پانچ سے 11 سال کے بچوں میں کووڈ 19 ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت کی درخواست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائل میں فائزر بائیو این ٹیک کرونا وائرس بیماری (کووڈ 19) کے لیبل کی ویکسین دکھائی گئی ہے۔ فائل فوٹو

شراکت داری کے عمل کے ذریعے کووڈ 19 ویکسین تیار کرنے والے فائزر اور بائیواین ٹیک ایس اِی کے اداروں نے منگل کے روز بتایا ہے کہ ان کی جانب سے ایک باضابطہ درخواست اس وقت حکومت امریکہ کے سامنے ہے، جس میں اس بات کی اجازت طلب کی گئی ہے کہ ہنگامی صورت حال میں پانچ سے 11 برس کے بچوں کو ویکسین لگانے کی اجازت دی جائے۔

ان کمپنیوں نے اپنے اس منصوبے کے اعلان سے قبل گزشتہ ہفتے ویکسین سے متعلق ابتدائی آزمائشی اعداد و شمار امریکی غذا اور ادویات پر نگرانی کرنے والے ادارے، ‘یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن’ کو پیش کیے تھے۔

کمپنیوں نے بتایا ہے کہ ان آزمائشی اعداد و شمار میں 2268 افراد پر تجربات کیے گئے شامل ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ویکسین عمر کے اس گروپ کے لیے محفوظ اور مؤثر ہے۔

اس سے قبل ایف ڈی اے نے 12 سے 15 سال کے نوجوانوں میں ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی تھی؛ جب کہ 16 سال اور اس سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کی مکمل اجازت دی گئی تھی۔

پیش کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف ڈی اے کی جانب سے فوری منظوری دیے جانے سے یہ ممکن ہو گا کہ موسم خزاں تک وبا کے مرض میں کمی واقع ہو سکے، یہ وہ وقت ہو گا جب موسم گرما کے بعد ملک بھر کے اسکول دوبارہ کھل چکے ہوں گے۔

اطفال کے علاج سے وابستہ امریکی اکیڈمی کے مطابق، اس ماہ کے اوائل کے دوران بچوں میں کرونا وائرس کا انفیکشن شدت اختیار کر گیا تھا۔

کمسن بچوں میں کووڈ 19 کی بیماری کے شدت اختیار کرنے کا عمومی طور پر امکان کم ہی ہوتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کرونا وائرس کے اثرات دوسروں تک تیزی سے پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

[اس رپورٹ میں فراہم کردہ کچھ معلومات رائٹرز سے لی گئی ہے]


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments