ڈپریشن بھی ایک جان لیوا بیماری ہے
طب کے شعبے سے منسلک ہونے کی وجہ سے اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت آج کی نوجوان نسل کی ہے۔ لوگ آخر کیسے اس حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ کیا یہ ایک دن میں ہو جاتا ہے؟ نہیں۔ اس طرح کے کیسز کا جب جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر نارمل نظر آنے والا انسان بہت زیادہ بیمار تھا بس اس کی بیماری کا بر وقت اندازہ اور علاج نہ ہو سکا۔
اس میں قصور وار کون ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو اللہ نے بہت مضبوط پیدا کیا ہے وہ بہت بڑی تکلیفیں سہ لیتا ہے لیکن وہیں پہ بیماری کے علاج کا بھی حکم دیا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پہ کوئی کام نہیں کیا گیا نہ اس کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ آج بھی نفسیات کے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے کہ انھیں پاگل سمجھا جائے گا۔
اگر ہم اس کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ بہت ساری وجوہات میں سے کچھ؛ لاتعداد خواہشات، توقعات، جنون کی حد تک کے خواب اور ایک لا حاصل کی دوڑ کے ساتھ ساتھ عدم بردا شت ہیں۔ مذہب بنیادی طور پہ ان انسانی رویوں کے آگے بند باندھتا ہے اور اسے اصل سے جوڑے رکھتا ہے کیو نکہ کوئی بھی لا محدود چیز یا رویہ تباہی ہے۔ ہر انسان سب کچھ ایک جیسا کر سکتا ہے یہ سب سے بڑا دھوکہ اور جھوٹ ہے۔ ہر انسان اپنی محنت اور لگن سے بھی ایک حد تک کچھ حاصل کر سکتا ہے اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایک انتھک دوڑ کے سوا کچھ نہیں حاصل ہونا۔ آج سے دس یا بیس سال بعد کی اچھی زندگی کے لیے آج کی خوشی آج کے رشتے آج کے لمحات ضائع نہ کریں۔ محنت ضرور کریں اچھا ضرور چاہیں لیکن اپنی زندگی اپنی صحت اپنی فیملی کی قیمت پہ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مینٹل ہیلتھ کو بھی دیگر جسمانی بیماریوں کی طرح سمجھا جائے اور اس کا بروقت علاج کیا جائے۔ ایسے کسی بھی انسان کو پاس بٹھا کے حوصلہ دیں اس کی بات سنیں ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں۔ خاندانی نظام کو بحال رکھیں۔ جو لوگ اس وقت سے گزر رہے ہیں انہیں بھی چاہیے کہ اپنا دکھ درد بانٹیں۔ زندگی کی قیمت پہ کچھ بھی حاصل نہ کریں کیوں کہ کچھ بھی اس کی قیمت نہیں ہو سکتا۔ بڑی خوشی کی آس میں چھوٹے چھوٹے لمحات نہ گنوائیں۔ ڈپریشن کو بیماری سمجھیں پاگل پن نہیں۔


