کیا ہم ایک ایماندار قوم ہیں؟


کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔ میں اپنے دور پار کے رشتہ دار ممبر نیشنل اسمبلی شاہ صاحب کو ملنے صبح صبح ان کے گھر پہنچا۔ ان کے دالان میں کافی سارے لوگ اپنے اپنے مسائل کے حل اور شاہ صاحب سے ملنے کے لئے جمع تھے۔ ان دنوں فنانس کمپنیوں میں لوگوں کی کافی زیادہ رقم پھنسی ہوئی تھی، جس کے لئے وہ ان کے پاس سفارش اور مدد کے لئے آئے ہوئے تھے۔ سب لوگ باری باری اپنے مسائل شاہ جی کو بتا کر سفارشی خط لے رہے تھے، چونکہ ان دنوں ابھی موبائل فون نہیں تھا اور ٹیلیفون بھی خال خال ہی تھے۔

انہی میں ایک بہت مسکین سا آدمی مجھے نظر آیا جو پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ وہ شخص شاہ جی سے ملنے کے لئے اٹھتا لیکن کسی اور کو آگے جاتا دیکھ کر پھر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا۔ سب سے آخر میں جب اس کی باری آئی تو اس نے بتایا کہ حضور گاؤں کے فلاں آدمی نے میرا سو روپیہ دینا ہے اور وہ مجھے دے نہیں رہا، میری مدد کریں۔ شاہ جی ہنس پڑے اور اسے کہا کہ تم ایک سو روپے کے لئے اتنے پریشان ہو اور یہاں لوگوں کے لاکھوں پھنسے ہوئے ہیں۔

اس نے کہا۔ سرکار! میری پسلی ہی سو روپے کی ہے، میرے لئے یہی بہت بڑی رقم ہے۔ شاہ جی نے اپنی قمیض کی جیب سے ایک سو روپیہ نکالا اور اسے کہا یہ لو اور اپنا کام چلاؤ۔ اب میں کہاں سو روپے کے لئے لوگوں کو کہتا پھروں۔ اس مسکین نے جو جواب دیا وہ مجھے آج تک یاد ہے۔ اس نے کہا، سرکار، آپ بڑے بندے ہیں۔ اس آدمی نے میرا حق دبا رکھا ہے۔ میں اپنے حق کے حصول کے لئے آپ سے مدد لینے آیا ہوں مجھے آپ کی یہ بھیک نہیں چاہیے۔ یہ بات سن کر شاہ جی کو غصہ آ گیا اور اسے دو تین سنا دیں۔ پھر پتہ نہیں کیا خیال آیا۔ اپنے چھوٹے بھائی کو بلایا اور اسے کہا کہ اس آدمی کا مسئلہ حل کراؤ۔ اس پر وہ شخص خوش ہو گیا۔

مجھے یہ واقعہ آج اس لئے یاد آ گیا۔ کیونکہ میں آج اپنے شہر کے ایک بڑے شاپنگ سٹور پر گیا۔ مجھے کا ؤنٹر کیشیئر نے بقایا رقم تین سو چھپن کی بجائے تین سو پچاس روپے واپس کیے تو میں نے اسے کہا کہ آپ نے چھ روپے کم دیے ہیں۔ تو کیشیئر صاحبہ نے کہا۔ بابا جی، چینج نہیں ہے۔ میں نے کہا محترمہ! آپ اتنا بڑا سٹور چلا رہے ہو تو آپ کے پاس چینج ہونا چاہیے۔ اس پر ان محترمہ کو غصہ آ گیا کہ چھ روپے کے لئے آپ اتنا غصہ کر رہے ہیں یہ لیں دس روپے۔

اور دس کا نوٹ بڑی بیزاری سے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے اس سے اپنے چھ روپے پرہی اصرار کیا۔ اس پر لائن میں میرے پیچھے کھڑے دوسرے لوگ مجھے کہنے لگے بابا جی، چھ روپے کا آج کل آتا کیا ہے۔ آپ کیا کریں گے لے کر ۔ میں سٹور سے اپنے چھ روپے واپس لئے بغیر باہر آ گیا۔ باہر آ کر سوچنے لگا کہ میں ان سے بھیک تو نہیں مانگ رہا تھا۔ وہ چھ روپے میرا اپنا حق بنتا تھا جو میں لینے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ اسی سے ملتے جلتے دو اور واقعات میں آپ کو سناتا ہوں۔

میں ایک پرائیویٹ بینک میں اپنے نواسے کے سکول کی فیس جمع کروانے جاتا ہوں۔ سکول والے نو ہزار پانچ سو پینتالیس روپے کا واؤچر بنا کر دیتے ہیں۔ میں ہمیشہ بینک کے کیشیئر کو دس ہزار دیتا ہوں۔ وہ مجھے ہر دفعہ پانچ روپے اس وجہ سے کم دیتا ہے کہ ان کے پاس پانچ روپے کا سکہ نہیں ہے۔ پچھلے ماہ میں نے کیشیئر سے کہا کہ بھائی آپ کا بینک ہے۔ یہاں تو ہمیشہ آپ کو چینج رکھنا چاہیے۔ بینک کے ان کیشیئر صاحب کو بھی غصہ آ گیا اور وہ کہنے لگے۔ آپ اتنی زیادہ فیس دے سکتے ہیں، لیکن پانچ روپے کے لئے ہم سے جھگڑا کرتے ہیں۔ مینیجر صاحب برانچ میں نہیں تھا ورنہ ان کو شکایت کرتا۔ پہلے میں نے سٹیٹ بینک کو شکایت کرنے کا سوچا پھر چپ کر گیا کہ مفت میں منیجر کی شامت آ جائے گی۔

ہمارے شہر میں میڈیکل سٹور کی ایک بہت بڑی چین کا سٹور ہے۔ وہاں سے ادویات خریدیں جن کا بل چودہ سو ستاون روپے بنا۔ کا ؤنٹر والے صاحب نے میں پانچ سو تینتالیس روپیہ بقایا دینے کی بجائے مجھے پانچ سو چالیس روپے واپس کیے اور ساتھ میں ایک ٹافی پکڑا دی۔ میں نے ایک نظر ٹافی کو دیکھا اور ایک نظر کا ؤنٹر والے کو ۔ پھر اسے کہا کہ بھائی میں اس عمر میں ٹافی نہیں کھاتا، اس کا کیا کروں گا۔ آپ مجھے تین روپے واپس کرو۔ ان سے بھی اسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ میں کا ؤنٹر سے ہٹا تو کیشیئر نے اپنے ساتھی سے ہنس کر کہا۔ یار یہ بڈھا تو بڑا سنکی ہے، صرف تین روپے کے لئے جھگڑا کرتا ہے۔

اسلام آباد کے بڑے شاپنگ مال سینٹورس میں چند ماہ پہلے ایک برگر دو سو پچانوے روپے کا لیا۔ جب ان سے پانچ روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا تو سب سٹاف مجھے یوں دیکھنے لگا کہ جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو۔ سینٹورس کی انتظامیہ کو شکایت کرنے پر بھی کوئی بھی نتیجہ نہ نکلا۔

میں نے اپنے شہر کے بڑے بڑے بزنس مالکان سے اس پر بات کی۔ سوائے ایک مالک کے باقی سب نے یہی کہا کہ او جی اتنی چھوٹی رقم کو اب کون پوچھتا ہے۔ آپ ہم سے دس روپے واپس لے لیا کریں۔ لیکن ان سب کا رویہ ایسا تھا جیسے میں ان سے کوئی بھیک مانگ رہا ہوں۔ اگر کسی ایک سٹور والے ایک دن میں آپ سو لوگوں کو پانچ روپے واپس نہیں کرتے اور ایسا ایک ماہ میں بیس دن ہوتا ہے تو وہ سٹور والے ایک ماہ میں آپ عوام سے دس ہزار روپے کھا جاتے ہیں اور ایک سال میں اس عوام کا ایک لاکھ روپیہ اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ فرض کریں کہ اگر یہ رقم ان کے بزنس میں نہیں جاتی تو ان کا کا ؤنٹر سٹاف ایک لاکھ روپیہ لوگوں سے چھین لیتا ہے۔ ذمہ داری پھر بھی بزنس کی آتی ہے۔

یہ ایک شہر یا جگہ کا مسئلہ نہیں ہر جگہ اور ہر تیسرے آدمی کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔ پانچ دس روپے کی بقایا رقم کو لوگ اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ کون ان سے مغز کھپائی کرے اور پھر اتنی کم رقم کے لئے اپنی بے عزتی کروائے۔ تمام بینک بجلی، پانی، گیس اور ٹیلیفون کے بل جمع کرتے ہیں اور حکومت سے اس کام کا معاوضہ لیتے ہیں۔ میں دعوے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے کیشیئر حضرات بل جمع کروانے والوں کو دس روپے سے کم بقایا رقم کبھی واپس نہیں کرتے۔

اگر میرے جیسا کوئی سنکی بڈھا یا غریب آدمی ایسی بقایا رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا بل ہی جمع نہیں کیا جاتا، الٹا اسے پوری پوری رقم لانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بھائی اگر بینک میں چینج نہیں ہو گا تو پھر کہاں ہو گا۔ بینک والے مروجہ قانون کے مطابق چھوٹے سکے اپنی برانچوں میں رکھنے کے پابند ہیں۔ اس قانون کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں سٹیٹ بینک جرمانے کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی بینکوں والے سکے نہیں رکھتے اور نا ہی مارکیٹ میں دکانداروں کو دیتے ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک سے آنے والی رقومات کی ادائیگی کرتے وقت بینک کا کا ؤنٹر سٹاف ایک سے دس روپے تک ایک ٹرانزیکشن میں لوگوں کو ادا نہیں کرتے۔ مجھے اس کا تین چار دفعہ ذاتی تجربہ ہوا ہے۔

ہم کس کس طریقہ سے اپنی عوام کو کس طرح لوٹ رہے ہیں۔ بقایا رقم چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو واپس مانگنا کوئی بھیک نہیں بلکہ یہ صارف کا حق ہے جو اسے ہر حال میں ملنا چاہیے۔ میں اپنے سب بھائیوں سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اپنے حق کو نہ چھوڑیں اور بقایا رقم ضرور وصول کریں چاہے وہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو۔ بیرون ممالک میں اگر آپ کو ایک پیسہ بھی واپس دینا ہو تو وہ سٹور والے کبھی چینج نہ ہونے کا بہانہ نہیں بناتے بلکہ پہلے آپ کو واپس کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں انگلینڈ میں خریداری کرتے وقت اپنے ملک کی پریکٹس پر پانچ پینی واپس لئے بغیر کاؤنٹر سے چلنے لگا تو کاؤنٹر والی خاتون نے آواز دے کر بلایا اور بقایا رقم کے سکے میرے ہاتھ میں تھمائے۔

اس سلسلے میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں اگر مقامی انتظامیہ ان پر عمل درآمد کروائے تو ہمارے کچھ بڑے بزنس والوں کا کعبہ درست ہو سکتا ہے۔

﴾ اس میں سب سے اہم رول بینکوں کا ہے۔ سب بینکوں کی تمام برانچیں اپنے پاس چھوٹے سکے رکھیں اور دکانداروں کو مطالبہ پر ان کودیں۔ سٹیٹ بینک کو اس سلسلے میں بینکوں کی برانچوں کی سہ ماہی چیکنگ کرنی چاہیے۔ چینج نہ رکھنے والی برانچوں کو بھاری جر مانے کیے جائیں اور ہر برانچ میں چھوٹے سکوں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

﴾ تمام دکاندار اپنے پاس چینج رکھیں اور ہر گاہک کو بقایا رقم کی ادائیگی کریں، یہ ان کا فرض بنتا ہے۔

﴾ سب لوگوں کو اپنی بقایا رقم کی ادائیگی کے لئے دکانداروں سے مطالبہ کرنا چاہیے۔ اور بقایا رقم ادا نہ کرنے والے دکانداروں کی انتظامیہ کو شکایت کرنی چاہیے

﴾ سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ ہر ضلع میں خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کنزیومر کورٹس قائم ہونی چاہیں۔ جہاں صارف کے شکایت درج کرانے کی صورت میں دس دن کے اندر اس کا فیصلہ کر کے دکانداروں کو ان کی غلطی پر بھاری جرمانہ کیا جانا چاہیے اور کنزیومر کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔ شکایت غلط ہونے کی صورت میں خریدار پر بھی بھاری جرمانہ کیا جائے تا کہ غلط شکایات درج کرانے کی حوصلہ شکنی ہو۔

ہم جو سب سے زیادہ حج و عمرہ کرنے والی قوم ہیں۔ شہروں میں شبینہ عبادتوں پر اور جمعہ پر مسجدوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی، اس کا ایماندار قوموں کی فہرست میں دور دور تک نام نہیں ہے۔ سب سے زیادہ عبادات کرنے والی قوم اگر اپنے ناپ تول کو صحیح کر لیں، لوگوں کا حق نہ کھائیں اور تھوڑی سی ایمانداری بھی اختیار کر لیں تو ایماندار قوموں کی لسٹ میں میں ہمارا بھی کوئی نمبر آ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS