برطانیہ میں پیٹرول کا بحران، معاملہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگلینڈ کے ایک مرکزی علاقے، کونٹری میں ایک فیول ٹینکر پیٹرول پمپ کو رسد فراہم کرتے ہوئے۔

لندن کے ٹیکسی ڈرائیور پال کربی نو پیٹرل پمپس کا چکر لگا چکے ہیں لیکن ہر بار انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دن تو شاید ان کا کام چلتا رہے لیکن اس کے بعد پال کو اپنی گاڑی پارک کرنا پڑے گی۔

پال اکیلے اس پریشانی سے دوچار نہیں۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے پال نے بتایا کہ لندن میں ان کے جان پہچان کے ٹیکسی والوں میں آدھے سے زیادہ لوگ پیٹرول نہ ملنے کی وجہ سے گھروں پر بیٹھے ہیں کیوں کہ وہ ویک اینڈ پر پیٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

گاڑیوں کے لیے ایندھن کی اس قلت نے پورے برطانیہ ہی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ہزاروں پمپس پر تیل دستیاب نہیں ہے۔

’بحران اچانک پیدا نہیں ہوا‘

برطانیہ میں یہ بحران پیٹرول کی قلت کے باعث نہیں بلکہ اس کی وجہ بڑے ٹرک ڈرائیورز کی عدم دستیابی ہے۔

ڈرائیورز کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد پیٹرول کی فراہمی بحال کرنے کے لیے برطانیہ کی فوج کو اسٹینڈ بائے رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق سپر مارکیٹس، کھانے پینے کی اشیا کی پراسیسنگ کرنے والی صںعتیں اور کسانوں کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا جارہا تھا کہ بھاری ساز و سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والی بڑے ٹرکوں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی قلت ہو گئی ہے۔

ایندھن کی قلت کی صورت میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔ پیٹرول کی ترسیل کرنے والے، پیٹرول پمپس اور ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا، کیوں کہ اس وقت کم ازکم ایک لاکھ ڈرائیورز کی کمی کا سامنا ہے۔

ڈرائیوروں کی قلت کیوں؟

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق برطانیہ میں لاری یا ٹرک ڈرائیوروں کی قلت عروج پر پہنچ چکی ہے۔

اس بارے میں برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ کرونا وائرس ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکریٹری گرانٹ شاپس نے جمعے کو ’اسکائی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا کے باعث سماجی فاصلے پر عمل درآمد کی وجہ سے لاری ڈرائیوروں کی تربیت میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اس بحران کی ’اصل وجہ‘ ہیں۔

برطانیہ میں ساز و سامان کی نقل و حمل کے کاروبار کی نمائندہ ’دی روڈ ہالج ایسوسی ایشن‘ کا کہنا ہے کہ2020کے دوران اور رواں سال کے آغاز تک تقریباً 40 ہزار ٹرک ڈرائیوروں کے ٹریننگ ٹیسٹ ملتوی ہوچکے ہیں۔

’کرونا یا بریگزٹ‘

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی یعنی بریگزیٹ میں عجلت بھی ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کے اس حالیہ بحران کا باعث ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے لیے برطانیہ نے عجلت کا مظاہرہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ اسے حالیہ بحران کے علاوہ معیشت کی تشکیلِ نو میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرک ڈرائیوروں کی عدم دست یابی کی اصل وجہ وبا سے پیدا ہونے والے حالات ہیں اور اسے بریگزٹ سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

ٹرانسپورٹ سیکریٹری گرانٹ شاپس کا کہنا ہے برطانیہ میں ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کے کئی ایک محرکات ہیں۔ ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کی اجرتیں کم ہیں جن میں اضافہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو بریگزیٹ سے جوڑنا درست نہیں، کیوں کہ اگر یہی اس کی وجہ ہوتی تو یورپی یونین میں شامل جرمنی اور پولینڈ میں ٹرک ڈرائیورز کی قلت نہ ہوتی۔

’برطانیہ کا بحران مختلف ہے‘

’اے ایف پی‘ کا کہنا ہے کہ جرمنی اور پولینڈ کے مقابلے میں برطانیہ میں ٹرک ڈرائیوروں کی عدم دست یابی کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

کئی مبصرین بریگزیٹ کو اس بحران کے بنیادی اسباب میں شمار کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس حوالے سے روڈ ہالیج ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جس کے مطابق بریگزیٹ کے بعد بیس ہزار یورپی لاری ڈرائیوروں نے برطانیہ میں ملازمت ترک کردی تھی۔

رواں سال کے آغاز کے ساتھ ہی برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوا ہے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کو بریگزیٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں آزادانہ آمد ورفت ختم ہوگئی۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد برطانیہ نے یورپی یونین میں شامل ممالک سے آنے والوں کے لیے نئے امیگریشن قوانین بنائے۔ ان قوانین کی وجہ سے ٹرک ڈرائیوروں سمیت کم اجرت پر کام کرنے والے ورکرز کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

پیرس کے یورپی معیشت سے متعلق ’ژاک دولا‘ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ایلور فیبری نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بریگزیٹ نے برطانیہ میں لاری اور ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کا مسئلہ شدید کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بریگزیٹ کے بعد برطانیہ اور یورپ میں تجارتی سطح پر ہونے والی رنجشوں سے یورپی ڈرائیورز کے لیے برطانیہ ’کم پرکشش‘ ہوگیا ہے۔

مسئلے کا حل کیا ہوگا؟

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور ان کی کنزرویٹیو پارٹی یورپی یونین سے نکلنے کے پُرزور حامی تھے۔

کنزرویٹیو پارٹی نے بریگزیٹ کے بعد اپنی معاشی حکمتِ عملی میں کم اجرتوں والی ملازمتوں کے لیے مقامی سطح پر افرادی قوت کو تربیت دے کر غیر ملکیوں کو کام دینے کے بجائے زیادہ اجرتوں پر مقامی افراد سے کرانے کی حکمت عملی بنائی تھی۔

لیکن اس موجودہ بحران میں انہیں بھی اپنی سابقہ پالیسی پر ’یوٹرن‘ لینا پڑ رہا ہے۔

ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بورس جونسن کی حکومت نے گزشتہ ہفتے فوری طور پر پانچ ہزار غیر ملکی لاری ڈرائیوروں کے لیے تین ماہ کے ایمرجینسی ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن ماہرین کے نزدیک یہ اقدام اس بحران کا مستقل حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بریگزیٹ میں عجلت نے اس کے بعد پیدا ہونے والے معاشی اثرات سے متعلق کنزرویٹیو پارٹی کے منصوبہ بندی کو بے اثر کردیا ہے اور وہ حالیہ بحران کو اسی کی مثال قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم اجرت والے پیشوں اور ٹرک ڈرائیورنگ جیسے شعبوں کی جانب مقامی افرادی قوت کو راغب کرنے کے لیے بہت وقت اور سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

برطانیہ کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ گرانٹ شاپس بھی یہ بات تسلیم کرچکے ہیں کہ ٹرک ڈرائیوروں کی اجرتیں بہت کم ہیں اور ان میں اضافہ ہونا چاہیے۔

برسوں کا کام دنوں میں ۔۔۔

واشنگٹن ڈی سی کے پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فور انٹرنینشل اکنامکس سے وابستہ سینیئر ماہر کار جیکب کرک گارڈ کا کہنا ہے کہ برسوں برطانیہ کی معیشت یورپی یونین کی کم آمدن والے ملکوں سے آنے والی افرادی قوت پر چلتی رہی؛ جس کی وجہ سے برطانیہ میں ڈرائیوروں کی تربیت نہیں ہو سکی۔ لیکن برطانیہ میں بڑے پیمانے پر یہی اقتصادی ماڈل تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ بریگزیٹ سے قبل اس اقتصادی ماڈل کو تبدیل کرنے کی ضرورت تھی، لیکن اس کے لیے برسوں درکار تھے۔ اس لیے وہ لوگ درست ثابت ہو رہے ہیں جن کا موقف تھا کہ بریگزیٹ کرنا ہی ہے تو اس میں عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

اس تحریر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ سے لی گئی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3106 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments