور پر ہم ایک موثر نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ وہ سوالات یہ ہیں

1۔ خواتین میں کوئی پیغمبر، رسول، ولی یا کوئی قابل ذکر برگزیدہ خاتون کیوں نہیں ہوئی؟ تاریخ انسانی میں بہت کم آٹے میں نمک کے برابر خواتین کا لیڈنگ رول ملتا ہے مگر مرد ہر جگہ چھائے ہوئے ہیں ایسا کیوں ہے؟

2۔ اگر مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں تو پھر اتنی زیادہ تفریق کیوں؟ یہ جملہ سننے میں تو بہت اچھا ہے مگر پریکٹیکل میں ایسا ہوتا ہے؟ یہ اتنا تضاد کیوں ہے؟

3۔ شادی کے بعد خاوند کے علاوہ بیوی بھی بیٹی کی نسبت بیٹے کے آمد کی دعا و مناجات کرتی ہے تاکہ گھر کا آنگن خوشیوں سے بھر جائے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا بیٹی زحمت ہوتی ہے؟

4۔ مرد اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معاشرے میں گھومتا ہے مگر عورت برقع، حجاب یا عبایہ میں آخر ایسا کیوں؟ کیا عورت آلٰہ شیطان ہے یا انسان؟

5۔ ایک مرد کی گواہی مکمل سمجھی جاتی ہے مگر ایک خاتون کی ناقص بلکہ دو خواتین کی مکمل گواہی تسلیم کی جاتی ہے ایسا آخر کیوں ہے؟

6۔ آخر ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ عورت لوجیکل نہیں ہوتی بلکہ ایموشنل فول ہوتی ہے؟

7۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ مردانہ سماج میں آپ کی حیثیت محض کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے؟ کیا آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کی زندگی کے کاتب مقدر مرد ہیں اور وہ طے کرتے ہیں کہ آپ کو معاشرے میں کیسا دکھنا ہے؟

8۔ کیا آپ اپنی زندگی میں کوئی بھی آزادانہ فیصلہ لے سکتی ہیں جیسا کہ مرد لے سکتے ہیں یا اس سماج کے بیٹے لیتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کی ذات پر آپ کا ہی حق نہیں ہے؟ اتنی بڑی نا انصافی آخر کیوں؟

ان سوالوں کے جواب مجھے بچیوں سے کچھ اس طرح کے ملے ہیں کہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہماری بچیوں کا اپنی ”سیلف“ کے بارے میں کوئی واضح نقطہ نظر ہی نہیں ہے بلکہ وہ صدیوں کے سماجی جبر اور اپنی ذات کے متعلق مردوں کے طے کیے ہوئے اصول و ضوابط کو بخوشی قبول کر چکی ہیں اور اسی مکروہ سرکل میں خوش ہیں۔ ان سوالوں کے جواب میں طالبات کی اکثریت کا یہ کہنا تھا کہ ”عورت کے پیچھے رہ جانے کی کی بنیادی وجہ اس کا مردوں سے عقل میں کم ہونا ہے“ یہ جملہ انہوں نے اتنے یقین اور پر اعتماد لہجے میں بولا ایسا کہ جیسے اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتی ہوں؟

معاشرتی سفاکیوں نے انہیں ایک ایسے مقام پرلا کھڑا کیا ہے کہ یا تو وہ اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ کر آئیڈیل عورت بن سکتی ہے یا غیرت بریگیڈ کی نظروں میں رنڈی یا بازاری عورت کا لقب حاصل کر سکتی ہے، اتنے ٹائٹ چناؤ میں پھر اسے اپنی ذات کو ہی کسی کونے کھدرے میں دفن کرنا پڑتا ہے اور ایک کٹھ پتلی کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جب یہی سوالات میں نے ایک خاتون پی ایچ ڈی سکالر کے سامنے رکھے تو اس نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ کبھی اتنا گہرا سوچا ہی نہیں اور اتنا گہرا سوچنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔

ایک ایم فل خاتون سے جب ان سوالات پر مکالمہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر خاتون کسی مقدس لیڈنگ مقام یعنی نبی یا پیغمبر نہیں بن سکی تو اس میں بحث کس بات کی ہے۔ ”نہیں تو نہ سہی“ ہمیں اس سے کیا لینا دینا ہے بس جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہے تو اچھی گزر رہی ہے مدرسہ کی تعلیم یافتہ چند حافظہ عالمہ سے جب ان سوالات پر مکالمہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں زیادہ پتہ نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں آپ کو ہمارے مرد علماء سے بات کرنی چاہیے وہی اس سلسلے میں بہتر بتا سکتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں ان کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ ہماری ذات کے متعلق ہم کچھ نہیں بتا سکتے بلکہ ہمارے مرد علماء ہی بتا سکتے ہیں۔

ہائے بے بسی کا یہ تصور؟ مرد اپنی ذات کے فیصلے تو کرتا ہی ہے۔ مگر عورت کے بھی وہی کرے گا۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہماری خاتون کی سوچ بہشتی زیور سے آگے نکلنے ہی نہیں دی جاتا اور جب اس کی شادی ہوتی ہے تو جہیز میں اسے بہشتی زیور بھی تھما دیا جاتا ہے یعنی اسے زندگی گزارنے کا جبری میگنا کارٹا دے دیا جاتا ہے۔ ایک ماسٹر کلاس کی طالبہ عائشہ نے مجھے حیران کر دیا جب میں نے انہی سوالات پر مکالمہ کیا تو اس کا کہنا تھا کہ عورت کسی طرح بھی مرد سے کم عقل نہیں ہے بلکہ وہ اپنے فیصلے مردوں سے کہیں بہتر انداز میں لے سکتی ہے مگر معاشرے نے غیرت کے نام پر اس پر اتنے غلاف چڑھا دیے ہیں کہ وہ اس میں دب کر رہ گئی ہیں، اس کے اندر خوف اتنا بھر دیا گیا ہے کہ اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے کافی وقت لگے گا۔

اس بچی کا کہنا تھا کہ نقاب اور برقع کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کو سانس کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں مگر وہ معاشرتی جبر کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عائشہ کا کہنا تھا کہ سر بچیوں میں سیلف کانفیڈنس کہاں سے آئے گا جب اسے بچپن سے ہی ہزاروں پردوں میں قید رکھا جائے گا اور اسے کسی سے بات کرنے کے لئے بھی اجازت کی ضرورت در کار ہو گی تو اس کی ایک مکمل شخصیت کیسے تعمیر ہو پائے گی؟ ہم بچیاں جب کوئی کام بھی کرتی ہیں تو ہزاروں نظریں ہماری نگرانی پر مامور ہوتی ہیں تو ایسے میں ہم اپنی ذات کا اظہار کیسے کر سکتی ہیں؟

اس کا کہنا تھا کہ خواتین بخوبی جانتی ہیں کہ ان کو یہ بیڑیاں مردوں نے خود کو مطمئن کرنے کے لئے پہنائی ہیں مگر وہ اس کے اظہار کی قیمت بھی جانتی ہیں۔ دیکھا جائے تو اس منافق سماج کو عورت ہضم ہی نہیں ہوتی، ملالہ پر کتنے الزامات لگائے گئے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے مگر وہ مردانہ سماج میں ڈٹ گئی اور وہ ایک مثالی آئیکون بن گئی۔ فہمیدہ ریاض، کشور ناہید حتٰی کہ عاصمہ جہانگیر تک کو بخشا نہیں گیا، ہمیں ان جیسی کئی خواتین کی ضرورت ہے جو اپنی کہانیاں لکھیں اور ہمارے معاشرے کی بے بس خواتین کو سوچنے پر مجبور کریں تاکہ وہ خود کو ڈسکور کر کے اپنی شخصیت کے سو فیصد کے ساتھ سامنے آئیں نا کہ آدھی اور کمزور شخصیت کے ساتھ۔

Facebook Comments HS